زندگی اور موت کی پہیلیاں

پچاس برس پردیس میں گزارنے کے بعد آدمی اپنے دیس کا نہیں رہتا۔ ہر چند کہ وہ اپنے آبائی وطن کی یادوں کو سینے سے لگائے لگائے رکھتا ہے ، اپنی مادرری زبان کے اثاثے اور ادب  سے خود کو جُدا نہیں کرتا مگر وہ پھر بھی  وہ اپنی رنگت اور اپنی زبان کی وجہ سے اجنبی ہی رہتا ہے۔ یہ اجنبیت ہمارا مقدر تھی اور ہے۔ 

ہم لوگ نصف صدی سے صرف کاغذوں میں ہی پاکستانی ہیں  اور کاغذوں ہی میں نارویجین۔ کاغذ کی لکشمن ریکھا پار کر کے  نہ تو ہم اپنی اوریجنل وطنیت بحال کر سکے اور نہ ہی  نارویجن بن سکے۔ ہم  تارکینِ وطن ہمیشہ دو دریاؤں کے درمیان  دوابہ  غیر میں رہے اور اب ہم نے اپنے قبرستان بھی یہیں تعمیر کر لیے ہیں۔16 اگست کی شام میرا ایک دیرینہ دوست خالد حسین تھتھال اچانک زندگی کو خیر باد کہہ گیا۔ ہماری شناسائی  1984 میں اس  وقت ہوئی جب  مقدر نے مجھے ناروے لا پھینکا۔  پھر اوسلو کے ایک سیکنڈری سکول میں خالد میں اور میں چند برس تک رفقائے کار رہے جہاں ارشد بٹ بھی تدریس کے پیشے سے منسلک تھے۔ 

خالد  مزاجاً پکا پنجابی تھا جسے اپنے پنجابی ہونے پر ناز تھا۔ جب وہ  باتیں کرتا تو اس کے لہجے میں چناب کی لہروں کا  زور اور  تنتنا ہوتا تھا۔ وہ پنجابی زبان پر پورا عبور رکھتا تھا  اور اس کی نظمیں ہمیشہ  پنجابی بود و باش اور کلچر کی عکاس ہوتی تھیں۔ وہ پنجابی کلچر کو  تحقیق کی  آنکھ سے دیکھتا ا اور اس  کی گرہیں کھول کر اس کے  انت تک پہنچنے کی کوشش کرتا تھا۔  خالد سے ہر روز  تالیم و تپاک کا تبادلہ ہوتا تھا اور اس نے مجھے اپنی نئی کتاب کا مسودہ بھجوایا تھا  اور کہا تھا کہ میں اس کا پیش لفظ لکھوں لیکن  اپنے حکم کی تعمیل سے پہلے ہی وہ ہم سب سے جدا ہو کر تہِ خاک چلا گیا۔

خالد کے رخصت ہو جانے کے بعد  سے میں  زندگی اور موت  کی  کیفیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔   پہلا سوال جس نے مجھے  الجھائے رکھا یہ تھا آخر یہ  زندگی ہے کیا؟یہ بچپن سے بڑھاپے  تک کا غیر شعوری سفر ہے کیونکہ تمام جاندار  ایک غیر شعوری کیفیت میں معدوم ہو جاتے ہیں  جب کہ شعوری نشوونما صرف انسانوں کا خاصہ ہے ، لیکن پھر بھی بہت کم لوگ  اس ارتقائی عمل سے گزر کر انسان کہلانے کے حقدار ٹھہرتے ہیں ۔  ارتقائی نشونما کا مطلب یہ ہے کہ  زندگی کے اصول کے مطابق لمحہ بہ لمحہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں سفر کیا جائے۔  انور شعور نے اس کیفیت کو اس طرح بیان کیا ہے:

