چین کا گوادر خودکش حملے کی تحقیقات کا مطالبہ
- ہفتہ 21 / اگست / 2021
- 3970
پاکستان میں چینی سفارتخانے نے گوادر میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے حملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان میں چینی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین دہشت گردی کے اس فعل کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے زخمیوں کے ساتھ مخلصانہ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان میں بے گناہ متاثرین سے گہری تعزیت کا اظہار بھی کرتا ہے۔
بیان کہا گیا کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر ہنگامی منصوبے کا آغاز کیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ زخمیوں کا مناسب علاج کرے، حملے کی مکمل تحقیقات کرے اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزائیں دے۔ اس دوران پاکستان میں تمام سطح پر متعلقہ محکموں کو لازمی طور پر مضبوط حفاظتی اقدامات اور اپ گریڈ شدہ سیکورٹی تعاون میکانزم کو نافذ کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
چینی سفارت خانے نے کہا کہ حالیہ وقتوں میں پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہوئی ہے، پے درپے کئی دہشت گردی کے حملے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں کئی چینی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ 'سفارت خانہ، پاکستان میں موجود چینی شہریوں کو چوکس رہنے، حفاظتی احتیاطی تدابیر کو مضبوط بنانے، غیر ضروری باہر نہ جانے اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی یاد دہانی کراتا ہے'۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے گوادر میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پروجیکٹ پر چینی اہلکاروں کو لے جانے والی ایک گاڑی پر خودکش حملہ آور نے حملہ کیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں ایک چینی زخمی، دو مقامی بچے ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد زخمیوں کو فوری طور ہر گوادر کے ہسپتال میں علاج کے لیے منتقل کردیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹر پر بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکے سے قریب ہی کھیلنے والے دو بچے جاں بحق ہوئے اور چین کا ایک شہری معمولی زخمی ہوا۔
خودکش دھماکا بلوچ وارڈ گوادر ایکسپریس وے کے قریب ہوا جبکہ تاحال کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