سکندر حیات شاید بھول گئے ہوں

آج جب کسی بھی جماعت کا کوئی سیاسی کارکن الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کرے تو اس کی اہلیت صلاحیت اور خدمات دیکھنے کے بجائے سوال کیا جاتا ہے کہ الیکشن کے لیے تمہارے پاس پیسہ کتنا ہے؟

 ٹکٹ کے لیے بورڈ کے سامنے پیش ہونے پر  جمہوریت کے بجائے موروثیت کو سامنے رکھا جاتا ہے ۔ یہ مراحل طے کرنے کے بعد ایک مخصوص ادارے کے خفیہ انٹرویو کی خفیہ رپورٹ خفیہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ سیاست میں اس ادارے  کا کردار تو دن بدن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور سیاست دان بھی ایسے ایسے پیدا ہو رہے ہیں جو ان اداروں کی آشیر باد پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔آزاد کشمیر کی  سیاست میں پیسے کا رواج سکندر حیات خان کے دور میں شروع ہوا۔ آئیے آج آپ کے ساتھ سردار سکندر حیات خان اور راجہ نثار احمد خان کی انتخابی سیاست کے آغاز کی   چند ایسی باتیں شئیر کریں جو ان کو تو شاید یاد بھی نہ ہوں گی۔ لیکن نوجوان قارئین کو یہ اندازہ ضرور ہو گا کہ 1985 کے الیکشن سے پہلے سیاسی حالات اور اصول کیسے تھے اور سیاست کتنی آسان صاف اور شفاف تھی۔ 

 

1978 کی بات ہے۔ پاکستان میں ضیا کے مارشل لاء کو ایک سال بیت گیا تھا۔ ہم نے ابھی صحیح طرح بلوغت کی سیڑھی پر قدم نہیں رکھا تھا۔ سیاست کس بلا کا نام ہے کوئی خبر نہ تھی۔ ہم جو چند ساتھی اور کزنز اکھٹے اٹھتے بیٹھتے تھے ان میں راقم سب سے چھوٹا تھا۔ 1985 سے لے کر آج تک سب سے زیادہ عرصہ  کھوئی رٹہ سے وزیر رہنے والے ہمارے قریبی رشتہ دار راجہ نثار احمد خان اور آج کھوئی رٹہ کے جاگیر دار اعلی تصور کیے جانے والے راجہ اقبال سکندر خان نے مجھے اور میرے دو کزنوں کو کہا کہ سردار سکندر حیات خان کھوئی رٹہ آنا چاہتے ہیں اور ان کے جلسے کے انتظامات کرنے ہیں۔ ان دنوں موبائل تو تھے نہیں جس کی وجہ سے ہم نے پیدل مختلف علاقوں میں جا کر جلسے میں لوگوں کو شرکت کی دعوت دی۔ ہمیں بس یہ کہا گیا کہ سردار صاحب آ رہے ہیں  عزت کا معاملہ ہے۔

ہم ایک نامعلوم عزت  کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو کر سکندر حیات خان کے جلسے کے لیے گھر گھر جا کر لوگوں کو دعوت دینے لگے۔ کوئی ٹینٹ سروس اور گاڑیوں کی لائنیں نہ تھیں ۔ سردار سکندر حیات خان اور دھیر کوٹ کے میجر ایوب خان خاموشی سے کھوئی رٹہ پہنچے۔ کھوئی رٹہ بازار کے وسط میں ایک دکان کا تھڑا سٹیج بنا اور بازار کی سڑک جلسہ گاہ بنی۔  مقررین صرف تین تھے۔ سردار سکندر حیات، راجہ نثار خان اور میجر ایوب۔ راجہ نثار کی میں نے پہلی بار تقریر سنی جس میں انہوں نے کہا کہ بار بار ہم سے قربانی نہ مانگی جائے جس کا مطلب تھا کہ آئندہ موقع ملنے پر انہیں بطور امیدوار رکن اسمبلی ٹکٹ دیا جائے۔  وہاں سے ہم ایک بس پر پھلنی گئے جہاں اندرلہ کٹہرا کی ایک نامور سیاسی شخصیت راجہ امرت اللہ خان نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

