خدشات کے باعث امریکا نے پاکستان سے دوری اختیار نہیں کی: خفیہ دستاویزات

  • ہفتہ 04 / ستمبر / 2021
  • 6780

امریکا میں منظر عام پر آنے والی خفیہ سرکاری دستاویزات کے مطابق چین کے ہاتھوں پاکستان جیسی جوہری طاقت کا یرغمال ہونا اور طالبان پر اثر و رسوخ ختم ہونے کے خدشات کی وجہ سے امریکا نے پاکستان سے مزید دوری اختیار نہیں کی۔

 امریکی دارالحکومت کی خبریں دینے والے خبررساں ادارے 'پولیٹیکو' نے حال ہی میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین پیغامات کے تبادلے کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ خاموشی سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے تناظر میں داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں پر کنٹرول کرنے میں تعاون کرے۔

پیغامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن، پاکستان کو ایک ایسی قوم کے طور پر دیکھتا ہے جو افغان طالبان سے روابط رکھتی ہے اور جس کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک بھی ہے اس لیے امریکی حکام، چین کے اثر و رسوخ کی وجہ سے، پاکستان کے ساتھ قطع تعلق نہیں چاہتے۔

پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور پاکستان کے مابین پیغامات کے تبادلے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں حکومتیں آئندہ نپے تلے راستے پر نہیں چلیں گی۔ لیک ہونے والی دستاویزات میں امریکی سفارت خانے، اسلام آباد کے پیغامات شامل ہیں جن میں واشنگٹن کو بتایا گیا کہ وہ ’افغان مہاجرین کے بحران سے تنگ آرہے ہیں‘ اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے رہنمائی چاہتے ہیں۔

28 تاریخ کے ایک کیبل پیغام کو بھی پولیٹیکو نے حاصل کیا جس میں ’فوری رہنمائی کے لیے درخواست‘ کی گئی تھی کہ ’پاکستان میں افغانیوں کی مدد کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی درخواستوں‘ سے کیسے نمٹا جائے۔ خیال رہے کہ اس طرح کے معاملات میں سفارت خانے، اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یا شراکت دار این جی اوز کو اپنی پریشانی سے آگاہ کرتے ہیں۔

سفارت خانے کے عہدیداروں نے عندیہ دیا کہ مزید افغانی، پاکستان میں داخل ہوں گے تو حالات مشکل تر ہو جائیں گے۔ دو دن بعد 30 اگست کو امریکی سفارتخانے نے عملے کا نوٹس جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ وہ ’افغانستان، پاکستان کے مسائل کے لیے ٹاسک فورس‘ تشکیل دے رہا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ یونٹ کا مقصد ’پناہ گزینوں، انخلا اور افغانستان سے متعلقہ مسائل‘ پر مشن کے ردعمل کی قیادت اور ہم آہنگی کرنا تھا۔