پی آئی اے پر پابندی لگانے والے افغانستان سے انخلا کیلئے اس کی مدد مانگ رہے ہیں: فواد چوہدری
- ہفتہ 28 / اگست / 2021
- 7800
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر پابندی عائد کی تھی اب وہ اسی ایئر لائن سے اپنے لوگوں کے انخلا کے لیے مدد مانگ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے یہ ریمارکس یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے جولائی 2020 میں پی آئی اے پر پابندی کے حوالے سے دیے جو کہ حفاظتی کمی اور پائلٹ لائسنسنگ کی اجازت کے عمل سے متعلق مسائل پر تھا۔ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بین الاقوامی قوتوں کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں نہ کہ طاقت سے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب تک افغانستان سے 4 ہزار 400 سے زائد افراد کو نکال چکا ہے اور ان میں سے صرف پی آئی اے 2 ہزار سے زائد افراد کو ملک میں لایا ہے۔ اس کے علاوہ چمن بارڈر سے 27 ہزار لوگ اور چند طورخم بارڈر سے پاکستان پہنچے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ درست دستاویزات رکھنے والے افغان شہری پاکستان آ سکتے ہیں۔ ہم افغانستان سے مکمل تعاون کریں گے اور یہ تب ہی مستحکم ہو سکتا ہے جب ان کے ادارے برقرار ہوں۔ افغانستان سے انخلا کے عمل میں پاکستان کی کاوشوں کی پوری دنیا معترف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق وزیر اعظم کی ایک ایک بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ اگر پاکستان کے مشورے پر عمل کیا جاتا تو افغانستان کی صورتحال مختلف ہوتی۔ ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت بنانا وہاں کے لوگوں کا کام ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ تمام اقوام پر مشتمل حکومت بنانی چاہیے۔
طالبان کے بیانات اس حوالے سے کافی حوصلہ کن ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اشاریے بتا رہے ہیں کہ پاکستان استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، پی ڈی ایم کے جلسے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس جلسے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن پھر بیمار ہوجائیں گے اور شہباز شریف کو چاہیے کہ فیصلہ کریں کہ مسلم لیگ (ن) کا لیڈر کون ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اپوزیشن کی 3 سالہ کارکردگی سامنے رکھنی چاہیے تاکہ لوگوں کو موازنہ کرنے کا موقع مل سکے۔
حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو 3 سالوں میں 1900 ارب روپے وفاقی حکومت سے ملے ہیں، سندھ کے میڈیا کو صوبائی حکومت سے کارکردگی رپورٹ طلب کرنی چاہیے۔ کراچی والوں کو لگ رہا ہے کہ پیسا اندرون سندھ خرچ ہوا جبکہ اندرون سندھ والے سوال کر رہے ہیں کہ یہ پیسا گیا کہاں۔
انہوں نے کہا کہ پورا صوبہ بحران کا شکار ہے، بدانتظامی ہے اور یہاں لاڈلے ارکان ایک کام پر لگے ہیں کہ پیسے کیسے دبئی اور دیگر ممالک منتقل کرنا ہے۔