امریکہ کی ویت نام اور افغانستان میں رسوائی کا موازنہ
ہوچی من کی قیادت میں روس نواز ویت کانگ کیمونسٹ گوریلا تنظیم کے ہاتھوں تقریباً نصف صدی قبل ویت نام میں امریکی شکست کو ہمیشہ امریکہ کی تاریخ میں عبرت ناک شکست قرار دیا جاتا رہا لیکن طالبان کے ہاتھوں امریکہ کی شکست نے یہ ریکارڈ توڑ دیا۔
ویت نام میں 58 ہزار امریکی جانوں کے ضیاع پر امریکی عوام چیخ اٹھے تھے اور اپنی حکومت سے سوال شروع کر دیا تھا کہ ایک غیر ملک میں ہمارے بچے کیوں مر رہے ہیں؟ امریکہ نے اپنی قومی نفسیات پر جانی و مالی نقصان کے اثرات دیکھ کر اس سیاسی جنگ سے فرار کا راستہ اختیار کیا۔ دنیا کی تاریخ میں ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ قابض کو ایک دن جانا ہی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ جس قوم کی تحریک زیادہ منظم و متحد ہو وہ بہ نسبت غیر منظم و غیر متحد تحریک کے جلد اپنے مقاصد پا لیتی ہے۔ لیکن کسی غیر ملک ہر کسی غاصب و قابض اور غداروں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
ویت نام اور افغانستان میں امریکی فوجی و سیاسی شکست میں فرق یہ ہے کہ سیگون ویت نام پر روس کی حمایت یافتہ تنظیم کے قبضے سے دو سال قبل ہی امریکہ 1973 میں ویت نام سے بھاگ گیا تھا جبکہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی میں ہی طالبان نے قبضہ کرلیا اور امریکیوں اور ان کے حامیوں کو فرار ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس طرح طالبان نے ویت نام میں امریکی شکست کا ریکارڈ توڑ دیا جس پر امریکہ اور یورپ میں امریکہ کی بائیڈن حکومت پر بے شمار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ مزید یہ جنگ لڑ سکتا تھا۔
بے شک امریکہ اور طالبان کے مذاکرات دوسال قبل شروع ہوئے جس میں قطر کا اہم کردار رہا لیکن طالبان نے امریکہ کو کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کر دیا۔ اور اپنی شرائط پر کابل میں داخل ہو ئے۔ طالبان کا دوسرا ریکارڈ یہ ہے کہ ویت نام کی نسبت طالبان کو عالمی حمایت کم تھی۔ ویت نام جنگ کے دوران دنیا میں طاقت کا توازن تھا جبکہ اس وقت امریکہ ہی خود کو واحد سپر پاور سمجھتا ہے۔ ویت نام جنگ کے دوران دنیا دو بڑے سیاسی نظریات میں تقسیم تھی۔ یعنی امریکہ کی نام نہاد جمہوریت اور سوویت یونین کا کیمونزم ۔ اس وجہ سے سوویت یونین کے حامی امریکہ کے مخالف ہوچی من کی قیادت میں امریکہ کی مخالفت کرتے تھے۔ بلکہ یورپی عوام کی ایک بڑی اکثریت نے بھی امریکہ کے خلاف تاریخی مظاہرے کئے مگر طالبان کی حمایت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پھر بھی جدید اسلحہ سے لیس نیٹو کی شکل میں امریکی فوجی اتحاد غاروں میں زندگی گزارنے والے طالبان کی کم عددی کے باوجود سیاسی شکست کھا گیا۔ لگتا ہے کہ طالبان کی سب سے بڑی قوت ان کی سادگی تھی۔ امریکہ کی نسبت طالبان کے پاس کھونے کے لیے بہت کم اور پانے کے لیے سب کچھ تھا۔ اس نفسیاتی سوال نے امریکی فوجوں، عوام اور حکمرانوں کے حوصلے پست کرنا شروع کر دیے کہ ہم یہ جنگ کب تک لڑیں گے؟ اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ افغان تو آخر اپنے گھر میں ہیں لیکن ہم یہاں کیاکر رہے ہیں؟
ویت نام اور افغانستان کی جنگوں کے موازنے کے حوالے سے نوٹ کرنے والی ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ ویت نام میں دو نظریوں کی جنگ تھی۔ امریکہ اور سوویت یونین نظریے کی بنیاد پر اہنے اپنے حامیوں کی حمایت کر رہے تھے۔ جبکہ طالبان کی اس وقت سیاسی و سفارتی حمایت کرنے والی دو بڑی قوتیں روس اور چین طالبان کے سیاسی نظریے سے بالکل مختلف ہیں۔ روس، چین اور طالبان کے یہ تعلقات اپنے اپنے قومی مفادات کے پیش نظر ہیں جبکہ ہمارے ہاں کچھ لوگ ترقی پسندی اور رجعت پسندی کی فضول بحث میں پڑے ہوئے ییں۔ کسی بھی سنجیدہ سیاسی کارکن و تنظیم کے لیے قابل غور بات یہ ہے کہ سیاسی و مذہبی فرق کے باوجود امریکہ روس اور چین جیسی بڑی قوتیں طالبان کے ساتھ کسی سیاسی نظریے کی بنیاد پر گفت و شنید پر مجبور نہیں ہوئیں بلکہ اس لیے کہ طالبان نے خود کو ایک قوت ثابت کیا ہے۔ جن سے روس اور چین کے مفادات وابستہ ہو گئے ہیں۔
اگر طالبان کا کوئی وزن نہ ہوتا تو ان سے کوئی بات نہ کرتا ۔ بنیادی بات یہ ہے باقی سوالات اپنی جگہ۔ طالبان کا یہ وزن زمین پر کام کرنے سے بنا نہ کہ واٹس ایپ گروپوں میں فضول بحث مباحثے سے۔ لہذا ہمارے تحریکی لوگوں کو عملی کام ہر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