خطے میں افغانستان پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں: شاہ محمود قریشی

  • بدھ 18 / اگست / 2021
  • 3760

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب وینگ یی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال پر علاقائی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے دیگر ممالک کا دورہ کریں گے۔

وزیر خارجہ کا یہ بیان حکومت کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ خطے کے سب ممالک مل کر کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ٹیلیفونک بات چیت میں وینگ یی کو اپنے آئندہ کے دوروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ مقاصد بالخصوص افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ چینی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ طالبان نے مسلسل چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی امید ظاہر کی ہے اور وہ افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں چین کی شرکت کے منتظر ہیں۔ ترجمان چینی حکومت نے طالبان سے 'اقتدار کی پر امن منتقلی' اور ایک 'کھلی اور جامع اسلامی حکومت' کے قیام کے لیے مذاکرات کرنے کے علاوہ افغانوں اور غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی بارے میں چینی ہم منصب کو آگاہ کیا اور افغانستان میں ایک جامع سیاسی تصفیے پر زور دیا جس کے لیے ان کا کہنا تھا کہ تمام افغانوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان اور خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس تناظر میں پاکستان نے افغان امن عمل کی پرعزم حمایت کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کو افغانستان سے مختلف ممالک کے سفارتی اور عالمی اداروں کے عملے، میڈیا اور دیگر افراد کے انخلا کے لیے پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور اہمیت کے امور پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی استوار رکھنے کی روایت موجود ہے۔

خیال رہے کہ طالبان نے متعدد صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے کے بعد اتوار کے روز کابل تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ ان کی اس برق رفتار پیش قدمی نے دنیا کو حیران کردیا تھا اور یہ خوف بھی  ہے کہ وہ 1996 سے 2001 کے دورِ حکومت کے جابرانہ احکامات دوبارہ نافذ کرسکتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے وزیر خارجہ کو کال کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کے لیے کوششوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں پاکستان امریکا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