طالبان سے مذاکرات پر راضی ہیں مگر آخری آدمی تک دفاع کریں گے: احمد مسعود
- اتوار 22 / اگست / 2021
- 5000
شمالی افعانستان میں طالبان کے خلاف برسرِ پیکار گروپ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات پر راضی ہیں تاہم لمبے عرصے تک مزاحمت کے لیے بھی تیار ہیں۔
قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور سیاستدان احمد مسعود نے کابل کے شمال مشرق میں واقع پنجشیر وادی میں تقریباً 9000 جنگجوؤں کو جمع کر لیا ہے۔
ایک علیحدہ انٹرویو میں احمد مسعود نے لندن کے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مذاکرات کے ذریعے طالبان کے ساتھ ایک جامع حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن جو چیز ہمیں ناقابل قبول ہے وہ انتہا پسندی کی خصوصیات والی افغان حکومت کی تشکیل ہے، جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بنے گی۔
اس سے قبل بی بی سی فارسی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ہم پنجشیر کا مسئلہ طاقت یا مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔
کابل کے شمال میں ہندوکش کی بلند چوٹیوں میں گھری ہوئی پنجشیر وادی ایک طویل عرصے سے مزاحمت کے مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔ 2001 میں اپنی موت تک افغان رہنما احمد شاہ مسعود نے سوویت افغان جنگ اور طالبان کے ساتھ خانہ جنگی کے دوران اس کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔ یہ ملک کا واحد حصہ ہے جس کی طالبان کے کنٹرول سے باہر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں پر طالبان تیزی سے قبضہ کر چکے ہیں۔
ملک کے نائب صدر امراللہ صالح، جن کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران مغربی حمایت یافتہ حکومتوں کی جوڑ توڑ میں اہم کردار تھا اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود دونوں نے اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہے۔