امریکہ یورپ تعلقات میں تناؤ
امریکہ نے عرصہ دراز سے یورپ کو اپنی جارحانہ عالمی پالیسی کا حصہ اور غیر جمہوری مسلمان ریاستوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنایا ہوا ہے۔
مسلمان حکمرانوں نے تو ابھی تک تاریخ سے سبق نہیں سیکھا لیکن یورپ نے امریکہ کی بعض پالیسیوں کا ساتھ دینے سے انکار شروع کر دیا ہے جس میں لیڈنگ کردار جرمنی کا ہے۔ اس کی بڑی مثال روس اور چین سے دور رہنے کا وہ امریکی مطالبہ ہے جسے یورپ نے مسترد کر دیا ہے۔ جرمنی کی جبری تقسیم کے نتیجے میں مشرقی برلن پر سوویت یونین کا قبضہ ہو گیا تھا مگر اس کے باوجود سابق جرمن چانسلر ولی برانت کی قیادت میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پس پردہ سوویت یونین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس کوشش کو چانسلر ہیلمٹ کول نے نتیجہ خیز بناتے ہوئے آخری سوویت صدر گوربا چوف کو جب جرمنی کو آزاد کرنے پر آمادہ کر لیا تو اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور فرانس کے صدر فرانسوا متراں بھاگم بھاگ گوربا چوف کو ملنے گئے اور کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
جرمنی متحد ہو کر مضبوط ہو جائے گا اور ہم سارے کمزور ہو جائیں گے مگر سوویت یونین کا خیال تھا کہ مضبوط جرمنی اس کے لیے امریکہ اور برطانیہ جیسے پکے مخالفین سے بہتر ہے۔ اس موقع پر جہاں برطانیہ اور فرانس کی منافقت سامنے آئی، وہاں مغربی جرمنی اور سوویت یونین کے دیرینہ خفیہ تعلقات کا بھی پتہ چلا۔ برطانیہ اور فرانس بظاہر مشرقی جرمنی کی آزادی کی حمایت میں سوویت یونین پر تنقید کیا کرتے تھے مگر جب دیوار برلن ٹوٹنے کا وقت آیا تو مخالفت میں سامنے ا گے۔
کشمیریوں کو بھی ایسے ہی منافقوں کاسامنا ہے۔ پس پردہ جرمنی نے سوویت یونین کو افغان جنگ میں ہونے والے مالی نقصان کا مقابلہ کرنے کے لیے کچھ قرض بھی دیا تھا۔ اب امریکہ نے موجودہ جرمن چانسلر انجیلا میرکل پر بھی روس سے دور رہنے کے لیے دباؤ ڈالا جسے جرمن چانسلر نے مسترد کر دیا۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جرمنی کی اقتصادی قوت کا بڑا انحصار روس کی انرجی پر ہے۔ روس جرمن پائپ لائن کا انحصار بھی روس اور جرمنی کے اچھے تعلقات پر ہے جبکہ مغربی یورپ کو مجموعی طور ہر تیس فی صد تیل اور چالیس فی صد گیس روس فراہم کرتا ہے۔ مغربی یورپ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایشیا جیسے بڑے براعظم کے ساتھ تعلقات میں روس پل کا کردار اداکر سکتا ہے۔
امریکہ چین کے خلاف بھارت، جاپان اور کوریا کو کھڑا کرنا چاہتا ہے لیکن مغربی یورپ کا خیال ہے کہ امریکہ کی ٹکراؤ کی پالیسی روس اور ایشیا کے ساتھ اس کے تعلقات خراب کرے گی جس کا اسے بھاری اقتصادی نقصان ہو گا۔ چین کو اچھی طرح خبر ہے کہ ٹکراؤ کی پالیسی اس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی پالیسیوں کے لیے نقصان دہ ہے لیکن وہ امریکہ کا ہر طرح کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار بھی یے۔ دوسری طرف روس ایک عسکری قوت تو ہے ہی، وہ طاقت کا توازن قائم کر کے نظریاتی طور پر بھی امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے مغرب کی بائیں بازو کی پارٹیوں کے ساتھ سیاسی رابطے بڑھا رہا ہے۔
اس کے نسبت مسلمان دوسروں کے ساتھ آزادانہ تعلقات قائم کرنا تو درکنار مسلمانوں کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان حکمران خاص کر سعودی عرب ہے۔ جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ دسمبر 2019 میں ملیشیا میں اسلامی سمٹ بلائی گئی جس میں سعودی عرب نے خود بھی شرکت نہ کی اور پاکستان اور انڈونیشیا کو بھی روک دیا۔ اس اسلامی سمٹ میں مشترکہ اسلامی مارکیٹ اور کرنسی کی سفارش کی گئی جسے بیس مسلم ممالک کے نمائیندوں نے منظور کیا۔ اس نظریے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی لیکن پریشانی کی بھی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ یورپی مشترکہ منڈی کی بھی شروع سے صرف چھ یورپی ممالک نے حمایت کی تھی۔ سعودی عرب کے خدشات نظریاتی نہیں مفاداتی ہیں۔ اس لیے ملیشیا سمٹ کے فیصلوں پر کام جاری رہنا چاہیے۔