طالبانی یلغار اور قبضے کا ذمہ دار کون؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 20 / اگست / 2021
- 7310
افغان سرزمین پر بیس برس تک امریکی قبضہ کے باوجود آج پورے ا فغانستان پر نظر ڈالتے ہیں تو سوائے طالبان کے کوئی ایک سیاسی پارٹی ، شخصیت یا طاقت نظر نہیں آتی، جس پر بھروسہ کرتے ہوئے مستقبل کے ماڈریٹ، پروگریسو، ڈیموکریٹ افغانستان کی امید باندھی جا سکے۔
یا اس سے بھی کہیں نیچے آ کر، کوئی ایسا پاپولر چہرہ دکھائی دے جو پورے قد کے ساتھ طالبانی یلغار کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل ہو۔ طالبان کے پچھلے دور حکمرانی میں اندرون ملک انہیں اچھی خاصی مزاحمت کا سامنا رہا۔ وادی پنج شیر میں ا حمد شاہ مسعود جیسے پرعزم لیڈر نے پیہم طالبانوں کا ناک میں دم کئے رکھا۔ علاوہ ازیں برہان الدین ربانی، مجددی، سیاف اور ان سے بھی بڑھ کر مولوی یونس خالص کی حزب اسلامی تھی، رشید دوستم طالبانوں کیلئےخوف کی ایک علامت تھا۔ اب جو اپنے بھاری بھرکم چمکیلے بیجز اور تمغوں سمیت راہ فرار اختیار کرچکا ہے۔ دیگر میں حکمت یار جیسے تھےجو آج چلے ہوئے کارتوس دکھتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کیلئے بھی سوچنے کی بات ہے کہ اصل پاپولر قیادت کو اگر فطری اسلوب میں پرورش نہ ہونے دیا جائے اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے نظم حکومت چلانے پر اکتفا کر لیا جائے تو کسی بھی بحرانی صورت میں ایسے ہی مناظر سامنے آتے ہیں جو آج کابل میں دکھائی دے رہے ہیں۔
طالبان کو آج 1996 سے کہیں بہتر حالات میں اقتدار ملا ہے۔ تب اگر انہیں زخموں سے اٹا ہوا اور کھنڈرات سے بھرا ہوا افغانستان ملا تھا تو اب کے عالمی سپر پاور کا تعمیر کردہ چمکتا افغانستان ان کے ہاتھ لگا ہے۔ ایسا انفراسٹرکچر طالبان شاید خوابوں میں ہی بنا سکتے تھے۔ یہی صورتحال جدید ترین اسلحے اور ہتھیاروں کی ہے۔ سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی ہے۔ امریکا نے تو جو اربوں ڈالرز یہاں لگائے سو لگائے، انڈین نے بھی کھربوں روپے کی یہاں انویسٹمنٹ کی ہے۔ مودی سرکار نے چار سو کے قریب ترقیاتی منصوبے یہاں شروع کر رکھے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کابل میں اقتدار طالبان کیلئے پھولوں کی سیج ہوگا۔ جو شدید چیلنجز دکھائی دے رہے ہیں ان سے شدید تر وہ ہیں جو ہنوز اوجھل ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ سر اٹھاتے چلے جائیں گے۔ انہوں نے اچھا کیا ہے جو آتے ہی فتح مکہ کی طرز پر عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ اب اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ قبائلی سوسائٹی کے تناظر میں تمام دھڑوں کو حصہ بقدر جثہ کے تناسب سے اپنے ساتھ شامل کرتے ہوئے وسیع البنیاد قومی حکومت کی طرف آگے بڑھیں۔
اس وقت سوائے جنگجوئی کے ان کی حالت ہر شعبے میں ہر حوالے سے پتلی ہے، کسی نوع کی کوئی تیاری نہیں۔ پچھلی حکومتوں میں جس کی جو حیثیت بھی تھی کسی الجھاؤ میں پڑے بغیر وہ ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات سے مستفید ہونے کیلئے وسعت کی گنجائش نکالیں۔ کیا ہی بہتر ہو وہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ متفقہ ترامیم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ بنیادی انسانی حقوق، خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے عالمی رائے عامہ کے خدشات کو دور کرنے کیلئے ملا ہیبت اللہ اور ملا عبدالغنی برادر کی زبانی یقین دہانیاں کروائی جائیں اور بالفعل انہیں منوایا اور تسلیم بھی کروا جائے۔
