ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان کی شکایات پرافغان طالبان نے کمیشن بنا دیا

  • اتوار 22 / اگست / 2021
  • 5010

افغان طالبان کی جانب سے افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کی اطلاعات ہیں۔ کمیشن تحریکِ طالبان پاکستان پر زور دے گا کہ وہ پاکستان کے خلاف حملے روک دیں۔ اور اہلِ خانہ کے ہمراہ سرحد پار منتقل ہو جائیں۔

اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے وائس آف امریکہ کو اس کمیشن سے متعلق بتایا کہ پاکستان کی شکایات کے پیشِ نظر تین رُکنی کمیشن طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی ہدایت پر حال ہی میں بنایا گیا ہے۔ کمیشن نے پاکستانی طالبان کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات حل کریں اور پاکستانی حکومت کی جانب سے عام معافی کے عوض اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان چلے جائیں۔

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ البتہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ملک چھوڑ جانے والے اشرف غنی کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

پاکستان اور افغان طالبان نے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔ جمعے کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان تحریکِ طالبان پاکستان کا معاملہ افغان طالبان کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف کارروائیوں کا معاملہ سابقہ افغان حکومت کے سامنے بھی رکھتے رہے ہیں اور اب مستقبل کی افغان حکومت پر بھی زور دیں گے کہ وہ یقینی بنائے کہ ٹی ٹی پی پاکستان پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کرے۔

پیش رفت سے آگاہ ایک ذریعے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ پاکستان، ٹی ٹی پی کے مطالبات تسلیم کر لے گا۔ اُن کے بقول پاکستانی قانون کے مطابق عام معافی ہتھیار ڈال کر پاکستان کے خلاف آئندہ کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہانی پر مل سکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے تحریکِ طالبان پاکستان کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں طے پانے والے دوحہ امن معاہدے میں بھی افغان طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