پاکستان کا جمہوری تماشا

مہذب اور تعلیم یافتہ مُکوں میں  لوگ اپنے ووٹ یعنی حقِ  رائے دہی  استعمال کر کے  یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اُن کا مُلک اور معاشرہ  کس سمت میں جائے اور  ملک کے عام آدمی کا معیارِ زندگی  بلند، متوازن  اور محفوظ بنانے کے  لیے  کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ 

لیکن پاکستان جیسے بظاہر اسلامی  مگر در حقیقت  بے راہ رو، بے سمت  اور بے نظام ملک میں انتخابات  ایک فضول کام ہے  کیونکہ پاکستان میں ایک تو  تعلیم یافتہ افراد کی  تعداد بہت کم ہے  اور دوسرے  اس ملک میں سیاسی جماعتیں نہیں ہوتیں  بلکہ حصولِ اقتدار کا جوا کھیلنے والی  مافیا طرز کی  کاروباری فرمیں ہوتی ہیں  جو حصولِ اقتدار کے لیے باقاعدہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اور کامیابی کی صورت میں  اپنے ہاتھ لگی  جمہوریت کی بھینس کو بے دردی سے دوہتے  دوہتے اُس کا خون تک نچوڑ لیتی ہیں ۔ اس  مافیا جمہوریت میں یہ سیاسی سرمایہ کار  اپنی جادوگری  سے امیر سے امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں  اور اُن کے جمہوری  آسیب کا شکار غریب سے غریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے پچھلے چوہتر برس  سے  پاکستان پر یہی مافیا  قابض ہے جو نام اور ماسک بدل بدل کر رہبری کی آڑ میں   رہزنی  کرتے ہیں۔

یہ لوگ اپنی وکالت کے لیے  میڈیا کو وکیل کرتے ہیں  اور ان دولت پرستوں کی وکالت سے بہت سے چاپلوس اور خوشامدی  بھی ڈالروں، پلاٹوں اور  پلازوں میں کھیلنے لگتے ہیں۔  جب کہ بیوروکریسی گھر کی نمک حلال نوکرانی  کی طرح ان  کی خدمت کرتی  ہے اور ان کے طفیل عدلیہ کے کوٹھے پر ناچنے والی طوائفیں  بھی یورپ امریکہ اور خلیج کی ریاستوں میں جڑیں پکڑلیتی ہیں۔ اور اپنی اولادوں اور آنے والی نسلوں کو پاکستان کے چُنگل سے  بچا لیتی ہیں۔  پاکستانی سیاست دولت کا کھیل ہے  جس کے مقابل طاقت کا کھیل کھیلنے والے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں  اور پاکستانی فوج جو نوعیت اور  ماہیت کے اعتبار سے  سیاسی  کس بل اور  حکمتِ عملی  کی استعداد بھی رکھتی ہے  اور  ملکی سرحدوں کی حفاظت  کے نام پر  اپنی سیاسی جڑوں کو معاشرے میں مضبوط کرتی ہے۔  کبھی شہیدانِ وطن کے لہو کا واسطہ دے کر  عوام میں اپنی سیاسی جڑیں  مضبوط کرنے کے لیے باقاعدہ تشہیری مہم چلاتی ہے۔  اور جب بھی موقعہ ملے تو ملک کی باگ ڈور سنبھال لیتی ہے اور چوہترسالہ تاریخ میں یہ مواقع چار  بار  مل چکے ہیں۔

یہ ہماری  عسکری سیاسی پارٹی ہے  جو چاہے تو  ضیا الحق کی طرح اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آ جائے یا پھر کرپشن ختم کرنے کی آڑ میں  پہلے تو ایبڈو لگا کر سول سیاست دانوں کا ناطقہ بند کرے اور پھر اپنی پسند کے غلام چن کر کنوینشن مسلم لیگ بنا لے  اور بھیس بدل کر سول لباس میں بر سرِ اقتدار آ جائے۔  اس طرزِ جمہوریت میں جو سول فوجی ملغوبہ ہوتا ہے،  صرف  اقتدار کے حریف طبقوں کا ہی بھلا ہوتا ہے جب کہ عام لوگ  مفلسی اور بے روزگاری کے  دوزخ میں جلتے رہتے ہیں۔ لیکن  ہر برسرِ اقتدار پارٹی ترقی کے منصوبوں  کا شور مچاتی ہے اور میڈیا میں ان منصوبوں کی تشہیر کے ذریعے  لوگوں کو یہ باور کراتی رہتی  ہے کہ ملکی معیشت رو بہ فروغ ہے جب کہ وہ رو بہ دروغ  ہوتی ہے  کیونکہ عام آدمی کا معیارِ زندگی بدستور پست  رہتا ہے۔  خطِ غُربت سے  نیچے سسکنے والے لوگ  بے روزگاری، مفلسی، جہالت  اور تعلیم سے محرومی کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور رہنے کا مستقل ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ خانہ  بدوشوں کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ جدید شہروں کے یہ خانہ بدوش دراصل ملک  کی شہریت سے محروم لوگ ہوتے ہیں  جو غیر ضروری  آبادی ہونے کی اذیت سے گزرتے رہتے ہیں۔

