ایرانی عوام اور اسلامی انقلاب؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 22 / اگست / 2021
- 7140
11فروری 1979 کے روز امام خمینی کی قیادت میں جو انقلاب برپا ہوا اس سے ایرانی قوم ہی کو نہیں دنیا بھر کی دبی ہوئی آزادی پسند جمہوریت نواز اقوام اور تحریکوں کو بھی بلند و بانگ امیدیں تھیں کہ ڈھائی ہزار سالہ شاہی جبرو استبداد کے خلاف پسے ہوئے عوام کی طویل جدوجہد سے یہ انقلاب آیا ہے تو اب انسانی حقوق ، جمہوریت اور آزادیوں کا بول بالا ہو گا۔
ایران پورے خطے کیلئے باعث رحمت انسان نواز طاقت بن کر ابھرے گا وہ خواب جو شاعر مشرق اقبال لاہوری نے ایران کے متعلق دہائیوں پہلے دیکھ رکھا تھا شرمندہ تعبیر ہو گا۔ تہران ہو اگر عالمِ مشرق کا جنیوا شاید کوئی ارض کی تقدیر بدل جائے۔ سمجھا یہ جا رہا تھا کہ جس طرح ہر تاریک رات کے بعد سویرا ہوتا ہے اسی طرح شاہی جبر کی رخصتی کےساتھ ہی جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کی روشنی نہ صرف پورے ایران میں پھیل جائے گی بلکہ گردو نواح کےتمام ہمسایہ ممالک بھی اس کے سحرسے جگمگا اٹھیں گے۔ ان سب کی ازخود سنی جائے گی جب خمینی صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ ہم اپنے انقلاب کو دیگر ممالک میں برآمد کریں گے تو اس کے معنی یہی سمجھے جا رہےتھے یوں روشن خیال آزادی پسند ایرانی عوام، شوشلسٹ تودہ پارٹی سے روایتی ملاؤں تک شریعت مداری سے آیت اللہ منتظری تک گویا تمام ایرانی قوم یک جان تھی ۔ ان میں ڈاکٹر علی شریعتی کے منطقی استدلال پر فلسفیانہ مباحث اٹھانے والے بھی تھے اور ابو الحسن بنی صدر کے معاشی ایجنڈے کو خوشحالی کی کسوٹی قرار دینے والے بھی کم نہ تھے۔ قطب زادہ اور ابراہیم یزدی جیسے داناؤں اور مدبروں کی بھی کمی نہ تھی ۔
ہمسائیگی میں پاپولیریٹی کا یہ عالم تھا کہ ہر کوئی انقلاب کو سر آنکھوں پر بٹھانے کیلئے بے چین تھا۔ چاہے اندر سے کیسے ہی خدشات کیوں نہ تھے کم از کم تمام ہمسایوں کے رویے دیدنی تھے اور تو اور وہابی سعودی عرب سے امام کعبہ عبداللہ ابن السبیل بنفس نفیس امام انقلاب کو مبارکباد دینے عازم تہران ہوئے۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ امام عبداللہ ابن سبیل سعودی شاہ کی مرضی و رضامندی کے بغیر اتنا بڑا اقدام اٹھا سکتے۔ ہمارے صوبے بلوچستان کا لیڈر نواب اکبر بگتی اپنی ہمسائیگی میں اس نوع کے پیغامات بھیج رہا تھا کہ انقلابی قیادت کو تہران میں لینڈ کرتے ہوئے اگر کوئی مسائل و تحفظات ہوں تو ہماری سرزمین اور کوئٹہ کا ایئرپورٹ حاضر ہے۔ کویت، امارات اور خلیجی ریاستوں کا رویہ بھی دوستانہ تھا۔ سنی عراقی صدر صدام حسین کو بھی تب تک شکایت نہ تھی ۔ دنیا بھر کے ملاؤں اور کمیونسٹوں کو تو بلند بانگ امیدیں تھیں ہی۔ مزے کی بات ہے کہ وہ مغربی جمہورتیں بالخصوص امریکہ جن کی حمایت وپشت پناہی سے رضا شاہ پہلوی کی حکمرانی قائم رہی تھی بادشاہت کے بالمقابل عوامی احساسات اور تمناؤں کو خوش آمدید کہنا چاہ رہے تھے۔ تہران میں امریکی سفیر کی اس زمانے میں ارسال کردہ رپورٹس پڑھیے ان سب کے ضمیر انہیں مجبور کر رہے تھے کہ وہ ایرانی عوام کی تمناؤں کا احترام کریں۔ مغرب کی تو سائیکی ہی یہ ہے کہ جبر کے بالمقابل عوامی حقوق اور آزادیوں کو احترام بخشا جائے بشرطیکہ دوسرے بڑے جبر کے خدشات نہ ہوں ۔
