پاکستان میں افغان مسافروں کے عارضی قیام کے انتظامات
- جمعہ 27 / اگست / 2021
- 4860
پاکستان نے امریکہ کے شہریوں، اتحادیوں اور افغان باشندوں کو ٹرانزٹ سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
وائس آف امریکہ کو حاصل دستاویزات کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے 20 اگست کو ایک ڈپلومیٹک نوٹ کے ذریعے وزارتِ خارجہ سے چکلالہ کے نور خان ائیربیس پر تین قسم کے مسافروں کے لیے ٹرانزٹ سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس درخواست کی منظوری کے بعد پاکستان کے چار شہروں میں مسافروں کے قیام کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق امریکی سفارت خانے نے ایئرپورٹ سیکیورٹی، جہازوں کی ری فیولنگ، بورڈنگ اور لاجنگ، عملے کو آرام کی سہولت اور طبی امداد کی فراہمی سمیت دیگر سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
حکام کے مطابق امریکی سفارت خانے نے ٹرانزٹ سہولت کی فراہمی کی مد میں آنے والے اخراجات کی ادائیگی پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ ادھر وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان افغانستان سے آنے والے مسافروں کو 21 روز کا ٹرانزٹ ویزا دینے کو تیار ہے۔ یہ سہولت افغانستان سے دیگر ممالک کے سفارت کاروں کو بھی فراہم کی جائے گی۔ انہیں بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلے فیصلہ کیا گیا تھا کہ افغانستان سے پاکستان آنے والے افراد کے لیے کراچی، لاہور، پشاور کے ہوائی اڈوے استعمال ہوں گے۔ البتہ اب فیصلہ کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے صرف اسلام آباد ایئرپورٹ ہی استعمال ہو گا۔
اسلام آباد میں ہوٹل اس لیے خالی کرائے گئے ہیں کہ اگر افغانستان سے آنے والا کوئی مسافر اخراجات برداشت کر سکتا ہے تو وہ ہوٹل میں رہنا چاہتا ہے تو باآسانی ٹھہر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ 2686 کلو میٹر کا بارڈر مکمل طور پر سیل ہے۔ چمن اور طور خم بارڈر کراسنگ سے آنے والوں کی انٹری ہوتی ہے۔
پاکستان کے محکمۂ خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے اجلاس میں امریکی سفارت خانے کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا تھا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے نکالے جانے والے افراد کو 48 گھنٹوں کے لیے ملک میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے گی۔
بعدازاں وزارتِ خارجہ نے امریکی سفارت خانے کی درخواست پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول سول ایوی ایشن اتھارٹی اور صوبائی انتظامیہ کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ اس بارے میں ضروری انتظامات کو ممکن بنایا جاسکے۔