میں زندگی میں پہلی بار اس علاقے میں گیا ۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ 26 سال بعد اندرلہ کٹہرا میرا سسرال بنے گا ۔ پھلنی والا جلسہ بھی ایک بازار میں منعقد ہوا۔ شام کو ہم کھوئی رٹہ واپس ائے جہاں سکندر حیات خان کے ساتھ ہم نے جاگیر دار راجہ اقبال سکندر خان کے گھر کھانا اکھٹے کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد راجہ نثار خان مجھے اور میرے دو کزنوں کو ایک کونے پر لے گے۔ انہوں نے کہا سردار سکندر حیات خان کے دورے پر کچھ اخراجات آئے ہیں اور ہم بھی اپنا شئیر ڈالیں۔  میں تو پریشان ہو گیا کیونکہ میں تو ابھی ایک طالب علم کی حیثیت سے  کوئی کمائی نہیں کرتا تھا لیکن جو کچھ جیب میں تھا وہ نامعلوم عزت کی نذر کر دیا۔ آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ یہ عزت برادری کی ناک تھی۔  ہم ابھی عمر کے اس حصے میں نہیں پہنچے تھے جہاں سیاست کو سنجیدگی سے لیا جاتاہے۔ لیکن برادری کی ناک کی بات میں مجھے اس وقت بھی تضاد محسوس ہوا کیونکہ سردار سکندر حیات خان ایک طرف مسلم کانفرنس کو تمام برادریوں کا گلدستہ قرار دیتے تھے تو دوسری طرف مسلم کانفرنس کے بجائے برادری کو اپنی پروجیکشن کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ۔

میرا خیال تھا کہ مسلم کانفرنس اگر تمام برادری کا گلدستہ ہے تو پھر وہ خود اپنی قیادت کو پروموٹ کرے۔  چند ماہ بعد میں ہالینڈ اپنے بھائی کے پاس چلا گیا۔ ٹھیک پانچ سال بعد سردار سکندر حیات خان  کا اور میرا آمنا سامنا برطانیہ کے شہر لوٹن میں منعقد ہونے والے ایک جلسہ گاہ میں ہوا۔ جلسے کی صدارت ہمارے پڑوسی مرزا ولایت حسین جرال جبکہ نظامت کے فرائض آزاد کشمیر اسمبلی میں بیرون ملک کشمیریوں کے پہلے نمائندے راجہ منشی خان کر رہے تھے۔  میں اس وقت لبریشن فرنٹ میں شامل ہو چکا تھا۔ بطور مہمان خصوصی سردار سکندر حیات نے اعلان کروایا کہ جو کوئی سوال کرنا چائے وہ ابھی لکھ کر انہیں دے دے۔ میں نے بھی تحریک آزادی کے حوالے سے ایک سوال لکھ کر دیا مگر میرے سوال سے پہلے ہی جلسہ اس وقت ہنگامے کا شکار ہو گیا جب راجہ منشی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ برطانیہ کی کشمیری کمیونٹی میں کچھ غداروں نے جنم لے لیا ہے جن کو روکنے کے لیے برطانیہ میں مسلم کانفرنس کی شاخ کا قیام ضروری ہے۔ 

