افغان طالبان کا چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 23 / اگست / 2021
- 6220
افغان طالبان کی افغانستان میں سیاسی برتری کے بعد سب سے بڑا سوال مستقبل کے افغانستان پر ہے۔ کیونکہ طالبان کی سیاسی برتری نے ان کے لیے بڑی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں کئی طرح کے خدشات، خوف اور تحفظات پائے جاتے ہیں۔
اس کی بڑی وجہ طالبان حکومت کا ماضی ہے جس میں تشدد، خوف، ذبردستی غالب تھی۔یہ ہی وجہ ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضہ کے بعد ہمیں وہاں افراتفری، بے یقینی کی صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کابل پر قبضہ کا عمل بہت ہی پرامن اور بغیر کسی تشدد کے دیکھنے کو ملا ہو جو واقعی حیران کن ہے۔طالبان کا سب سے بڑا چیلنج افغانستان کے مختلف فریقین کے ساتھ مل کر اپنی سیاسی ساکھ کو قائم کرنا ہے۔طالبان کو یہ واقعی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کے طالبان سے مختلف ہیں اور ان کی سوچ و فکر کو ماضی کے طالبان کے ساتھ جوڑ کر نہ دیکھاجائے۔
اسی نکتہ کو بنیا دبنا کر افغان طالبان نے جو سیاسی پالیسی جاری کی ہے وہ واقعی قابل غور بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ اول افغانستان میں مکمل طور پر ایمنسٹی کا اعلان کیا گیا ہے یعنی تمام مخالفین کے لیے عام معافی ہوگی او رکسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا۔ دوئم عورتو ں، اقلیتوں سمیت ہر فریق کے لیے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے گا، ہرفرد کو مذہبی آزادی ہوگی، عورتوں کو بغیر کسی ڈر و خوف کے کام کرنے، سیاست کرنے، باہر نکلنے او ر مرد کے ساتھ کام کرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔ سوئم جلد عبوری حکومت کا فیصلہ ہوگا،قابل قبول قیادت دی جائے گی جس میں مخالفین کو بھی حکومتی ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا یعنی یہ تمام فریقین پر مشتمل حکومت ہوگی۔ چہارم تمام دنیا کو تعلقات استوار کرنے کی دعوت دیتے ہیں او رکسی بھی اہم بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے۔پنجم افغان سرزمین کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ششم میڈیا کو آزادی دی جائے گی اور حکومت پر تنقید کا بھی حق ہوگا۔ہفتم ہمارا تحریک طالبان یا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کی کسی بھی سطح پر سیاسی سرپرستی کی جائے گی۔
طالبان کی قیادت دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم دنیا کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں او رہمیں اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ دنیا کو ساتھ ملائے بغیر ہم افغانستان کو امن اورترقی کی جانب نہیں لے جاسکیں گے۔ طالبا ن کی قیادت نے اعتراف کیا ہے کہ ماضی میں ان سے بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہم نے ماضی کی ان غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے نکل کر ہر سطح پر ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو ہمیں افغانستان سمیت دنیا کے ساتھ جوڑنے میں مدد فراہم کرسکے۔حالیہ دنوں میں افغان طالبان کا مندر اور گرجا گھر جاکر اقلیتوں کو تحفظ دینے، ہسپتالوں میں جاکر لیڈی ڈاکٹروں کو ساتھ لے کر چلنے اور میڈیا میں کام کرنے والی عورتوں کو مکمل طور پر تحفظ دینے کا جو تاثر قائم کیا ہے وہ بھی امیدکا پہلو ہے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا طالبان کا یہ نیا سیاسی چہرہ مستقبل بنیادوں پر قائم رہے گا ا ور یہ چہرہ مصنوعی ثابت نہیں ہوگا۔کچھ دن قبل تک طالبا ن قیادت تن تنہا حکومت بنانا چاہتی تھی او ران کے بقول ہم کسی عبوری سیٹ اپ کوہی قبول نہیں کریں گے۔لیکن اب ان کی جانب سے تمام فریقین پر مشتمل حکومت کی یقین دہانی بھی اچھا قدم ہے جو نہ صرف مستحکم عبوری سیٹ اپ یا حکومت بنانے او راس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
