آئی ایس آئی کے سربراہ کابل پہنچ گئے
- ہفتہ 04 / ستمبر / 2021
- 6990
پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے ہیں۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے پاکستان کے کسی اعلیٰ عہدے دار کا یہ پہلا دورہِ کابل ہے۔
کابل کے سرینا ہوٹل میں کچھ غیر ملکی صحافیوں نے پاکستان کے انٹیلیجنس چیف سے اس دورے کے بارے میں سوال کیا۔ جنرل فیض حمید نے ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس معاملے پر بات چیت کے لیے کابل آئے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران وہ طالبان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کابل میں پاکستانی سفیر اور ان کی ٹیم کے ہمراہ طالبان قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جن میں غیر ملکی شہریوں، بین الاقوامی و عالمی اداروں کے عملے کے پاکستان کے ذریعے انخلا اور ٹرانزٹ کے معاملات زیر غور آئیں گے۔
پاک افغان انٹرنیشنل بارڈر مینجمنٹ، افغانستان اور خطے کے امن کے دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کیلئے سیکورٹی کی مجموعی صورتحال پر بھی بات ہوگی۔
اس دوران کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات طالبان جنگجوؤں کی جانب سے کی گئی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 17 ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ طلوع نیوز نے کابل کے ایمرجنسی ہسپتال کے حوالے سے بتایا ہے کہ 17 لاشوں اور 41 زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا جو گزشتہ رات کی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔
گزشتہ رات فائرنگ کی اطلاعات کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے جنگجوؤں کو ہوائی فائرنگ سے گریز کرنے کو کہا تھا۔ ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ کے بجائے خدا کا شکر ادا کریں۔
ہتھیار اور گولہ بارود آپ کے ہاتھ میں ہے، کسی کو ان کو ضائع کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ گولیاں عام شہریوں کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے بلا ضرورت گولی نہ چلائیں۔
پنجشیر وادی میں ہزاروں طالبان جنگجوؤں کی مزاحمتی اتحاد سے مزید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ طالبان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وادی پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ مزاحمتی اتحاد نے اس کی تردید کی ہے امریکہ کے بعد اب یورپی یونین اور برطانیہ نے کہا ہے۔
کابل میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین اور چند صحافیوں کی جانب سے دوسرے روز ہونے والا مظاہرہ پُرتشدد صورت اختیار کر گیا۔ طلوع نیوز کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب طالبان فورسز نے انہیں صدارتی محل کی جانب جانے سے روکا۔ مظاہرین کے مطابق طالبان نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