طالبانی یلغار اور قبضے کا ذمہ دار کون؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 19 / اگست / 2021
- 6230
ابن خلدون نے اقوام کے عروج و زوال میں جس عصبیت کا مقدمہ پیش کیا تھا اگر اسے سچے عزم و ولولے کی نظر سے دیکھا جائے تو حکمرانی انہی کا حق ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔
خدا زندہ زندوں کا خدا ہے اگر کچھ کر گزرنے کی سچی ہمت و لگن نہیں ہے تو چلتی پھرتی لاکھوں کروڑوں لاشوں کی بھی کیا اہمیت ہو گی۔ اقبال نے کیا خواب کہا ہے کہ مجھے سزا کے لئے بھی نہیں قبول وہ آگ کہ جس کا شعلہ نہ ہو تندوسرکس و بیباک
15اگست 2021 کا دن افغانوں کی تاریخ میں کبھی نہ بھلایا جا سکے گا۔ جب کابل میں ایسا پرامن مگر خوف زدہ کر دینے والا انقلاب آیا جس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن سے لے کر عام افغان شہری تک سب حیران و پریشان ہیں کہ کیا سے کیا ہو گیا۔ حتیٰ کہ خود طالبانی قیادت حیرت میں گم ہے کہ بغیر کسی مزاحمت کے انہیں یوں پورے افغانستان کا اقتدار مل گیا بلکہ اقتدار پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آن گرا۔ اسے معجزہ کہیں یا تائید ایزدی، طالبانوں کی ہمت کہیں یا ان کی مخالف افغان حکومت کی بزدلی، جو امریکی بیساکھیوں پر کھڑی تھی اور بیساکھیاں ہٹتے ہی منہ کے بل گر پڑی۔
سچ تو یہ ہے کہ اس نامرادی کی اصل ذمہ دار امریکی انتظامیہ ہے جس نے دو دہائیوں کی طویل مدت میں اتنے بھاری اخراجات کرنے کے باوجود ایسا لاغر اور گھٹیا سیٹ اپ قائم کیا، ریت کی یہ دیوار وقت کا ایک طمانچہ سہنے کے قابل بھی نہ ہوئی۔ آپ کوئی بھی چیز ایجاد کرتے ہیں تو استعمال سے پہلے اس کی صلاحیت پرکھتے ہیں، یہاں آپ نے 88 ارب ڈالر خرچ کرتے ہوئے تین لاکھ کی فوج تیار کی اپنی امریکن فورسز کو ہٹاتے یا نکالتے ہوئے آپ نے اس نام نہاد افغان فورس کی جانچ پرکھ کیا کی؟ آپ اپنا یہ ماڈرن جمہوری سیٹ اپ قائم کرتے ہوئے کن لوگوں کو اوپر لائے؟ زندہ لاشوں کو؟ نہیں یہ جمہوریت کا فیضان ہے۔ کیا آپ کو نہیں معلوم تھا کہ جیسا دودھ یا کچی لسی تھی ویسی ہی بالائی نکلنی تھی۔ آج آپ کس منہ سے کہہ ہے ہیں کہ ا فغان قوم کی تشکیل نو اور افغانوں کی ذہنی آبیاری آپ کا مطمع نظر نہ تھی۔ اگر ایسی بات تھی تو پھر آپ لوگوں نے امریکی عوام کے خون پسینے کی کمائی کے ٹریلینز ڈالر آگ کی اس بھٹی میں کیوں جھونکے؟
اگرورلڈ ٹریڈ سنٹر میں تین ہزار بے گناہ امریکی مرے تھے تو آپ نے کس خوشی میں مزید اڑھائی ہزار امریکی نوجوانوں کی جانیں افغان سرزمین میں گنوائیں اور ان کی لاشیں اٹھائیں۔ اگر آپ نے اپنے اس مشن یا انسانی کاز کو منطقی انجام تک نہیں پہچانا تھا اور آپ کا مدعا صرف اتنا تھا کہ القاعدہ یا داعش یہاں سے امریکا پر حملہ آور نہ ہو سکیں تو پھر مکھیاں مارنے کیلئے اتنی ہیوی توپیں چلانے کی ضرورت کیا تھی؟ درویش نے بیس برس قبل انہی کالموں میں یہ تجویز دی تھی کہ امریکا اپنی فورسز افغانستان کی جلتی سرزمین پرہرگز نہ اتارے وہ اپنے ٹارگٹس کو محدود رکھتے ہوئے میزائلوں یا زیادہ سے زیادہ فضائی حملوں پر اکتفا کرے۔ اتنی ہیوی حساس اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ، بغیر اپنے شدید مالی و جانی نقصان کے، وہ ٹارگٹس بآسانی حاصل ہو سکتےتھے مگر آپ تو افغانوں کے کایا پلٹنے آئے تھے، انہیں تہذیبی بلندیوں پر لے جانے کا داعیہ رکھتے تھے۔ اسی لئے تو آئین سازی سے لے کر جمہوری سیٹ اپ کے قیام تک اور اندرونی و بیرونی تحفظ و سلامتی کیلئے اتنی بڑی تین لاکھ پر مشتمل افغان فورسز تک کیلیے آپ نے کیا کیا جتن نہیں کئے۔
