طالبان بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں

  • سوموار 30 / اگست / 2021
  • 5860

افغان طالبان کے سینئر رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے بھارت کو تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کرنے کی پیش کش کی ہے۔ تاحال بھارت کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے سے لے کر اب تک بھارت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ لہذٰا بیرونی دنیا کے ردِعمل سے قبل بھارت بھی طالبان سے متعلق کوئی دو ٹوک پالیسی نہیں اپنائے گا۔

البتہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پیر کو کہا کہ بھارت کابل کی سیکیورٹی کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ملک دشمن طاقتیں افغانستان کی صورتِ حال کا فائدہ اٹھا کر بھارت میں دہشت گردی نہ کرنے پائیں۔

دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے ہفتے کو نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ برِصغیر کے لیے بھارت ایک اہم ملک ہے۔ طالبان اس کے ساتھ ثقافتی، اقتصادی، تجارتی اور سیاسی رشتے رکھنا چاہتے ہیں۔ ستنکزئی نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ فضائی اور تجارتی راہداری کو بھی کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان رہنما بھارت اور افغانستان کے درمیان اس فضائی راہداری کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ افغان خبر رساں ادارے ’طلوع نیوز‘ نے ستنکزئی کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان قیادت فی الحال مختلف نسلی گروپس اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے تاکہ ایک ایسی حکومت قائم کی جائے جو افعانستان کے اندر اور باہر بھی قابل قبول ہو۔

قبل ازیں 1996 میں جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو اس میں شیر محمد ستنکزئی نائب وزیر خارجہ تھے۔ اس وقت بھی انہوں نے ایسے ہی بیانات دیے تھے۔ اس بار انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب بھارت نے کابل میں اپنے سفارت خانے کا عملہ واپس بلا لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ستنکزئی کے بھارت کے ساتھ سیاسی، اقتصادی و تجارتی رشتے کو اہمیت دینے اور ان رشتوں کو برقرار رکھنے کے بیان کو بھارت میں اہمیت تو دی جارہی ہے مگر اسے محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