طالبان نے کابل کی سیکیورٹی حقانی نیٹ ورک کے حوالے کر دی
- جمعہ 20 / اگست / 2021
- 5330
طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کی سیکیورٹی حقانی نیٹ ورک کے سینئیر اراکین کے حوالے کردی ہے قیاس ہے کہ اس گروہ کے القاعدہ سمیت غیر ملکی جہادی گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ کے نمائندے جیمی ڈیٹمر کی رپورٹ کے مطابق مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے انٹیلی جنس اہل کاروں کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو یہ ذمہ داری دینا پریشان کن امر ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان کا عمل ان کے وعدوں سے برعکس ہے۔ طالبان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ 1996 سے 2001 تک کے دور والے طرعز عمل کی بجائے اعتدال کا راستہ اپنائیں گے۔
انٹیلی جنس عہدے داروں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ القاعدہ کو دوبارہ افغانستان میں میں راستہ دیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ گزشتہ سال طالبان نے امریکی عہدیداروں سے قطر میں جو وعدے کئے تھے، ان کی پاسداری نہیں کی جائے گی۔ طالبان نے دوحہ میں وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین غیر ملکی جہادیوں کی آماجگاہ نہیں بننے دی جائے گی۔
جمعرات کو افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ، عبداللہ عبداللہ نے کابل میں خلیل الرحمٰن حقانی کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کی۔ مفاہمتی کونسل میں نامور عمائدین شامل ہیں جنہوں نے قطر کی بات چیت میں شرکت کی تھی۔ ۔ بعد ازاں عبداللہ نے اس بات کا اعلان کیا کہ خلیل الرحمٰن حقانی افغان دارالحکومت کی سیکیورٹی کی نگرانی کریں گے۔ اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ کابل کے شہریوں کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سخت محنت کی جائے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے فروری 2011 میں خلیل الرحمٰن حقانی کو دہشت گرد قرار دیا تھا، اور کہا تھا کہ ان کے بارے میں اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ ان کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرست میں بھی شامل ہے۔ عبداللہ عبداللہ اور خلیل الرحمٰن حقانی کی ملاقات سے چند ہی گھنٹے قبل طالبان نے افغانستان کی اسلامی امارات کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔
انٹیلی جنس کے ایک برطانوی عہدےدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 'یہ ایک پریشان کن حقیقت ہے کہ خلیل الرحمٰن حقانی کو کابل کی سیکیورٹی کا انچارج بنایا گیا ہے۔ حقانی اور القاعدہ کے آپس میں پرانے تعلقات ہیں، آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ دراصل وہ ایک ہی ہیں۔ اس لیے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ باہمی تعلقات منقطع کر دیں۔