طالبان نے وادی پنج شیر کا محاصرہ کرلیا
- سوموار 23 / اگست / 2021
- 3810
طالبان نے افغانستان میں کابل کے شمال میں واقع وادی پنج شیر پر بھی قبضہ کرنے کے لیے علاقے کا محاصرہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق طالبان کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغانستان کے شمال میں تشکیل پانے والا قومی مزاحمتی فرنٹ کے زیر کنٹرول وادی پنج شیر کا گھیراؤ کرلیا ہے اور وہ ہمارے محاصرے میں ہیں۔
دوسری جانب مزاحمتی گروپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان علاقے میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی پنج شیر موضوع بحث بنایا ہوا ہے۔ این آر ایف کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی نظاری کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ہزاروں لوگ موجود ہیں جو طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم طالبان کے ساتھ پرامن مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہم کسی قسم کی جارحیت کو قبول نہیں کریں گے۔
افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح بھی پنج شیر میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے وادی کے داخلی راستے میں رکاوٹیں ڈال دی ہیں۔ کابل کے شمال میں ہندوکش کے بلند پہاڑوں کے بیچ میں واقع وادی پنج شیر ماضی میں طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت رہی ہے۔ احمد شاہ مسعود نے سوویت یونین کے خلاف جنگ اور اس کے بعد 2001 میں قتل ہونے تک طالبان اور دیگر فورسز سے محفوظ رکھا۔
طالبان نے افغانستان کی وادی پنج شیر کے سوا دیگر تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنج شیر، طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری مرکز ہے جہاں مخالف جنگجو جمع ہوگئے ہیں۔
پنج شیر میں سابق سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھنے جانے والے احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود نے این آر ایف تشکیل دی ہے اور انہوں نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے سوویت یونین کا مقابلہ کیا تھا اور ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔
احمد مسعود نے کہا کہ میں اپنے زیر کنٹرول علاقے کسی صورت طالبان کے حوالے نہیں کروں گا۔ ادھر این آر ایف کے رہنما علی نظاری نے کہا کہ پنج شیر میں ملک بھر سے جنگجوؤں نے مقامی مزاحمت کاروں میں شمولیت اختیار کی ہے جو مقامی سطح پر تربیت یافتہ ہیں۔ طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں فورسز تیار ہیں لیکن جنگ اور تنازع سے قبل خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ہم مذاکرات کو ترجیح دیں گے۔