طالبان لیڈر کی حامد کرزئی سے ملاقات، حکومت سازی پر تبادلہ خیال

  • بدھ 18 / اگست / 2021
  • 5040

طالبان کے اہم کمانڈر اور سینئر رہنما انس حقانی کی قیادت میں ایک وفد نے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طالبان کے ذمہ داران نے بدھ کو تصدیق کی کہ حکومت سازی کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔  مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ ان ملاقاتوں میں  شریک رہے ہیں۔ ملاقات سے متعلق معلومات دینے والے طالبان کے ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی اپیل کی اور مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

یاد رہے کہ حقانی نیٹ طالبان کا ایک اہم حصہ ہے جس کے کارندے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ہیں۔ اس گروپ پر حالیہ برسوں کے دوران افغانستان میں کئی بڑے حملوں کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ افغانستان سے غیرملکی شہریوں اور افغان باشندوں کے انخلا کا عمل جاری ہے جس میں مزید تیزی آ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مغربی سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ 2200 سے زیادہ سفارتی عملے کے علاوہ دیگر عام شہری افغانستان سے بذریعہ ملٹری فلائٹس روانہ ہو چکے ہیں۔ شہریوں کے انخلا میں عمل میں تیزی آئی ہے اور اب تک سفارتی عملے کے علاوہ ان افغان شہریوں کو بیرونِ ملک منتقل کیا جارہا ہے جنہوں نے دو دہائیوں کے دوران غیر ملکی سفارت خانوں کے لیے خدمات انجام دی تھیں۔

طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد لوگوں کے انخلا کی کوششوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں اور پرانے دشمنوں سے انتقام نہیں لیں گے اور اسلامی قانون کے دائرے میں خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

تاہم ہزاروں افغان جن میں سے کئی نے دو دہائیوں کے دوران امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کی مدد کی تھی، وہاں سے نکلنے کے لیے بے چین ہیں۔ مغربی سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ہم بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں، لاجسٹکس میں ابھی تک کوئی خرابی نہیں ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ شہری پروازیں کب دوبارہ شروع ہوں گی۔ ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے والی امریکی افواج کو پیر کے روز پروازیں روکنا پڑیں کیونکہ ہزاروں افغان پرواز کی تلاش میں رن ویز پر گھس گئے تھے۔ تاہم منگل کو صورتحال قابو میں آنے کے بعد پروازوں کا دوبارہ آغاز کردیا گیا ہے۔

طالبان کا کہنا تھا کہ ان کے رہنماؤں اور شریک بانیوں میں سے ایک ملا عبدالغنی برادر 10 سال سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ افغانستان واپس آئے ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر کو 2010 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی درخواست پر 2018 میں جیل سے رہا کیا گیا تاکہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ افغان لڑکیوں میں تعلیم کی سرگرم کارکن 23 سالہ پشتانہ درانی طالبان کے وعدوں کے بارے محتاط نظر آئیں۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ 'انہیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہیے، ابھی وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں'۔