صدر بائیڈن کا افغانستان سے انخلا 31 اگست تک مکمل کرنے پر اصرار
- بدھ 25 / اگست / 2021
- 4800
صدر جوبائیڈن نے منگل کو قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ 14 اگست سے اب تک70700 افراد کا کابل سےانخلا کیا گیا ہے جن میں امریکی شہری، افغان باشندے اور اتحادی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ معاملات اس وقت تیزی سے نمٹائے جا رہے ہیں، 31 اگست کی حتمی تاریخ تک انخلا کا کام مکمل ہو جائے گا۔ صدر نے کہا کہ ایک متبادل منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے جس پر ضرورت پڑنے کی صورت میں عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔
ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں بائیڈن نے کہا کہ کابل سے انخلا کے کام میں طالبان ابھی تک متعلقہ اہل کاروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ جس رفتار سے انخلا کا کام جاری ہے، توقع ہے کہ کام کو بر وقت نمٹایا جا سکے گا۔ تاہم صدر نے کہا کہ داعش کی طرف سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ اس سے قبل منگل ہی کے روز جی 7 ممالک کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے اقوام متحدہ، نیٹو اور یورپی یونین کے سربراہان کو افغانستان سے جاری انخلا کے کام سے متعلق تفصیل پیش کی۔ میں نے جی 7 ممالک کے سربراہان سے انخلا کے حوالے سے مشورہ کیا۔ وہ سب امریکی فیصلے کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ ہم اپنا مشن 31 اگست تک مکمل کر لیں گے۔
جو بائیڈن نے کہا کہ مشن کی تکمیل کے حوالے سے بہت سے خدشات اور چیلنج لاحق ہیں، جو زیادہ تر داعش سے درپیش ہو سکتے ہیں، اور اس کا دار و مدار طالبان کے تعاون پر بھی ہے۔ اگر انخلا کا کام مکمل نہیں ہوتا تو ایک اور صورت یہ ہو سکتی ہے کہ افغانستان تک رسائی کا کام اقوام متحدہ اپنے ذمے لے۔ اس بات کو بھی جی 7 کے اجلاس میں زیر غور لایا گیا۔ اس کام میں امریکہ سمیت، یورپی یونین کے ممالک عالمی ادارے کا ساتھ دیں گے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ طالبان کو یہ بات یقینی بنانی ہے کہ وہ کسی دہشت گرد گروہ کو ملک میں جگہ نہیں دیں گے، جہاں سے وہ کسی بیرونی ملک کے لیے دہشت گردی کا باعث بنیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایسی صورت حال کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