افغان خواتین کام کر سکتی ہیں لیکن انہیں وزارت ملنے کا امکان نہیں

  • جمعہ 03 / ستمبر / 2021
  • 6030

طالبان مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان کی حکومت میں خواتین کو شریعت کے مطابق کام کی اجازت ہو گی لیکن اب طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میں خواتین کو کوئی وزارت نہیں ملے گی۔

خواتین سے متعلق طالبان کے مؤقف پر بین الاقوامی برادری اب بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ دوسری جانب افغان خواتین جو جمہوری حکومتوں میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، وہ بھی تذبذب کا شکار ہیں۔

دیگر خواتین کی طرح افغان فوج میں خدمات انجام دینے والی ہزاروں خواتین اہلکار و افسران فکر مند ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا طالبان انہیں اسی طرح کام کی اجازت دیں گے جس طرح وہ سابق حکومتوں میں کرتی رہی ہیں؟

مزاری امانی افغان فوج میں شامل ان چند خواتین جنرلز میں سے ایک ہیں جو 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک چھوڑ گئی تھیں۔ مزاری امانی ان دنوں فرانس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ان ساتھیوں کے لیے فکر مند ہیں جو اب بھی افغانستان میں ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ملک نہیں چھوڑ سکی تھیں۔

اُن کے بقول فوج میں خدمات انجام دینے والی کئی خواتین ان سے رابطہ کر کے کہتی ہیں کہ طالبان اُن کی تلاش میں ہیں اور وہ راتوں کو ان کے گھروں میں چھاپے مار کر ان کے بارے میں اہلِ خانہ سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔

مزاری امانی نے کہا کہ ان کی ساتھی اہلکار انہیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان سے سوال کرتی ہیں کہ ایسا کب تک چلے گا۔ انہیں اپنی ساتھیوں کی روزانہ اس طرح کی درجنوں فون کالز موصول ہوتی ہیں جو ان سے کہتی ہیں کہ وہ افغان خواتین اہلکاروں کی مدد کریں اور ان کی آواز دنیا کے سامنے اٹھائیں کیوں کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔

طالبان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خواتین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں تاہم طالبان کا اب یہ مؤقف ہے کہ وہ ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل جاری نہیں رکھیں گے اور خواتین کو شریعت کے مطابق کام کرنے کی اجازت دیں گے۔

تاہم طالبان ترجمان نے ایک مرتبہ پھر اپنی اس بات کو دہرایا کہ خواتین کے جامعات میں تعلیم حاصل کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی اور وہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی نئی حکومت میں خواتین کی بطور وزیر تقرری کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن وہ سرکاری محکموں میں شریعت کے مطابق کام کر سکیں گی۔