امریکی انخلا کے بعد نیا افغانستان؟

اردو زبان کا ایک محاورہ ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ آج ذہن کی سکرین پر اس وقت بار بار نمودار ہوا جب افغانستان میں بیس سالہ کنٹرول ختم کرتے ہوئے امریکی فورسز کے انخلا کی تکمیل پر امریکی صدر جوبائیڈن اپنی قوم سےخطاب فرما رہے تھے۔

وہ گویا اپنی حماقت کی پردہ پوشی کرتے ہوئے قوم کو یہ باور کروانے کیلئے کوشاں تھے کہ جو کچھ کیا ہے  بس وہ سب امریکی قوم کے مفاد میں ہی تھا ورنہ ہمارے نوجوانوں کی بہت ہلاکتیں ہوتیں۔ میرے ہم وطنو! اس وقت روس اور چین سے ہمیں نئے نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ ہمیں اپنی توجہ افغانستان کی بجائے اس طرف مبذول کرنی چاہیے اور یہ بھی دیکھیں کہ ہمارا اس وقت وہاں کس قدر نقصان ہو رہا تھا، بیس سالوں سے افغانستان میں ہمارے تین سو ملین ڈالرز روزانہ کی بنیاد پر برباد ہو رہے تھے لہٰذا اس جنگ کو مزید دس بیس سالوں تک جاری رکھنا نہیں چاہیے تھا۔ ایسی ہی لفاظی میں امریکی صدر جس چیز کو فراموش یا گول کر رہے تھے، وہ تھا حفظ ماتقدم کئے بغیر انخلا کا غلط وقت، مناسب منصوبہ بندی کے بغیر احمقانہ طریق کار۔ وہ ساڑھے تین لاکھ کی جس فورس پر اعتماد کر رہے تھے اس کی پرکھ کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کا انتظامی مظاہرہ، آج وہ جس ٹولے کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے۔ اس کا سارا اہتمام کس کی نگرانی میں ہوا تھا؟

ان کوتاہیوں کے حوالے سے اپنی قوم کو اعتماد میں لینے کی بجائے وہ ادھر ادھر کی دیگر کہانیوں میں الجھا رہے تھے یا امیدوں کے نئے باغ دکھا رہے تھے۔ حضور! آپ کو کون کہہ رہا ہے کہ آپ امریکیوں کی ایک اور نسل کو اس جنگ کا ایندھن بنا دیتے؟ اگر آپ کو اپنے لوگوں کی ہلاکتوں یا مالی وسائل کے ضیاع کی اتنی ہی فکر تھی تو پھر اس پنگے میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اردو میں ہم کہتے ہیں کہ نانی نے کھسم کیا، برا کیا اور پھر کر کے چھوڑا تو مزید برا کیا۔ کسی بھی مسئلے میں انسان سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالے یا پھر اسے منطقی انجام تک پہنچائے۔ آپ لوگوں کی پلاننگ ہی غلط تھی۔ ہر چیز پیسے اور طاقت کے زور پر ممکن نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر عثمانی سلطنت کے جبر سے چھٹکارا دلانے کے لئے عرب مزاحمتی تحریک کو جس حکمت اور سلیقے سے لارنس آف عریبیہ کے ذریعے پروان چڑھایا یا اٹھایا گیا، تاریخی طور پر وہ ایک قابل عمل درخشاں مثال ہے۔ کسی قوم کی معاشرت، زبان یا رہن سہن میں ڈھل کر ہی آپ اصلیت تک پہنچ سکتے ہیں یا اس کی پرکھ کر سکتے ہیں۔ کل آپ جن کو شکار کرنے آئے تھے، آج انہی کے ہاتھوں شکار ہو کر جا رہے ہیں۔ یہ طفل تسلیاں چہ معنی دارد؟ آج آپ نہتے شدت پسندوں کو پچاسی ارب ڈالر کا اسلحہ لٹوا کر جا رہے ہیں، اپنے 73 جہاز اور70  حساس نوعیت کی گاڑیاں ناکارہ کرتے ہوئے ان کے لئے چھوڑ رہے ہیں۔ اتنا بڑا اور وسیع انفراسٹرکچر ان کے حوالے کرنا تھا تو بھلے انسانوں کی طرح ایک زیادہ بہتر ڈیل کے ساتھ یہ سب کیا جا سکتا تھا۔ کیا امریکی اہل دانش میں کوئی نہیں جو اس جگ ہنسائی پر آپ سے یہ پوچھے کہ اگر یہی کھسیانی ہنسی ہنسنا تھی تو پھر اتنے بڑے لاؤ لشکر ، اتنے بڑے بحری و فضائی بیڑے تیار کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ اتنی بھاری فورسز کیا آپ لوگوں نے محض نمائشی ڈراموں کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔ وسائل کاہے کیلئے ہوتے ہیں اعلیٰ و برتر انسانی ٹارگٹس کو ممکن بنانے کے لئے۔

