پاک امریکہ تعلقات میں بداعتمادی
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 30 / اگست / 2021
- 6620
پاکستان کے چین سے بڑھتے ہوئے تعلقات یا افغانستان کے بحران سے جڑے معاملات کو بنیاد بنا کر بہت سے اہل دانش یا سفارتی ماہرین پاک امریکہ تعلقات میں بداعتمادی کو زیر بحث لارہے ہیں۔
ان کے بقول خطہ کے ممالک کے درمیان نئے تعلقات یا رشتے ظاہر کرتے ہیں کہ نئی صف بندی ہورہی ہے۔ یہ سوچ اور فکر کے پاکستان کا سارا جھکاؤ اب امریکہ کی بجائے چین پر ہے او ر اسی بنیاد پر امریکہ ہماری خارجہ پالیسی پر سخت تحفظات رکھتا ہے، درست عمل نہیں۔ کیونکہ پاکستان چین سے یقینی طور پر اپنے تعلقات کو نئی جہتوں اور ضرورتوں کے تحت آگے بڑھانا چاہتا ہے لیکن اس کا مطلب امریکہ سے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنا یا اس سے کسی قسم کے مقابلہ کی فضا کو قائم کرنا اس کی ترجیحات کا حصہ نہیں۔
حالیہ افغان بحران کے تناظر میں امریکہ او ر افغانستان کے ساتھ ایک بڑا فریق ہے۔ سابق افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے درمیان مفاہمت یا مزاکرات کی سیاسی میز سجی ہوئی تھی وہ بھی پاکستان کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھی۔جو کچھ افغان حکومت یا سابق صد ڈاکٹر اشرف غنی نے کیا اس پر محض تحفظات پاکستان کے ہی نہیں تھے بلکہ امریکہ کی سیاسی قیادت سمیت اسٹیبلیشمنٹ نے بھی ان کے کردار پر شدید تنقید کی ہے۔ان کے بقول افغان صدر مفاہمت کے ساتھ افغان طالبان کے ساتھ معاملات طے کرسکتے تھے مگر ان کی سیاسی ہٹ ڈھرمی کے نتیجے میں افغان طالبان کو برتری اور افغان حکومت کو سیاسی پسپائی اختیار کرنا پڑی۔بہت سے سیاسی پنڈت بلاوجہ اس نکتہ کو بنیاد بنا کر کر پاک امریکہ تعلقات میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے سیاسی قبضہ کی اصل طاقت پاکستان کا سیاسی اور عسکری کردار ہے۔
پاکستان کے سامنے سفارتی محاذ پر ایک بڑا چیلنج امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور ان معاملات میں ایک متوازن پالیسی کو ترتیب دینا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کو چار بڑے چیلنجزکا سامنا ہے۔ اول پاکستان امریکہ سے ہر صورت بہتر تعلقات چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ امریکہ ان کے ساتھ اپنے ایک اہم اتحادی کے طور پر بہتر رویہ اختیار کرے۔ دوئم امریکہ کی یہ پالیسی کے وہ اپنا ناکامی کا سارا بوجھ پاکستان پر ڈالے، الزام تراشیوں سے ماحول کو بگاڑے یا پاکستان پر عدم اعتماد کا ماحول پیدا کرے یہ تعلقات کی بہتری میں کوئی مناسب حکمت عملی نہیں۔ سوئم امریکہ دہشت گردی سے نمٹنے اور خطہ میں امن کی کوششوں پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کرے اور بلاوجہ اپنے اس اہم اتحادی پر شک کرکے ماحول کو خراب نہ کرے۔ چہارم امریکہ بھارت کے اس خطہ سمیت پاکستان سے تعلقات کے تناظر میں عملی طور پر پاکستان کے تحفظات کو وہ اہمیت نہیں دے رہا جو ہماری ضرورت بنتے ہیں اور نہ ہی اس کا بھارت پرخطہ میں مثبت کردار کے ادا کرنے میں کوئی بڑے دباوؤکی پالیسی نظر آتی ہے۔
پاکستان میں اس بات پر بھی شدید ردعمل پایا جاتا ہے کہ جو کچھ افغان طالبان نے افغانستان میں کیا ہے اسے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی امریکی حکومت، میڈیا یا وہاں کے بڑے تھنک ٹینک کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔حالانکہ پاکستان سیاسی، سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف کام کرنا چاہتا ہے بلکہ ایک مربوط پالیسی سے خطہ کی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔بالخصوص پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا یہ واضح پیغام کہ ہم ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں بلکہ جیو اسٹرٹیجک کے مقابلے میں جیو معیشت پر فوقیت ہی ہماری ترجیح ہے۔ پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں بھی ہماری پالیسی یا عملی طور پر ردعمل بھارت سے کافی مثبت ہے۔
