افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون درکار ہے: وزیر خارجہ
- منگل 31 / اگست / 2021
- 4040
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بات کہی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے جرمن وزیر خارجہ کو پاکستان مدعو کیا ہے جہاں وہ صورتحال کا بہتر اندازہ لگا سکیں گے۔ اس وقت افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ عالمی برادری کو مشغول رہنا چاہیے، انسانی امداد کا بہاؤ برقرار رہنا چاہیے تاکہ افغانستان میں معاشی تباہی نہ آئے۔
وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جرمنی اس حوالے سے درست فیصلے کرے گا۔ جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان میں ایک اہم سرمایہ کار رہا ہے اور یورپی یونین کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ جرمنی کے ساتھ تجارت کو مزید بڑھانے کے امکانات موجود ہیں اور بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک اقتصادی روابط کو فروغ دے سکتے ہیں۔
ہیکو ماس افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے جامع حکومت بنانے کا وعدہ کیا ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان کے وعدے آنے والے دنوں میں قابل اعتماد ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ یہ ہمارے لیے اہم ہے کہ تمام افغان، یہاں تک کہ وہ جو طالبان کی حمایت نہیں کرتے، اس حکومت میں نمائندگی حاصل کرسکیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا طالبان اس کو مدنظر رکھتے ہیں یا نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کابل ایئرپورٹ کے دوبارہ فعال ہونے کے بعد چارٹر پروازوں کے انتظام کے لیے دیگر کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔
انہوں نے کابل سے انخلا میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی افغانستان کے پڑوسی ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے۔ جرمنی افغانستان سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔
اس سے قبل سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے جرمن وزیر خارجہ کی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی جس میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ (ایف او) میں ان کا استقبال کیا اور انہوں نے وہاں ایک پودا بھی لگایا۔