ہال میں بیٹھے لبریشن فرنٹ کے نوجوانوں نے احتجاج کیا۔ پولیس آئی اور جلسہ گاہ سے سکندر حیات سمیت لوگوں کو باہر نکال دیا۔  میں جب واپس ایسکٹ روڈ لوٹن پہنچا تو یوں لگا جیسے میں نے کوئی میزائل گرایا۔ وہاں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے کھانا رکھا گیا تھا۔ میں نے بھی پلیٹ اٹھا کر کھانا لیا تو ناراض لوگوں نے مجھے گھیر لیا۔ کہنے لگے اتنا بڑا جرم کر کے بلا خوف و خطر کھانا کھانے آ گئے ہو۔ پوچھا میں نے کیا کیا ہے؟ جواباً کہا گیا سکندر حیات جیسے بڑے آدمی سے آپ نے کیسے سوال کر دیا۔  تب پہلی بار مجھے اندازہ ہوا کہ مسلم کانفرنس کی کوکھ سے کیسے لوگ جنم لیتے ہیں۔ میں نے مسلم کانفرنس کے بزرگوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ جناب ہنگامہ میرے سوال کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کے اپنے سٹیج سیکرٹری راجہ منشی خان کے اشتعال انگیز بیان کی وجہ سے ہوا۔ دوسرا لیڈر سے سوال کرنا کوئی جرم نہیں مگر سارے راجپوت پروفیسر راجہ ظفر خان اور مجھے مورد الزام ٹھہرا رہے تھے کیونکہ اس وقت لبریشن فرنٹ کی ٹیم میں صرف ہم دو راجپوت وہاں موجود تھے۔ 

سکندر حیات نے اس واقع کو اس حد تک اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا کہ وطن واپس آ کر جگہ جگہ برادری کے سرکردہ لوگوں کو کہا کہ قیوم قبیلے کو تقسیم کرے گا، اسے روکو۔ ایک سال بعد میں بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں گرفتار ہو گیا۔ اس دوران سردار سکندر حیات خان اور سردار عبدالقیوم خان کا میرے ساتھ رویہ انتہائی منتقمانہ رہا۔ 22 سال بعد بری ہو کر آیا تو انہوں نے سوچا میں الیکشن لڑوں گا جس سے مسلم کانفرنس کو نقصان ہو گا۔ میں نے خیر الیکشن نہیں لڑنا تھا لیکن  مسلم کانفرنس کو انہوں نے خود موروثیت کی نذر کر دیا جس کے خلاف راجپوت قبیلے کے اندر سے ایسی بغاوت ہوئی کہ مسلم کانفرنس کا نام و نشان مٹ گیا۔ راجپوت برادری کی آس ٹوٹ پھوٹ پر جاٹ اور گجر قبیلے کے سیاسی پنڈت شاداں نظر آتے ہیں۔ لیکن انہیں خوش ہونے کے بجائے راجپوت کے خلاف راجپوت کی بغاوت سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔  اگر جاٹ اور گجر قبیلوں کے اندر بھی جمہوریت کے بجائے موروثیت کی جنگ لڑی گئی تو ان کی آنے والی باشعور نسل بھی ایک دن بغاوت کرے گی۔

برادری ازم اور قبیلہ پروری کے درمیان فرق کرتے ہوئے یہاں تمام باشعور لوگوں کو جمہوریت کو فروغ دینا چاہیے۔  پرانے سیاسی پنڈتوں کو دوسری جس چیز نے نقصان پہنچایا ہے وہ ریاستی تشخص کا سودا ہے۔ اقتدار کی خاطر انہوں نے غیر ریاستی سیاست امپورٹ کر کے تحریک آزادی کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے خلاف بھی دن بدن بغاوت زور پکڑ رہی ہے۔  وقت ہے کہ تمام سیاستدان اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور سب سے پہلے سیاست میں میرٹ بحال کرتے ہوئے ہر ایک کو خدمات کے بل بوتے پر پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کا حق دیں۔ 

آج سے چند سال قبل کسی نے نہ سوچا ہو گا  کہ مسلم کانفرنس سردار عتیق تک محدود ہو جائے گی۔  کریلوی خاندان کا ہر امیدوار شکست سے دو چار ہو گا۔ ملک نواز کو اپنا قبیلہ گھر بھیج دے گا، راجہ نثار خان اور اقبال سکندر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے اور نثار انصر ابدالی اور رفیق نئیر ایک حلقے سے دو نشستیں لے کر گھر آئیں گے۔  اگر یہ ممکن ہے تو کچھ بھی ممکن ہے۔