افسوس اس محبت بھری فضا کو ایرانی انقلابی قیادت سمجھنے سے قاصر رہی ان کے پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ نہ جانے کون کون سی ماورائی وخلائی قوتیں ان کے اندر حلول کر چکی ہیں ۔ قومی سطح پر ایک بڑے عوامی معافی نامے کے ذریعے قومی وحدت و ایکتا کی آواز بلند کرتے ہوئے سب کوساتھ جوڑنے اور آگے بڑھنے کی بجائے انہوں نے احتساب کے نام پر انتقام کی آگ ایسی بھڑکا ئی جس نے تمامتر بلند بانگ امیدوں اور تمناؤں کو جلا کر بھسم کر ڈالا۔ آیت اللہ خلخالی کی قیادت میں جسٹس کا بیدردی سے جو خون ہوا۔ موت کے فرشتوں یا سوداگروں میں چھوٹے لیول پر نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی بھی ایک تھے۔ شیعہ مذہب اور فقہ جعفری میں جو فراخدلی و رواداری تھی اس کا بھی قطعی لحاظ نہیں کیا گیا۔ شدت پسندی وبنیاد پرستی کے خلاف شیعہ فرقے کو امید بھری نظروں سے دیکھا جاتا تھا لیکن ولایت فقیہ کی گدی پر براجمان ہونے کے خواہش مندوں نے ان تمام روشن خیالوں کے قلوب و ازدہان پر ہی نہیں چہروں پر بھی منافرتوں کی کالک مل دی۔ یوں چن چن کر دشمنیاں مول لی گئیں۔
کمیونسٹ طبقات اور سیکولر مغرب تو رہے ایک طرف انہوں نےتو خالص اپنے مذہبیوں کو بھی نہیں بخشا امریکی سفارت کاروں کو طویل 444دن یرغمال بنائے رکھنے سے لے کر شریعت مدار بنی صدر، قطب زادہ اور بالآخر منتظری تک کو نہ بخشا گیا ۔ ظلم و استبداد کی وہ نئی تاریخ رقم کی کہ لوگ رضا شاہ پہلوی کے استبداد کو بھول گئے۔ اب وہی شاہ ایرانی عوام کو ایک مظلوم مسیحا دکھائی دینے لگا جس کے خلاف خواہ مخواہ ایک نفرت آمیزپروپیگنڈہ پھیلایا گیا۔ درویش جیسے شاہی استبداد کو معاف نہ کرنے والے بھی چلا اٹھے کہ ایرانی انقلاب نے ایرانی عوام کو کیا دیا ہے سوائے اس کے کہ وہ بیچارے ایک گڑھے سے نکال کر اس سے کہیں بڑے گڑھے میں گرا دیے گئے ہیں۔ جنتا جتنا تب دکھی تھی آج اس سے کہیں زیادہ روتی ہے۔ شاہ کے ایران میں اگر خامیاں تھیں تو بہت ساری خوبیاں بھی تھیں۔ اتنی مہنگائی اور بھوک ننگ جو آج ایرانی عوام کا مقدر بنا دی گئی ہے شاہ کے دور میں ایسی صورتحال نہ تھی۔ آج کے ایرانی سماج میں جو جبر اور گھٹن ہے اس کا شاہ کے دور سے تقابل ہی نہیں بنتا۔ شاہ کا جبر اپنی حکمرانی تک محدود تھا، تمہارا جبر زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے۔ سر سے پاؤں تک گھٹن اور جبر کے سواہے کیا؟
مزید پوچھنا ہے تو نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی سے پوچھ لیں۔ صدام حسین کے ساتھ بے مقصد اور لاحاصل جنگ میں ایرانی عوام کے وسائل بے دردی سے جلا کر بھسم کر دیے گئے اور پھر اس کا حاصل حصول کیا ہوا۔ آخر کار آپ نے بقول امام خمینی کے، زہر کے یہ گھونٹ پینے ہی تھے تو ایسی چھیڑخانی کا حصہ بنے ہی کیوں تھے جس کا انجام ایسا بھیانک ہوا؟ کیا آپ نے اپنے کسی ہمسائے کےساتھ بنا کر رکھی ؟ اس بیالیس سالہ انقلاب کی اچیومنٹ کیا ہے؟ یہ کہ آپ نے اپنے عوام کو بھوک ننگ کے ساتھ جبرواستبداد کے تحائف بخشے اور اقوام عالم میں شدت پسندی اور دہشت گردی کا بارود بانٹا۔ آپ کے جمہوری ڈرامے کی قلعی تو اس دن کھل گئی تھی جب آپ نے مہدی بازرگان جیسے قومی قد کاٹھ کے سیاست دان کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ رہتی کسر ولایت فقیہ کے نظریہ جبر نے پوری کر دی ہے۔
قوم روتی ہے تو روتی رہے آپ کو اس سے کیا ۔ یہ ہے ہمارے اسلامی ایرانی انقلاب کا روشن چہرہ، اپنے شیعہ دوست حسن عباس سے کہتا رہا ہوں کہ آپ کا یہ انقلاب سوویت انقلاب جتنی عمر نہیں پاسکے گا بشرطیکہ کوئی جمہوری طاقت خم ٹھونک کر اس طرح اس کے پیچھے پڑ جائے جس طرح سوویت انقلاب کے خلاف کھڑی ہوئی تھی۔ آج نہیں تو کل کوئی نہ کوئی بڑا دھماکہ ہو کر رہنا ہے۔ شاہی جبر کی تاریکی کے بعد ایرانی عوام پر تاریک تر رات تھوپ دی گئی ہے۔ اگرچہ ایرانی عوام کی جدت پسندی، روشن خیالی اور شعوری صلاحیتیں ابدی طور پر نہیں کچلی جا سکیں۔ آج نہیں تو کل عظیم ایرانی عوام کیلئے آزادی کی سحر طلوع ہو کر رہے گی جس سے استبداد کے تما م اندھیرے کافور ہو جائیں گے۔