کابل ہوائی اڈے پر دو دھماکے، متعدد امریکی اور افغان شہری ہلاک

  • جمعرات 26 / اگست / 2021
  • 5180

امریکہ کے محکمۂ دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں امریکیوں سمیت متعدد افغان باشندے ہلاک ہوئے ہیں۔

کابل کے ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک ہوٹل میں بھی دھماکہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ خیال ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ کے باہر ہونے والے دھماکہ خود کش حملہ تھا۔

دھماکے میں ایئر پورٹ کے باہر حفاظت پر مامور کئی طالبان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق دھماکے میں غیر ملکی افواج کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ کابل میں ہونے والے معاملے اور اس کے انخلا پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع کا مزید کہنا ہے کہ سب سے اہم برطانیہ کے سیکیورٹی اہلکاروں، شہریوں اور افغانستان کے باشندوں کی حفاظت ہے۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ کابل کے ہوائی اڈے کے باہر ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔ محکمۂ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی شہری کابل کے ہوائی اڈے کا سفر نہ کریں اور ہوائی اڈے کے دروازوں کی جانب بھی نہ جائیں۔

رائٹرز کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے اور طالبان کے گارڈز سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ غیرملکی خبرایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے دارالحکومت میں ایئرپورٹ کے باہر دوسرا دھماکا ہوا، جس سے 13 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

امریکی عہدیدار نے ابتدائی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں میں امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن تعداد اور ان کی شہریت کےحوالے سے کچھ نہیں جانتے ہیں۔ کابل کے ایمرجنسی ہسپتال کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں 30 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا اور 6 افراد کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