پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، جنگ کی نوبت نہیں آئے گی: افغان طالبان

  • منگل 24 / اگست / 2021
  • 5520

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت مغربی جمہوریت کی طرز پر نہیں ہو گی۔ پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔

ترجمان نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ افغان سر زمین کسی  ملک کے خلاف  استعمال نہیں ہو گی۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت بنانے کیلئے مشاورتی عمل جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد اور قتل کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ 20 سال سےافغانستان جنگ و جدل کا شکار رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ 10روز سے کابل سمیت پورے افغانستان میں امن ہے، کابل ایئرپورٹ کے علاوہ ملک بھرمیں حالات معمول پر ہیں۔ افغانستان میں حالات کنٹرول میں ہیں، تمام بینکوں نے آزادی کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے، ملک اورعوام کی خدمت کرنے والے ادارے فعال ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے گورنرکی تعیناتی کر دی گئی ہے، تعلیمی اداروں نے کام شروع کر دیا ہے، نئی حکومت مغربی جمہوریت کی طرزپرنہیں ہوگی، تمام افغانوں کو تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی پالیسی پر گامزن ہے۔ امریکا لوگوں کو افغانستان سے نکلنے کی تجویز دے رہا ہے۔ سیاسی  طور پر بات جاری ہے۔ کسی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ڈاکٹرز اور انجینئرز کی ضرورت ہے، ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج معالجہ جاری ہے۔ افغان شہری ملک میں رہ کر ملکی ترقی میں حصہ ڈالیں، طالبان عام معافی کے اعلان پر قائم ہیں۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نشریات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

خواتین سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو آزادی دینے پر یقین رکھتے ہیں، کچھ اداروں میں سکیورٹی کی وجہ سے خواتین کو آنے سے روکا گیا۔ خواتین کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ پنجشیر میں لڑائی سے متعلق افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجشیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو گا، جنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ ایئرپورٹ میں موجود ہجوم کو واپس گھروں کو جاسکتے ہیں، ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ایئرپورٹ پررش ہوتوامریکی فائرنگ کرتےہیں۔ غیر ملکیوں کا انخلا 31 اگست تک مکمل ہو جانا چاہیے، انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا۔ ڈیڈ لائن کی خلاف ورزی ہوئی تو امریکا نتائج بھگتے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان جلد قومی فوج تشکیل دیں گے۔ سابق فوجی اگر قابل ہوئے تو انہیں نئی قومی فورس میں شامل کیا جائے گا، نوکری پیشہ خواتین سکیورٹی انتظامات تک گھروں پر رہیں۔ بے وفا ممالک اور لوگوں کی فہرست طویل ہے ،وقت آنے پر بات کریں گے۔

سی آئی اے کے سربراہ کی ملا عبدالغنی برادر سے کابل میں خفیہ ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے لیکن امریکا کا سفارت خانہ یہاں موجود ہے اور سفارتی سطح پر ملاقاتوں کی اجازت ہے۔ نہیں چاہتے سفارتخانے بند ہوں اور سفارتکار یہاں سے چلے جائیں۔