امریکی فوجی 11 ستمبر کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہ سکتے ہیں: بائیڈن

  • جمعرات 19 / اگست / 2021
  • 4630

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی فوجی افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان جنگجو ملک چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کو کابل ایئرپورٹ پہنچنے سے روک رہے ہیں جبکہ 15 ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ صدر بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ کابل میں بحران یقینی ہے۔ غیر ملکی حکومتیں اپنے شہریوں اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے افغان لوگوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔

واشنگٹن نے بھی تمام امریکی شہریوں بشمول 50 سے 65 ہزار افغانوں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افغان امریکی فوج کے ساتھ بطور مترجم کام کر رہے تھے۔

جب اے بی سی نیوز نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ افراتفری میں انخلا کے معاملے پر کوئی غلطی قبول کریں گے یا نہیں، تو اُنہوں نے کہا: ’نہیں۔‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کون سا راستہ ہے کہ افراتفری کے بغیر انخلا  ہوتا۔

جب اُن کی توجہ امریکی طیارے سے گرتے ہوئے افغانوں کی وائرل ہونے والی تصاویر کی جانب دلائی گئی تو وہ دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے بولے کہ وہ چار پانچ دن پرانی تصاویر ہیں۔ اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان پر طالبان کے سرعت کے ساتھ قبضے کی وجہ افغان حکومت اور افغان فوج کی ناکامی کو قرار دیا۔

صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ گزشتہ ماہ تو اُنہوں نے کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے امکان انتہائی کم ہے۔ تو اس پر اُنہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس رپورٹس یہ تھیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کا زیادہ امکان سال کے آخر تک تھا۔