اب افغانستان میں کوئی خونریزی نہیں ہوگی: خلیل الرحمان حقانی

  • منگل 24 / اگست / 2021
  • 3470

افغان طالبان کے اہم رہنما خلیل الرحمٰن حقانی نے کہا ہے کہ اب افغانستان میں کوئی خونریزی نہیں ہوگی۔ ہمارا مقصد افغانستان کے لوگوں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا ہے۔

پاکستان کے سرکاری نشریاتی اداروں پی ٹی وی، اے پی پی اور پی بی سی کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو

 کرتے ہوئے انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان اسلامی امارات تمام سیاسی گروہوں اور مقامی برادریوں کی نمائندہ حکومت ہوگی۔ خلیل الرحمٰن حقانی نے کہا کہ ایک جامع حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف رہنماؤں اور افغان کمیونٹیز کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جو طالبان اور افغانستان اسلامی امارات کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبدﷲ سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہائی کرائی ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ دیگر اہم شخصیات جیسا کہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، گل آغا شیرزئی، مولانا شیر محمد اور حضرت عمر زخیلوال سے بھی ملاقاتیں کی گئی ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی، ان کے مشیران اور افغان مسلح افواج کے سربراہان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی طرف سے سب کو معاف کرتے ہیں اور اب ہر شخص کو اپنا فرض اور ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ خلیل الرحمٰن حقانی نے افغان شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک سے نہ جائیں اور جو لوگ پہلے ہی جا چکے ہیں، وہ واپس آئیں اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔

طالبان رہنما نے کہا کہ بیرون ملک سے افغانوں پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے افغان بھائیوں میں تفرقہ پیدا کیا، اب افغانستان میں موجود نہیں۔ طالبان کی کامیابی ان کے اتحاد اور نظم و ضبط سے منسوب ہے اور انہوں نے سیاسی اور میدان جنگ میں دشمن کو شکست دی۔

انہوں نے کہا کہ اب افغانستان میں کوئی خونریزی نہیں ہوگی۔ ہمارا مقصد افغانستان کے لوگوں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا اور ان میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔  ہم اپنے امن کے ایجنڈے پر عمل کریں گے۔

انہوں نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں میں خوف نہ پھیلائیں۔ خوف و ہراس اور افراتفری افغانستان اسلامی امارات کا بیانیہ نہیں۔