سید علی گیلانی سخت فوجی محاصرے میں سپردخاک، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو

  • جمعرات 02 / ستمبر / 2021
  • 3640

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بزرگ حریت رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو آج صبح سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں سخت فوجی محاصرے میں سپرد خاک کردیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس نے بتایا ہے کہ قابض حکام نے لوگوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کرکے پورے علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا تاکہ لوگوں کو مرحوم لیڈر کی رہائش گاہ حیدر پورہ پر اکٹھے ہونے سے روکا جا سکے۔ علی گیلانی  گزشتہ شب بھارتی پولیس کی حراست میں وفات پا گئے تھے۔

قابض انتظامیہ نے پورے علاقے میں انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی ہیں۔  سید علی گیلانی اور ان کے اہل خانہ چاہتے تھے کہ ان کی تدفین سرینگر کے مزارِ شہدا قبرستان میں کی جائے تاہم بھارتی قابض انتظامیہ نے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے خوف سے انہیں اس کی اجازت نہیں دی

جنازہ میں بہت کم تعداد میں لوگوں کو شرکت کی اجازت دی گئی۔ ان میں بیشتر اہلخانہ، قریبی رشتہ دار اور ہمسائے شامل تھے۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ سید علی گیلانی کی تدفین جمعرات کی صبح 4 بجکر 45 منٹ پر حیدر پورہ قبرستان میں ان کے رشتہ داروں اور ہمسایوں کی موجودگی میں کی گئی۔

سید علی گیلانی کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی قابض انتظامیہ نے بزرگ حریت رہنما کے جنارے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو روکنے کے لیے پوری وادی کشمیر میں سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ سرینگر اور اس کے نواحی علاقوں کی مساجد سے کیے گئے اعلانات میں لوگوں کو بزرگ حریت رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے گھروں سے نکلنے کے لیے کہا گیا۔

تاہم بھارتی قابض انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے سخت پابندیاں نافذ کر دی تھیں اور اس سلسلے میں مختار احمد وازہ سمیت کئی حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو بھارتی حکام نے حراست میں لے لیا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور مودی حکومت کے مظالم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کریں۔ حریت کانفرنس نے لوگوں سے کہا کہ وہ مقبوضہ علاقے کے کونے کونے میں بزرگ حریت رہنما کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کریں۔

بیرون ملک مقیم کشمیریوں، پاکستانیوں اور امن پسند لوگوں سے بھی دنیا بھر میں سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سید علی گیلانی گزشتہ روز 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق بزرگ حریت رہنما کے اہلخانہ نے بتایا کہ وہ بدھ کی شام انتقال کر گئے۔ کشمیر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علی گیلانی کے انتقال کے بعد بھارتی فوج نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ان کے گھر جانے والے راستوں پر باڑ لگا دی۔ سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کو انتقال کی خبر ملتے ہی تعینات کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔

سید علی گیلانی گزشتہ سال آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ انہیں 2003 میں اس تحریک کا تاحیات چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔ گزشہ ماہ آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کہا تھا کہ 11 سالہ نظربندی کے سید علی گیلانی کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں حریت رہنما علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسلام آباد میں غائبانہ نماز جنازہ میں صدر مملکت عارف علوی، چیئرمین سینیٹ بھی شریک ہوئے، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر نے بھی  شرکت کی۔پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں حریت رہنما علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ میں صدر مملکت عارف علوی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزرا نے شرکت کی۔

آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود اور وزیراعظم عبدالقیوم نیازی بھی غائبانہ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ میرپور آزاد کشمیر میں بھی حریت رہنما سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔منصورہ لاہور میں بھی حریت رہنما علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پشاور کے کینٹ ریلوے اسٹیشن پر سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