برطانوی وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- ہفتہ 04 / ستمبر / 2021
- 6660
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، افغانستان کی موجودہ صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فریقین دفاع، تربیت اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کے راستوں کی تلاش جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوششوں کے لیے پرعزم ہے اور ایک جامع حکومت کی حمایت کرتا ہے۔
دونوں نے خطے میں امن و سلامتی کی کوششیں اور کووڈ 19 کے خلاف جنگ سمیت دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار بشمول انخلا کے کامیاب آپریشن، علاقائی استحکام کو سراہا اور ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔
خیال رہے کہ ڈومینک راب جمعرات کو پاکستان پہنچے تھے جہاں نور خان ایئربیس پر اترنے کے بعد ان کا وزارت خارجہ اور برطانوی ہائی کمیشن کے حکام نے استقبال کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ جمعہ کے روز دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم طالبان کو ایک حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تاہم ہم ان کے ساتھ براہ راست رابطے کو اہم سمجھتے ہیں۔
ڈومینک راب اور شاہ محمود قریشی نے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا تھا۔ دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مضبوط دوطرفہ تعلقات خاص طور پر معاشی اور تجارتی شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہیے۔
شاہ محمود قریشی نے برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کو سفر کے لیے ریڈ لسٹ میں رکھنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، جس کے تحت پاکستان سے آنے والے لوگوں کے لیے برطانیہ میں ہوٹل میں قرنطینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
بعد ازاں ڈومینک راب نے وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مضبوط بنانے، امن کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے اور بڑے پیمانے پر ہجرت کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی بحران کی روک تھام اور معیشت کو مستحکم کرنا فوری ضروریات ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہو، مثبت مشغولیت اختیار کرے اور پرامن، مستحکم اور جامع سیاست کو یقینی بنانے کی ترغیب دے۔