اس کے بعد ذرا حوصلے سے کام لیتے ، جنیوئن قیادت کو بعض اوقات وسیع تر قومی و انسانی مفاد میں غیر پاپولر یا تلخ فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ مانا کہ امریکی عوام پرائی آگ میں اپنے بچوں اور ڈالروں کو نہیں جلانا چاہتےتھے مگر ایسا کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ چلیں ٹرمپ تو سستی شہرت کا بھوکا اور ہلکی ذہنیت کا مسخرہ تھا مگر آپ تو منجھے ہوئے جہاندیدہ سیاستدان تھے۔ ڈیمو کریٹس سے توہرگز یہ توقع نہ تھی کہ وہ سستی پاپولریٹی کیلئے اتنے بڑے امریکی و انسانی کاز سے یوں شتابی میں آنکھیں پھیر لیتے۔ یہ درست ہے کہ امریکی عوام کب تک سنگلاخ پہاڑوں کا بوجھ اٹھاتے مگر بوجھ اتارنے کا بھی کوئی اسلوب ہوتا ہے۔
آپ نے قطر میں امریکن فورسز کے انخلا کی خاطر طالبانوں سے جس طرح مذاکرات کئے اور خود اپنے قائم کردہ جمہوری افغان سیٹ اپ کو کلی طور پر نظر انداز کیا، درحقیقت یہ بذات خود طالبان کی جیت کا اعلان تھا۔ پاکستان کا یہ کہنا درست تھا کہ آپ لوگوں نے ہمیں بھی اعتماد میں نہ لیا۔ جو غریب بزدل چوہوں کی طرح دبکتے اور چھپتے ہوئے اندھیروں میں حملے کرتےتھے، آپ نے عین نصف النہار انہیں کاندھوں پر اٹھا لیا اس کے بعد وہ کس کی سنتے؟ انہوں نے آپے سے باہر ہونا ہی تھا۔ اشرف غنی میں کچھ بھی غیرت ہوتی تو اسی دن مستعفی ہو جاتے۔ آپ لوگوں نے امریکی عوام میں سستی شہرت کیلئے افغان قوم کیا، خود اپنا بھی بھرم نہیں رہنے دیا۔
اب امریکی عوام کو یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ بیس سال کے اس گناہ بے لذت میں ہمارے بچوں کے خون اور اتنے بھاری معاشی بوجھ کا حساب دو۔ کرزئی ، غنی، عبداللہ یا حکمت جیسے جن داناؤں اور سورماؤں کو آپ نے اوپر بٹھایا تھا اور تین لاکھ کی جو فورس جدید ترین ہتھیاروں کے ساتھ آپ نے تیار کی تھی، آج دنیا ان کاغذی شیروں کی کارکردگی پر حیرت زدہ ہے۔ پینٹاگان کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’ہم رہنمائی، تربیت اور وسائل فراہم کر سکتے ہیں لیکن جنگ کیلئے جذبہ خرید کر نہیں دے سکتے‘‘۔ آپ بھی درست کہتے ہیں کہ ’’اگر افغان فوج اپنے لئے لڑنے کو تیار نہیں ہے تو امریکی اس جنگ کیلئے اپنی جانیں کیوں دیں‘‘۔
یہ حقیقت دنیا بھر میں سوچنے کے لائق ہے کہ خدا بھی ان کی مدد نہیں کرتا جو خوداپنے لئے کچھ نہیں کرتے۔ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے، ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مناجات۔ آج بہت سے لوگ یہ توجیح کر رہے ہیں کہ خطے کی بدلی صورتحال میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی اپروچ میں بھی تبدیلی آ گئی ہے۔ بیس برس قبل ان کی جو بھی سوچ تھی۔ آج اس ایشیائی خطے میں ان کیلئے اسلامی یا طالبانی دہشت سے بڑھ کر اصل چیلنج چائنہ کی امڈتی طاقت اور خطے میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے پرامن ومستحکم افغانستان کے بالمقابل متشدد اور بھڑکتا ہوا طالبانی افغانستان، چائنہ اور اس کے دیگر ہمنوائوں کیلئے زیادہ سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ جبکہ امریکا کو اس سے اب ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا۔ ( جاری ہے)