یہ سب کچھ پچھلے چوہتر برس سے مسلسل  ہو رہا ہے اور  ان برسوں میں سب سے زیادہ خراب کارکردگی  مذہبی اداروں کی رہی ہے  جو نہ تو اپنے طبقے ہی اخلاقی تربیت ہی کر سکے ہیں  اور نہ پاکستان کی دوسری اور تیسری نسل کو اسلام کی راہ پر عملاً گامزن کرنے  میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ یہ پاکستان میں اسلام کے عملی نفاذ کی ناکامی  کا المیہ ہے۔  آج کا پاکستانی معاشرہ جنسی  بے راہ روی اور  معاشی جرائم کا تپتا ہوا دوزخ ہے  جس میں لوگ بے موت مر رہے ہیں۔  اور ان بے موت مرنے والوں کی تعداد سرحدوں پر اپنی جان  نچھاور کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ان چوہتر سالوں کی تاریخ  گواہ ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سر چشمہ جی ایچ کیو ہی ہے۔ جب جرنیل  بر سرِ اقتدار آتے ہیں  تو وہ مسلم لیگیں بھی بناتے ہیں۔  ایوب خان کی کنوینشن لیگ تھی ، ضیا لیگ کی نون لیگ جو قانون کی حکمرانی  کے بجائے  نون کی حکمرانی  کی داعی بنی۔  جنرل مشرف بر سرِ مارشل لا  ہوئے تو نئی مسلم لیگ بنی جو مشرف کو وردی میں منتخب کروانے کی قسمیں کھاتی رہی اور آج بھی قاف لیگ کی شکل میں موجود ہے۔

دل  چسپ بات یہ ہے کہ کل ہند مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ  میں رکھی گئی تھی  اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جرنیلوں نے  مسلم لیگ سازی  کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کر لیے تھے۔ اب موجودہ  حکمران جماعت جانے کس طرح وجود میں آئی مگر  وہ اور فوج ایک ہی صفحے پر ہونے کے دعویدار ہیں۔ عمران  خان قوم کو لے کر مدینے کی ریاست کی طرف رواں دواں ہیں لیکن اب تک ان کے انتخابی وعدے تین سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کا مونہ چڑا رہے ہیں:

۱۔ ایک کروڑ نوکریاں

۲۔ پچاس کے ہندسے کے مکان

۳۔ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی

ان ناکامیوں کا تین سالہ جشن  بہت اندوہ ناک تھا۔ کیا یہ اس بات کا جشن تھا کہ پی ٹی آئی نے تین سال پورے کر لیے جس پر عمران اسماعیل ناچتے گاتے نظر آئے لیکن  پاکستان کے عام آدمی کے آنسو اور آہیں کسی نے نہیں دیکھے۔  گلی کوچے اور شاہراہیں غیر محفوظ ہیں۔ بچوں اور خواتین کے لیے  یہ اسلامی ملک خطر ناک ترین  بن چکا ہے۔  اگر کسی کو میری اس تنقید سے تکلیف پہنچے تو میں اُنہیں یاد دلا دوں کہ مدینے کی ریاست میں حاکمِ وقت سے اس کے تن کے کپڑوں کو حساب ہر شہری مانگ سکتا ہے۔  مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ حکمران طبقے اور اُن کے سہولت کار اتنے امیر کیوں ہیں۔ انہوں نے وافر دولت کیوں جمع کر رکھی ہے۔ جب میں ان کی دولت  مندی کے قصے سنتا ہوں تو مجھے نہجہ البلاغہ میں رقم  حضرت علی ؓ کا یہ قول یاد آتا ہے کہ جہاں وافر دولت دیکھو جان لو کہ کسی کا حق غصب ہوا ہے۔ چنانچہ جاتی امرا، بلاول ہاؤس، بنی گالہ سب کے سب مدینے کی ریاست کے قانون کے مطابق احتساب کی زد میں ہیں مگر  سیاسی نعرے جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جیسے پیپلز پارٹی نے روٹی کپرا مکان، تعلیم اور طبی امداد ہر شہری کو مہیا کرنے کا نعرہ ایجاد کیا تھا جو اب تک  نصف صدی میں نعرے سے بڑھ کر کوئی عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔  تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے سارے حکمران ہی ایسے تھے جنہوں نے اپنے  خاندان کو پاکستان سمجھا اور اپنے کاروبار  کے فروغ کو پاکستان کی ترقی  قرار دیا اور  عوام کو ہمیشہ ملک کا کوڑا سمجھا۔  اور اس کے باوجود ایسے چرب زبانوں کی کمی نہیں جو پاکستان کو مسائل سے مالا مال کوش قسمت ملک قرار دیتے مگر اُس وقت ان اندھوں کو نہ تو خطِ غربت نظر آتا ہے اور نہ ہی سڑکوں پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والے کم سن بچے اور بچیاں۔ 

اور ان اندھوں کے آگے عوام کا دکھڑا رونا اپنے نین کھونا  ہے۔ تاہم میرا حلفیہ بیان اپنی جگہ ہے:

اُنہیں ڈالر سے بھرنی ہے تجوری۔۔ مجھے مسعود فکرِ آخرت ہے