افغانستان میں امریکہ کی ناکامی
- تحریر سلمان عابد
- منگل 24 / اگست / 2021
- 5010
افغانستان میں طالبان کی سیاسی برتری محض امریکہ کی ہی ناکامی نہیں بلکہ اس کے دیگر چالیس اتحادی ممالک بھی اس شکست یا ناکامی کے براہ راست زمہ دار ہیں۔
امریکہ او راس کے اتحادی بنیادی طورپر نہ تو بندوق، جنگ اور طاقت سے افغانستان میں طالبان کو فتح کرسکے اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا او رجاندار سیاسی تصفیہ کرواسکے جو معاملات کو سیاسی طورپر حل کرنے کا سبب بن سکتا۔ امریکی فوجیوں کا انخلا یقینی طور پر ضروری تھا، لیکن بغیر کسی سیاسی تصفیہ کے فوجی انخلا بھی مسئلہ کے حل کو سامنے نہیں لاسکا۔سیاسی مفاہمت و تصفیہ کے بغیر امریکی فوجیوں کا انخلا ماضی میں بھی ایک برا تجربہ تھا او راس کا اعتراف امریکہ کی سطح پر بیشتر تھنک ٹینک اور سابقہ حکمران طبقہ کرتا ہے۔لیکن بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر سیاسی تصفیہ کے بغیر انخلا محض افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے خطہ کی سیاست کے لیے کوئی اچھا پیغام نہیں۔
اگرچہ امریکی صدر بائیڈن نے اپنی عوام سے خطاب میں اس پوری ناکامی کا ملبہ افغان فوج، حکومت پر ڈال دیا ہے۔انہوں نے جو منطق یا دلیل دی ہے کہ”جو جنگ افغانستان کی افواج خود اپنے لیے لڑنے کے لیے تیار نہ ہوں او رہتھیار ڈال دیں تو پھر امریکی افواج کو بھی ایسی جنگ میں اپنی زندگیاں گنوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔“یہ جملے ایک بڑی سپر پاور کے سربراہ کے ہیں جو اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے عملی طور پر اپنی بنائی ہوئی افغان کٹھ پتلی حکومت اور فوج پر ملبہ ڈال کر خود کو بچانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔سوال یہ ہے کہ جس افغان صدر، کابینہ یا حکومت سمیت فوج پر الزام لگایا جارہا ہے وہ کس کی تشکیل کردہ تھی، کس کے اشارے پرکام کرتی تھی اور کون ان کی فوج کی صلاحیت کو بڑھانے کا کام کرتی تھی۔امریکی صدر نے جو قوم سے افغانستان کے تناظر میں خطاب کیا ہے وہ بھی مجموعی طور پر متضاد دعوے اور حقائق کے برعکس ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت امریکہ او راس کے موجودہ صدر کو عالمی میڈیا میں امریکہ کی ناکامی اور طالبان کی عملی سیاسی برتری پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
امریکی صدر کا یہ موقف بھی حیران کن ہے کہ انہوں نے سابق افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو طالبان سے مذاکرات کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اس پر نہیں مانے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر اشرف غنی کی حیثیت اس قدر تھی کہ وہ امریکی حکم یا مشورہ کو نظرانداز کرکے تن تنہا اپنی پالیسی کو جاری کرسکتا تھا۔اس سے بڑھ کر امریکہ سے یہ سوال بھی ضرور کیا جانا چاہیے کہ جب امریکہ نے ڈاکٹر اشرف غنی کا بطور صدر انتخاب کیا تو وہ کیا تھے او ران کی کیا سیاسی حیثیت تھی۔ ایک ایسا صدر جو امریکہ کا لاڈلا بھی ہو او رجس کے پاس افغان حکومت کے چلانے کے لیے امریکہ کی مالی، سیاسی، انتظامی او رعسکری امداد بھی ہو، وہ کیونکر افغانستان میں اپنی او راپنی حکومت کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم یا اپنی سیاسی ساکھ کو کیوں قائم نہیں کرسکا۔ کیا وجہ تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت افغانستان کی بجائے محض کابل تک محدود تھی اور وہ بطور صدر وہاں کی اہم سیاسی شخصیات، میڈیا، سول سوسائٹی، برادریوں کے بڑے سربراہ سمیت افغان طالبان کو تقسیم کرکے اپنا ہمنوا نہیں بناسکے۔
یہ بات پہلے بھی کہی جاتی رہی ہے کہ افغانستان کے بحران کے حل میں ڈاکٹر اشرف غنی او ران کی حکومت ایک بڑے سیاسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ امریکہ کی ڈاکٹر اشرف غنی پر سرمایہ کاری محض ڈوبنے کے ان کو کچھ نہیں دے سکے گی۔امریکہ نے پہلے 2001میں حامد کرزئی کو افغان حکومت کا سربراہ بنایا او رپھر 2014میں ڈاکٹر اشرف غنی کو سربراہ بنایا گیا۔ ان بیس برسوں میں امریکہ کی سیاسی، دفاعی، عسکری حکمت عملی کو طالبان کے ہاتھوں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔حالانکہ دونوں حکومتوں کو براہ راست امریکہ کی سرپرستی حاصل تھی اور اسی امریکی چھتری کے سائے تلے ان کا حکومتی نظام چلتا رہا۔افغان نیشنل آرمی، پولیس سمیت انٹیلی جنس ایجنسی کا نظام بھی امریکہ نے ہی تشکیل دیا تھا تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اس نظام کو چلایا جاسکے، مگر یہ سب کچھ محض خواہشات کا ہی حصہ بن کر رہ گیا اور عملی طور پر اب افغانستان میں طالبان کی سیاسی برتری کو دنیا دیکھ رہی ہے اور اس ماحول کو وہ امریکہ کی بڑی ناکامی کے طور پر پیش کررہی ہے جو خود امریکہ یا یورپ کی سیاسی برتری کو بھی چیلنج کرتا ہے۔
ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال تو بنتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اس جنگ کا سیاسی او ربالخصوص مالی آڈٹ ہونا چاہیے۔ کیونکہ امریکیوں کی طرف سے افغان آرمی، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نظام عملی طور پر امریکی ٹھیکداروں نے چلایا او راس میں جو مالی خودبرد ہوئی اس کا بھی ہر سطح پر احتساب ہونا چاہیے۔کیونکہ ان لوگوں نے افغا ن آرمی کی پروفیشنل انداز میں تربیت او رحالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو پیدا کرنے کی بجائے پیسہ کمانے کو ترجیح دی او رآج اس کا نتیجہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ فوج مصنوعی ثابت ہوئی او رجب اسے ایک بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو ان میں مزاحمت کی صلاحیت نہیں تھی۔ڈاکٹر اشرف غنی کے وزیر دفاع نے ان کی پرسرار انداز میں ملک چھوڑنے پر درست کہا کہ وہ ہمارے ہاتھ پیر باندھ کر خود خاموشی سے افغان عوام کا سودا کرکے ملک چھوڑ گئے۔
امریکی ناکامی کی ایک وجہ بھارت کی افغانستان کے معاملات میں حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی مداخلت تھی۔ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی کی مدد سے افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ساتھ مل کر افغانستان میں داخلی مسائل میں کمی کرنے کی بجائے اس میں شدت پیدا کرتا رہا۔اس کا خصوصی ٹارگٹ جہاں افغانستان تھا وہیں اس کا بڑا نشانہ پاکستان تھا۔ وہ افغان حکومت کی سرپرستی میں بنیادی بیانیہ یہ ہی بناتا رہا کہ افغانستان میں جو حالات کا بگاڑ ہے اس کی وجہ پاکستان ہے جو براہ راست افغان حکومت کے مقابلے میں طالبان کی سرپرستی کرتا ہے او رطالبان کی حمایت کے ساتھ وہ افغان حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں افغان حکومت کی طرف سے پاکستان دشمنی کی جھلک یا الزام تراشی پر مبنی سیاست نظر آتی تھی اس کے پیچھے بھی بھارت ہی تھا۔ پاکستان نے سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر بھارت کی مداخلت او رطرز عمل پر ہمیشہ آواز اٹھائی مگر امریکہ سمیت دیگر طاقت ور ممالک کی خاموشی نے بھی امریکی او ربھارتی ناکامی کی راہ ہموار کی۔ اب بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو بنیاد بنا کر امریکہ چین کے مقابلے میں اپنے مفادات کی جنگ لڑنا چاہتا ہے او راس میں بھارت اس کا اتحادی ہوگا جو خطہ کی سیاست میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے مجموعی طور پر صورتحال کافی بڑا چیلنج ہے۔ ایسی صورتحال میں جب امریکہ انخلا کے باوجود اس خطہ یا افغانستان سے عملی طور پر باہر نہیں رہے گا او راس کا کھیل کسی نہ کسی شکل میں برقرار بھی ہے او رجاری بھی رہے گا، ہمیں زیادہ تدبر کی ضرورت ہے۔پاکستان کو فوری طور پر اس علاقائی سیاست میں چین، ترکی، ایران، روس کے ساتھ مل کر افغانستان کی صورتحال پر یکجا ہونا ہوگا اور امریکہ کو بھی یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ معاملات کو طاقت یا جنگ کی بجائے سیاسی فہم فراست کے ساتھ حل کرے۔
بھارت حالیہ افغان صورتحال پر سیاسی طو رپر تنہا ہوا ہے او راس کا ردعمل بھی منفی ہوگا او رایسے میں ہمیں اس پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔اصل میں امریکہ سمیت تمام عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ اگر افغان طالبان تمام فریقین پر مشتمل حکومت بنالیتے ہیں تو اس کی قبولیت سمیت افغانستان کی تعمیر نو میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو طالبان کا جھکاؤ چین کی طرف ہوگا۔ اسی طرح افغان عبوری حکومت کو اس نکتہ پر بھی لانا ہوگا کہ انتخابات کا راستہ بھی مناسب وقت پر اختیار کرے تاکہ افغان عوام خود سے اپنی حکومت کو منتخب کرسکیں۔