زینہ  ذات کا سفر اور رات

دھیرے دھیرے اُتر رہا ہوں میں

آدمی اپنی ذات کی اتھاہ گہرائیوں میں  جتنا نیچے  اترتا ہے،  وہ زندگی سے اُتنا ہی قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔  یہ موت سے دوری  کا سفر ہے۔ لافانیت کا سفر ہے اور ایک لمحہ آتا ہے  جب آپ پر افشا ہوتا ہے کہ موت لباسِ خاک بدلنے کا نام ہے۔  طبقہ بدلنے کا نام ہے۔ طبقہ ء  ء ارفاں میں شامل ہونے کا نام ہے ۔ لیکن دنیا میں انسانی صورت میں جنم لینا  ایک چانس یا موقعہ ہوتا ہے  کہ آدمی مٹی کے ڈھیر اور پانیوں  کے ذخیروں میں  زندگی نام کا موتی نکال پر اپنے سینے پر تمغے کی طرح سجا سکے۔  اقبال اس کی طرف یوں اشارہ کرتے ہیں:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

مگر من میں ڈوبنے کی یہ کیفیت ہے کیا؟

یہ بات بالکل واضح ہے کہ کھانا پینا، سانس لینا اور عمر رسیدہ ہوتے چلے جانا  اور بالآخر  قبر یا چتا کا نوالہ بن جانا  زندگی نہیں ہے۔ یہ  مہد سے لحد تک ، پنگھوڑے سے شمشان گھاٹ  تک موت کا عمل ہے اور ہمارے ملکوں میں کروڑوں لوگ  ساٹھ، ستّر اور اسی برس تک  بتدریج موت کے مراحل طے کرتے رہتے ہیں۔  ہمارے ایک دوست منیر نیازی کو شاید اس بات  اور کیفیت کا گیان تھا  کہ انہوں نے کہا تھا کہ کچھ لوگ چالیس برس کی عمر میں مرجاتے ہیں  لیکن ساٹھ یا ستر کی عمر میں دفنائے جاتے ہیں۔  اور بیشتر لوگ اسی نہج پر گلی کوچوں، ریستورانوں ، کرائے کے یا اپنے گھروں میں رائیگاں ہوتے چلے جاتے ہیں۔  غالب نے اپنے ایک کشف میں اس کیفیت کو ایک دوسرے پیتائے میں بیان کیا ہے:

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں

جاں داہ  ہوائے سرِ رہ گزار تھا

لیکن  میرا مسئلہ یہ سمجھنا ہے کہ آخر موت ہے کیا؟ بعض صوفیا کہتے ہیں کہ موت سرزد ہو ہی نہیں سکتی۔  اس ضمن میں بلھے شاہ کا بیان سرِ فہرست ہے:

بُلھے شاہ اسیں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور

اقبال نے اسی نکتے کو ایک دوسرے انداز اور پیرائے میں بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں:

یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسنؑ سے

کہ جاں مرتی نہیں مرگِ بدن سے

چمک سورج میں کیا باقی رہے گی

اگر بیزار ہو اپنی کرن سے

چنانچہ آدمی جتنا اپنی ذات کی گہرائی میں ہوتا ہے اسی  نسبت سے اُس کی قامت ہوتی ہے۔  یہ توازن کا اصول ہے  کہ جتنی کسی کی باطنی اوقات ہے اُتنی ہی ظاہری اوقات ہوگی۔  اور باطنی اوقات کے بغیر ظاہری اوقات ایک نمائش  اور دکھاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ بیشتر لوگ اداکار ہوتے ہیں، جیسے غالب کہتا ہے:

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کُھلا

لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ میرا دوست اور رفیقِ کار خالد حسین تھتھال  جتنا اندر تھا اتنا ہی باہر تھا۔ اُس کی جڑیں پنجاب کی مٹی میں گہری تھیں اور اس نے اپنی شاعری اور تحقیق سے ہی نہیں اپنے دوستی اور محبت کے رویوں سے بھی یہ ثابت کیا ہے  وہ  صرف پنجاب  سے محبت ہی نہیں کرتا بلکہ اپنی ذات میں پنجاب  کی محبت کا جیتا جاگتا شہ کار ہے۔ وہ اپنی کتابوں اپنی  شاعری اور تحقیق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

میں قربان تنھاں تھیں باہو

قبر جیہناندی جیوے ہو

خالد ہمارے درمیان اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ رہے گا۔  خالد حسین تھتھال تمہاری زندگی کی کتاب سب کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ الوداع دوست الوداع!!!