طالبان کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے ماضی کی پالیسیوں کے باعث دنیا ان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ان کے ہر اقدام کی کڑی نگرانی بھی کی جارہی ہے او ران کی حالیہ پالیسیوں کو بنیاد بنا کر ہی ان کی قبولیت کا فیصلہ بھی سامنے آئے گا۔طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد افغان عوام واقعی اپنے ملک میں بھی اور علاقائی سطح پر بھی امن اور ترقی کے خواہش مند ہیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ جب طالبان کی قیادت خود کو زیادہ ذمہ داراور معاملات کو تدبر اور فہم فراست، باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنا ایجنڈا طاقت کے زور پر مسلط کرنے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلیں۔طالبان کو اس بات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ اس وقت ان کی سیاسی برتری یا طاقت بہت سے لوگوں یا ممالک کے لیے قابل قبول نہیں۔ ایک طرف طالبان مخالف قوتیں ہیں تو دوسری طرف عملی طور پر بھارت کا اپنا ایجنڈا بھی معاملات کو سلجھانے کی بجائے اس میں بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ مستحکم افغانستان بھارت کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے طالبان کو مخالفین کے بارے میں ردعمل کی سیاست کی بجائے ٹھہراؤکی پالیسی درکار ہے او ران کو اس معاملے میں زیادہ سوچ، فکر او رحکمت عملی درکار ہوگی کہ کون وہ قوتیں ہیں جو افغانستان کو غیر مستحکم رکھنا چاہتی ہیں۔
اسی طرح طالبان کا یہ چیلنج بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے جہاں داخلی محاذ پر مسائل ہیں وہیں اسے اپنے اندر کے استحکام یعنی طالبان کے اپنے اندر بھی اتحاد کو قائم رکھنا ہے۔ کیونکہ اگر یہاں طالبان میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ ان کی کمزور حکومت کی صورت میں سامنے آئے گا۔طالبان کو عبوری سیٹ اپ میں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر بھی چلنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں انتخابات کی مدد سے عوام کی منتخب حکومت کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ ہی سوچ اور فکر طالبان کو دنیا میں قبولیت کے طور پر پیش کرنے کا سبب بھی بن سکے گی۔کیونکہ افغانستان مین لوگوں میں ڈر اور خوف موجود ہے اسے محض لفظوں یا سیاسی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی طور پر لوگوں میں یہ باو رکروانا ہوگا کہ وہ سب کا تحفظ چاہتے ہیں۔
اسی طرح بڑا چیلنج عبوری سیٹ اپ کا ہے۔ مسئلہ فوری طور پر موجود سیاسی اور آئینی فریم ورک میں رہ کر معاملات کو حل کرنا ہے۔ طالبان اگر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ جمہوریت کو نہیں مانتے او راس کے مقابلے میں شریعت نافذ ہوگی۔اسی طرح یہ کہنا کہ عام انتخابات سے قبل جامع حکومت بنے گی اور وہ آئین کو تبدیل کرکے باقی امور انجام دے گی۔ یہ سوچ یقینی طور پر افغان فریقین میں بحران پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔اصل مسئلہ متفقہ عبوری حکومت کا قیام او رنئے انتخابات کی راہ ہموار کرنا ہے او رجو بھی اکثریت کے ساتھ جیت کر آتا ہے وہ پارلیمنٹ کی مدد سے آئین کو تبدیل کرنے یا نظام کی تبدیلی پر کام کرسکتا ہے۔ اس سے قبل آئین میں چھیڑ چھاڑ یا اسے ختم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں انتشار پیدا ہوگا۔اسی طرح افغانستان سے پاکستان مخالف ایجنڈے کو بھی روکنا بھی طالبان کی اہم زمہ داری ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس ستولتن برگ کے بقول پاکستان کی افغانستان سے متعلق بڑی ذمہ داری بنتی ہے اور اس کی کوشش ہونی چاہیے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردی کی آماجگاہ نہ بنے۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ دنیا بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اور بھارت سمیت جو بھی ممالک افغان امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی ہر سطح پر روکا جائے۔روس کے صدر پیوٹن نے بھی دنیا سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے افغان طالبان کو موقع دیں کہ وہ خود حالات کو درست کریں۔ اب یہ واقعی طالبان کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنی سیاسی ساکھ کو کیسے قائم کرتے ہیں او رکیسے اپنی قبولیت کو یقینی بناتے ہیں۔