ملا عبدالغنی برادر نئی افغان حکومت کےسربراہ ہوں گے

  • جمعہ 03 / ستمبر / 2021
  • 5270

اطلاعات ہیں کہ  طالبان رہنما ملاعبدالغنی برادرنئی حکومت کےسربراہ ہوں گے۔عبدالغنی برادر، ملا یعقوب، شیر محمد عباس کو اہم عہدے دیے جائیں گے۔

خبر نیوز ایجنسی کے مطابق افغانستان میں حکومت سازی کیلئےطالبان کی اعلیٰ قیادت کابل پہنچ گئی ہے۔ ملا عبدالغنی برادر کو نئی حکومت کی قیادت سونپی جائے گی، ملا ہیبت اللہ طالبان حکومت کے دینی معاملات کی نگرانی کریں گے۔ طالبان کی نئی حکومت کا اعلان آج متوقع ہے۔  کابل کے صدارتی محل میں تقریب کی تیاریاں جاری ہیں۔ طالبان رہنما احمدللہ متقی نے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات و ثقافت صدارتی محل میں حکومتی معاملات،عہدوں پر مشاورت کر رہی ہے۔

دوسری جانب پنج شیر میں بدامنی کی فضا بدستور قائم ہے۔ طالبان نے مزاحمتی اتحاد کے 34 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے  کہا ہےصوبے کی 11 پوسٹوں پر قبضہ  کرلیا گیاہے۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ پنج شیر کے لیڈر احمد مسعود نے نئی حکومت میں 30 فیصد حصہ مانگ  رہے ہیں۔

اس دوران افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) افغانستان کے لیے اہم ہے، افغان عوام پاکستان کے ساتھ ہیں۔  ہماری جانب سے پاکستان کیلئے کوئی مشکلات نہیں ہوں گی۔پاک افغان یوتھ فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی پالیسی یہ ہے کہ ہمسائے ممالک سے اچھے تعلقات ہوں۔  انہوں نے حکومت پاکستان سے تعاون کی اپیل کی ہے اور پاکستان سے مہاجرین کے مسائل کی جانب توجہ دینے کے لئیے کہا ہے۔

گزشتہ روز اطالوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان کی ترقی کا مستقبل چین کے ہاتھوں میں ہے، چین نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی حامی بھری ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ چین افغانستان کا پڑوسی بلکہ سب سے اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ نیا افغانستان اپنی معیشت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے چین کی مدد لےگا۔ ون بیلٹ ون روڈ خطے سےگزرنے والے سلک روڈ کی بحالی کا سنگ میل ہے۔ افغانستان میں تانبےکے وافر ذخائر ہیں۔ تانبےکے ذخائرکو چینی دوستوں کی مدد سے افغانستان کی ترقی کے لیے استعمال کیاجائےگا، ہم چین کو عالمی منڈی تک رسائی کا پاسپورٹ سمجھتے ہیں۔