امراللہ صالح کا نگراں صدر ہونے کا دعویٰ اور مزاحمت کا اعلان
- بدھ 18 / اگست / 2021
- 8790
افغانستان میں طالبان نے جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن نامعلوم مقام سے جاری ایک پیغام میں افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے کہا ہے کہ صدر غنی کے ملک سے چلے جانے کے بعد اب وہ نگراں افغان صدر ہیں اور یہ کہ ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘
کابل میں ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد منگل کو افغان طالبان ترجمان نے اپنی پہلی آن سکرین پریس کانفرنس میں عام معافی، خواتین کے حقوق اور نئی حکومت سازی پر بات کی تھی۔ اس پریس کانفرنس سے کچھ ہی دیر قبل افغان صدر اشرف غنی کے نائب امراللہ صالح نے اعلان کیا کہ افغانستان کے آئین کے مطابق صدر کی غیر موجودگی، استعفے یا موت کی صورت میں نائب صدر ملک کا نگراں صدر بن جاتا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں امراللہ صالح نے کہا کہ ’میں اس وقت ملک کے اندر موجود ہوں اور قانونی اعتبار سے نگراں صدر ہوں۔ میں تمام رہنماؤں سے رابطے میں ہوں تاکہ ان کی حمایت اور اتفاق رائے حاصل کر سکوں۔‘
اشرف غنی افغانستان چھوڑ چکے ہیں لیکن امراللہ صالح ان افغان رہنماؤں میں سے ہیں جو بظاہر طالبان کنٹرول کے خلاف مزاحمت کی تحریک چلانے کا اعلان کررہے ہیں اور مسلح طالبان جنگجوؤں کے ملک پر قبضے کو ’غیرقانونی‘ قرار دیتے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طالبان ملک کی تمام اہم سرحدی راستوں کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں اور صرف گنے چنے علاقے ایسے ہیں جہاں طالبان نے ابھی تک قبضے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس سے ایک دن پہلے فرانسیسی جریدے کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ’شیر پنجشیر‘ کے نام سے معروف افغان رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کے خلاف ’جنگ لڑنے کا اعلان‘ کیا ہے۔
احمد مسعود نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان سے باہر نہیں گئے ہیں اور پنجشیر میں اپنے لوگوں کے ساتھ ہیں۔
کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔
پنجشیر میں موجود ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امراللہ صالح اور احمد مسعود نے سابق شمالی اتحاد کے اہم کمانڈرز اور ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ رابطے کیے ہیں اور سب کو اپنے ساتھ مل کر جدوجہد شروع کرنے پر آمادہ بھی کیا ہے۔