طالبان کی سیاسی برتری پر بھی پاکستان میں کوئی سیاسی جشن نہیں بلکہ ہم طالبان کو مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے، تمام فریقین پر مشتمل عبوری حکومت کے قیام اور ماضی کے سخت گیر طالبان کے رویوں کے مقابلے میں اعتدال پسندی اور مخالفین کے بارے میں جمہوری پالیسی کو ممکن بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ہم طالبان پر بھی یہ واضح کرچکے ہیں ان کے طرز عمل کی بنیاد اگر سیاسی ہوگی اور ماضی کے مقابلے میں مثبت کردار ادا کریں گے تو ہم عالمی و علاقائی مشاورت سے ہی ان کی حکومت کو قبول کرنے کی بات پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔اس لیے جو لوگ واشنگٹن میں بیٹھ کر پاکستان طالبان گٹھ جوڑ بنا کر معاملات کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ امریکہ کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں۔اس عمل میں بھارت کا کردار بھی کافی منفی ہے جو بلاوجہ پاکستان مخالف ایجنڈے کو بنیاد بنا کر پاک امریکہ تعلقات میں خرابیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہی ہے کہ کیا امریکہ واقعی افغانستان میں استحکام چاہتا ہے اور وہاں کی تعمیر و ترقی اور امن اس کی اہم ترجیحات کا حصہ ہے۔اگرایسا ہے تو کیا وہ پاکستان کی شمولیت او ر اہم اتحادی کی بنیاد پر تعلقات کے بغیر یہ کام کرسکے گا، یقینی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ ماضی میں بھی ہم امریکہ کی جانب سے پاکستان کو پس پشت ڈال کر بھارت کی حمایت او ر افغان بحران کے حل کی کوششوں کی ناکامی دیکھ چکے ہیں اور اسی ناکامی کے بعد پاکستان کی مدد سے افغان بحران کے حل کی کوششوں کا آغاز ہوا۔کیونکہ اگر امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے تو یہ بات نظر انداز نہ کی جائے کہ امریکہ سے ایک قدم آگے بڑھ کر افغانستان کا امن پاکستان کی ضرورت ہے۔کیونکہ پاکستان کی ترقی، استحکام کی بنیاد افغان امن کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ہے۔اس لیے پاکستان اور امریکہ افغانستان کے تناظر میں ایک دوسرے کی معاونت یا ان کا اتحادی بننا ایک دوسرے کی ضرورت بنتا ہے۔
جو غلطی امریکہ نے افغانستان کے تناظر میں ماضی میں کی تھی اسے دہرانے کی بجائے اس کو افغانستان کی ترقی اور امن کے ساتھ مستقل بنیادوں پر سیاسی، معاشی تعلقات کو استوار کرنا ہوگا۔ایسے میں اگر پاک امریکہ تعلقات اعتماد سازی کے ساتھ آگے بڑھیں تو نتائج مثبت انداز میں بھی سامنے آسکتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کا اہم اتحادی بھارت ہے تو اس کا سیاسی حق ہے وہ اس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائے۔ مگر پاکستان کے اس نقطہ نظر کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے کہ امریکہ بھارت تعلقات کی مضبوطی پاکستان پر دبا ؤ بڑھانے، کمزور کرنے یا اسے عدم استحکام میں لانے کی نہیں ہونی چاہیے۔ پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل میں امریکی کوشش اور بھارت پر دباؤ کی پالیسی واضح اور شفاف ہونی چاہیے جو سب کو نظر بھی آئے۔ مسئلہ محض افغانستان تک ہی محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر عالمی اور علاقائی سیاست میں پاک امریکہ تعلقات اور دوطرفہ تعاون ہی ایک دوسرے کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کی پاکستان کو دیوار سے لگانے کی پالیسی یا بھارت پر بڑھتا ہوا جھکاؤ یقینی طور پر پاکستان میں ایک بڑے ردعمل یا متبادل پالیسی یا راستہ کی طرف دکھیلے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یہ پاکستان کی ضرورت بھی بنتی ہے کہ وہ اپنے مفاد کو بنیاد بنا کر متبادل پالیسی اختیار کرے۔
امریکی تھنک ٹینک سمیت بہت سے سابق سفارت کار او ر سابق صدور یا اہم افراد امریکی قیادت کو یہ ہی پیغام دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی لائے اور اس ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھے نہ کہ اس پر دباؤ کو بڑھا کر تعلقات درست کرنے کی بجائے اس میں بگاڑ پیدا کیا جائے۔ان کے بقول امریکہ کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت میں افغانستان کی سرزمین کوکسی کے خلاف دہشت گردی کے طور پر استعمال نہ ہو نے کی حکمت عملی پر کھڑا رہے۔ کیونکہ ان کے بقول پاکستان کو ماضی کے پاکستان کے مقابلے میں آج کے پاکستان کے طور پر دیکھے جو خود بھی خطہ کی سیاست میں مثبت کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ اعتماد سازی، دو طرفہ تعاون اور موثر مثبت حکمت عملی ہی امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہونی چاہیے۔