بہرحال یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں خود افغانوں کی جو نئی نسل پل کر جوان ہوئی ہے، اس نے انسانی حقوق اور آزادیوں کی جو فضا دیکھی ہے اسے نظریہ جبر کے تحت غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا یا باندھنا شاید اب ممکن نہیں رہے گا۔ خود طالبان ملا عمر والے طالبان بن کر جی سکیں گے نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ موجودہ بدلے ہوئے افغانستان میں طالبان کیلئے اپنے مذہبی فہم کی مطابقت میں حکمرانی ممکن نہ ہو سکے گی اور پھر اس سے بھی بڑھ کر افغانستان کی معیشت پر جو بدترین زد پڑنے والی ہے طالبان کی روایتی سوچ یا اپروچ اس کا سامنا کرنے سے قاصر رہ جائے گی۔ ماقبل آپ سوویت امداد کے سہارے چلتے یا پلتے رہے پھر عرب شیوخ کے ریال پہنچے اور اب ڈالروں کی بھرمار بھی اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ نتیجتاً پیدا ہونے والی عوامی بے چینی کا چیلنج تو درپیش ہوگا۔ جنگجو ہونا بلاشبہ ایک کوالٹی ہے لیکن یہ خصوصیت یا خوبی گڈ گورننس یا عوامی مسائل اور دکھوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اقبال نے کہا تھا ’قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے، اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام‘۔ آپ لوگ بلاشبہ اپنی انتقامی سوچ کے اختتام والے اچھے بیانات جاری فرما رہے ہیں۔ پوری دنیا کو یہ یقین دہانی کروانے کے لئے کوشاں ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک یا قوم کے خلاف استعمال کرنے یا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے مگر آپ کے اپنے لوگوں کی جو تربیت یا ٹریننگ ہے، اس کو سامنے رکھ کر جائزہ لیں تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ خام خیالی کیسے حقیقت کا روپ دھارے گی۔ آپ اپنے سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، سب کے اطمینان کا خیال رکھیں گے، بڑی اچھی بات ہے مگر خدشہ یہ ہے کہ یہ بھی بائیڈن کی طرح خوش آئند لفاظی تو نہیں ہوگی؟ فطرت کی اصلیت کو آخر کتنی دیر جکڑ کر رکھا جا سکتا ہے؟

درویش اپنے اہل وطن سے بھی عرض کرنا چاہتا ہے کہ آپ لوگ کس برتےپر اتنی والہانہ خوشیاں منا رہے ہیں؟ ناچیز کو ہمیشہ سے ملال رہا ہے کہ اس نے پاکستان بنتے نہیں دیکھا لیکن آج افغانستان میں امارت اسلامی کی شکل میں جو اسلامی انقلاب آیا ہے، اس کی بہت سی مماثلتیں پارٹیشن کے اس اتنے بڑے واقعہ سے ملتی ہیں۔ آج ہماری وزارت عظمیٰ پر براجماں شخص غلامی کی جن زنجیروں کو توڑنے کی نوید سنا رہا ہے، تب بھی کچھ ایسی ہی امیدیں باندھی گئی تھیں جب برطانیہ عظمیٰ کی زنجیریں ٹوٹ رہی تھیں۔ صدشکر کہ آج اس نوع کا انسانی ضیاع اور خون خرابہ نہیں ہوا لیکن اہل وطن کو اس پوائنٹ پر ضرور غور فرما لینا چاہیے کہ وہ اندر خانے جس ٹی ٹی پی کا خوف محسوس کر رہے ہیں، اس آزادی سے پہلے والے غلامی کے دور میں اس شدت پسند گروہ کے ساڑھے سات سو کے قریب شرارتی بچے اپنے امیر فقیر کے ہمراہ قید و بند میں تھے جنہیں سبز سویرا آتے ہی پروانہ آزادی مل گیا ہے۔

رہ گیا بھارت تو اس کے ساتھ چھیڑ خانی سے پہلے ہمارے  طالبانی بھائی سو مرتبہ سوچیں گے لہٰذا جشن آزادی منانے کی بجائے حقائق کو پرکھ کر جیو۔