پاک افغان سرحد پر صورتحال ہمارے کنٹرول میں ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
- جمعہ 27 / اگست / 2021
- 5130
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ سب کی امیدوں کے برعکس تھا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے بعد ہم قومی سلامتی کے مسائل اور عدم استحکام سے کامیابی سے نمٹ رہے ہیں۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سب ہی کو معلوم ہے۔ امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا پہلے سے طے شدہ تھا۔ پاکستان نے پہلے ہی افغانستان سرحد کے تحفظ کے لیے اقدامات کئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد محفوظ اور مستحکم ہونے کے مثبت اثرات پڑوسی ملک پر بھی آئیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 15 اگست سے قبل افغان نیشنل آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی دو سے زائد مواقع پر پاکستان میں محفوظ راستے کی تلاش میں داخل ہوئے کیونکہ وہ خوفزدہ تھے کہ ان کی پوسٹوں پر طالبان حملہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اندازہ لگایا تھا کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں اور عدم استحکام کا امکان ہے جس کی وجہ سے کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے فوجیوں کو اہم سرحدی گزرگاہوں پر منتقل کردیا گیا تھا۔ افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے دوسرا سب سے بڑا مقام پاکستان ہے۔
اب تک 113 پروازیں افغانستان سے پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ پاک افغان سرحد پر حالات معمول پر ہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانوں کے علاوہ اس تنازع کے سب سے زیادہ متاثرین پاکستانی ہیں۔ ہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری عظیم قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے مسلح افواج دہشت گردی کی لہر کو موڑنے میں کامیاب ہوئیں۔ پاکستان افغان حکومت سے بارڈر کنٹرول میکنزم کو باضابطہ بنانے کے لیے رابطہ کر رہا ہے تاکہ پاک افغان سرحد پر 'عدم استحکام' سے نمٹا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انٹیلی جنس شیئرنگ کا طریقہ کار بھی تجویز کیا تاہم ان اقدامات پر 'بہتر جواب نہیں ملا ہے'۔ پاکستان فوجی سطح پر بھی رابطہ کر رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان افغانستان میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے منفی کردار کے بارے میں دنیا کو بار بار خبردار کر رہا ہے۔ جب پاکستان کی مسلح افواج اپنی مغربی سرحد پر آپریشن میں مصروف تھیں تو اس کی مشرقی سرحد پر جنگ بندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 'دو دہائیوں کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری قوم کے نقطہ نظر سے دہشت گردی کی لعنت کا اچھی طرح مقابلہ کیا ہے۔ یہ تمام کارروائیاں ناقابل تسخیر جذبے اور پوری قوم کی کوششوں کی عظیم قربانی کا مظہر ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان پر قابو نہیں پاسکتے تو پاکستان کیا اقدامات کرے گا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں پناہ گاہیں موجود ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا ہوگا۔