آج بہت سے لوگ ہمارے یہاں اس نوع کے دعوے کر رہے ہیں کہ 2021 کے طالبان 90 کی دہائی کے ملا عمر والے طالبان نہیں ہیں۔ وقت کے تھپیڑوں سے یہ بہت کچھ سیکھ کر اچھے خاصے سیانے اور عصری تقاضوں کو سمجھنے والے بن چکے ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان میں بہت سے خوش گماں اور راسخ العقیدہ لوگوں نے تو طالبان کی کامیابی پر خوشیوں کے شادیانے بجائے ہیں، ایسی رنگ آمیزی کی جا رہی ہے کہ الامان۔ وزارت عظمیٰ جیسی ذمہ داری پر فائز شخص بول رہا ہے کہ طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ جب اس ’’عالمی مدبر‘‘ کو اتنی بڑی بات کہتے ہوئے کوئی لاج نہیں آئی ہے تو ہمنواؤں نے بھی وہی کرنا تھا۔ جو منہ میں آیا شان نزول میں رطب اللسان ہیں۔ انڈیا کو تو تحفہ دیا گیا ہےاس کے یوم آزادی پر اور یہ کہ ’’اب طالبان کشمیر میں انڈیا کی ایسی تیسی کرتے ہوئے اسے بھی غلامی سے آزاد کروائیں گے‘‘۔
خدا کے بندو کچھ تو ہوش کے ناخن لو، حقائق کی اصلیت کو سمجھو۔ پہلے ہی آپ کی جذباتی انڈیا دشمنی کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بیڑہ غرق ہے۔ اب اس میں کون سے آخری کیل ٹھونکنا چاہتے ہو۔ ایک طرف آپ پوری دنیا کو کہہ رہے ہو کہ طالبان پر ہمارا اثر و رسوخ نہیں رہا، وہ ہماری نہیں مانتے۔ دوسری طرف خود کو یوں ان کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے آپ دنیا کو کیا پیغام پہنچا رہے ہو؟ اس وقت چین، روس اور ایران جیسے ہمسایہ ممالک بظاہر جتنے بھی خوش دکھائی دے رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکا کو ویتنام جیسی رسوائی و پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اندر سے سوائے پاکستان کے شاید کوئی بھی اس حوالے سے مطمئن اور پرجوش نہیں ہے۔ جہاں تک افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال ہے اس میں فی الوقت تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی رہے گی۔ لیکن آگے چل کر کچھ شرائط کے تحت ہمسایہ ممالک اس لئے اسے قبول کر سکتے ہیں تاکہ یہاں سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ ہو۔ جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی یہ نہیں چاہیں گے کہ یہ ملک، چین یا روس کی گود میں جا بیٹھے۔ قطر کے رول کو اس تناظر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
بہرحال اس کا انحصار طالبان کے اپنے طرز عمل پر ہوگا جس کی توقعات کم ہیں۔ یہاں ’’تبدیلی‘‘ کے دعویدار جس شادمانی کا اظہار کر رہے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ جو ’برگزیدہ گروہ‘ اپنے قومی پرچم کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور اسے ہٹا کر اس کی جگہ پارٹی پرچم کو لگانا چاہتے ہیں، جلال آباد میں جس طرح ملکی پرچم کیلئے تین افغان نوجوان، ان کی گولیوں سے مرے ہیں، ان سے آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کی توقعات وابستہ کرنے والے کیا احمقوں کی جنت کے باسی نہیں دکھتے؟ جن کی سرشت میں ڈنگ مارنا ہو وہ کسی خوشامد یا دودھ پلانے سے اپنی فطرت کیسے بدل سکتے ہیں؟ گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے اندر جو نئی نسل پروان چڑھی ہے، بلاشبہ وہ اس صورتحال کو قبول نہیں کرسکتی اور نہ جبر کے ماحول میں خوشی سے رہ سکتی ہے۔ یہ تقریباً ویتنام جیسی ہی صورتحال ہے کہ افغان نوجوان زبردستی جہازوں میں گھس کر اپنے ملک سے نکل جانا چاہتے ہیں۔
کابل ایئر پورٹ پر جہاز کے اندر نہ گھس سکنے والے اس کے ساتھ لٹک کر جس طرح گرے اور مرے ہیں، ان تین میں سے ایک کے متعلق بتایا جا رہا تھا کہ وہ ڈاکٹر تھا۔ اس مثال سے اس خوف اور نفرت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو فی الحقیقت پڑھے لکھےافغان نوجوانوں میں پائی جا رہی ہے ۔ جو لوگ اس امریکی پسپائی کا تقابل ویتنام میں امریکی شکست سے کر رہے ہیں، انہیں اس پہلو پر ضرور غور فرمانا چاہیے کہ آج اسی ویتنام کے لوگ امریکا کیلئے کیا تصورات رکھتے ہیں۔ اس وقت ویتنام کی سب سے زیادہ تجارت امریکا کے ساتھ ہی ہے اور ویتنامی نوجوان آج بھی امریکا پہنچنے کیلئے بے چین رہتے ہیں۔ (جاری ہے)