بلاول بھٹو کی ملتان میں آمد پر ایک رومان پسند کی خود کلامی
- تحریر ڈاکٹر انوار احمد
- ہفتہ 04 / ستمبر / 2021
- 7310
بلاول بھٹو دوسری تیسری مرتبہ ملتان آ رہے ہیں، انہیں احساس ہوگا کہ 1970میں ملتان کا ایک حلقہ ایسا تھا جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے رہتک، حصار کے قریشی مہاجرین کے ایک لیڈر مولانا حامد علی خان کو اور انصاری برادری کے لیڈر بابو فیروز الدین انصاری کو شکست دی۔
اور پھر اسی حلقے میں ضمنی انتخاب لڑکر قومی اسمبلی کے سپیکر بننے والے صاحبزادہ فاروق علی نے کم و بیش اسی تناسب سے یہ انتخاب جیتا مگر 1977 کے جن انتخابات کو دھاندلی کا الیکشن کہا جاتا ہے، اس میں ملتان کی دونوں نشستوں سے پیپلز پارٹی یہ انتخاب ہار گئی۔ چنانچہ پی این اے کی تحریک کا مرکز ملتان بن گیا۔ تاریخی اور تنقیدی شعور رکھنے والے پارٹی قائدین نے اس کا تجزیہ ضرور کیا ہو گا۔ تاہم اس تحریک کو ہوا دینے والے ملکی اور غیر ملکی عوامل کا مقابلہ جیل میں بیٹھے ہوئے بھٹو نے کیا۔ وہ صاحب مطالعہ تھے، پاکستان کے نہتے اور غیر منظم عوام میں مقبول تھے، وہ بے شک بحرانوں کو پیدا کرتے تھے اور ان میں سے نکل جانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ اس لئے تضادات کو ابھار کر پارٹی کے اندر، ملک کے اندر، عالم اسلام میں، تیسری دنیا میں بڑی طاقتوں کی باہمی کشا کش کو تیز کرکے راستہ بنانا جانتے تھے مگر اس مرتبہ دسمبر 71 کی ہزیمت، حمود الرحمن کمیشن کی تحقیقات کی آئینہ برداری اور شملہ مذاکرات کے نتیجے میں ’فاتح‘ کی قید سے چھڑائے جانے والے قیدیوں کی ’احسان مندی‘ کو اتار پھینکنے کی خواہش، سندھ یا لاڑکانہ کے بیٹے سے عناد رکھنے والی عدلیہ اور 1973 کے آئین کے تحت قائم ہونے والی اسمبلیوں اور ان سے باہر رہ جانے والے ’سیاست دانوں‘ کی متواتر شکست سے زچ ہوجانے کے بعد بھٹو سے جان چھڑانے کی آرزو مندی نے مل جل کر نئے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی چالاکی اور سفاکی کو’مشیت ایزدی‘ بنا دیا تھا۔
پھر بھی موت کی کال کوٹھڑی سے اس کا لکھا ایک ایک پرزہ، ایک ایک سطر کسی نہ کسی طرح سے ہم ایسوں کے پاس جیلوں، کوڑوں اور بے روزگاری کا سامنا کرنے والے طالب علموں، استادوں اور صحافیوں کے ذریعے پہنچ رہا تھا، تا آنکہ بھٹو کو سزائے موت دینے والی سپریم کورٹ نے بھٹو کو تین دن اپنی اپیل میں بولنے کا موقع دیا اور تاریخ میں ایک باوقار کردار بننے کے آرزو مند بھٹو کے اس تاریخی خطاب کی اپنی قاتل جیوری سے خطاب کرنے والے سقراط کی تقریر سے مماثلت سے کوئی متعصب ہی انکار کر سکتا ہے۔ مگر ہم سرائیکیوں کے دل بھٹو نے موہ لئے جب انہوں نے اس خطاب کا اختتام سرائیکی زبان کے اس مصرع پر کیا:
درداں دی ماری دلڑی علیل اے (ایک افسانہ اسی عنوان سے میں نے لکھا جو سنسر شپ کے سبب کئی فقروں اور لفظوں سے محروم شائع ہوا)
پھر ضیا الحق، اسٹیبلشمنٹ، امریکہ اور ملا کے اتحاد نے پاکستانیوں کے صرف گیارہ برس نہیں آنے والے کئی برس بھی بے ثمر کر دیے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے کوشش کی کہ اس عوام دشمن یا جمہوریت کش قوتوں کی کچھ شرائط کو قبول کر کے آئین پاکستان کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے عوام کے ساتھ رشتے کو جوڑنے کی کوشش کی، پارلیمنٹ کو قابل اعتبار بنانے کی کوشش کی، اس میں ان کی کردار کشی کی گئی۔ دو مرتبہ ان کی حکومت برطرف کی گئی۔ پہلی مرتبہ جب ان کی حکومت برطرف ہوئی تو ملتان میں ان کی صدارت میں دو سیمینار ہوئے۔ دونوں مرتبہ میں نے دو دو صفحات کے مضامین پیش کئے۔ ایک میں تو میں نے تلخی سے کہا ’بی بی آپ قید و بند، جلاوطنی اور تذلیل و تشدد کا سامنا کرنے والے کارکنوں سے کہتی ہیں کہ حقائق کا ادراک کریں، عملیت پسند ہو جائیں مگر بی بی عوام آپ کو اپنے رومان میں ماروی سمجھتے ہیں جو عمر بادشاہ کے محل میں جا کر بھی اپنے لوگوں کو نہیں بھولیں۔ جنہوں نے آپ کو لیاری کی میلی کچیلی خواتین کو گلے ملتا دیکھا ہے، وہ اس رومان کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر آپ کے بعض ساتھی جس طرح عملیت پسندی کی دھن میں بھٹو کے فکری ورثے کو برباد کر رہے ہیں اور مادی وسائل جمع کر رہے ہیں، ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں پیپلز پارٹی کا ووٹر اپنی قیادت کے بارے میں رومانوی تصورات سے دست بردار ہو کر پھر سے بے تعلق ہو جائے’۔
مگر ہم بی بی کے حوصلے کی داد دیتے ہیں کہ انہوں نے پیپلز کلچرل فورم کے حیدر عباس گردیزی مرحوم کے گھر اور الطاف علی کھوکھر جیسے پارٹی کے قابل فخر کی موجودگی میں ہمارے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مکالمے کو جاری رکھا۔ مجھے اندازہ ہے کہ لمبی تقریریں اور تحریریں ہم جیسے کچھ لوگوں کا کیتھارسس تو کر سکتی ہیں مگر قائدین کی عملی ذہانت اپنے لئے جو راہ متعین کر لیتی ہے، وہ اس پر عمل پیرا ہو کر شریک اقتدار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم اپنے روایتی رومان سے مغلوب ہو کر آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ ملتان شہر میں مختلف اخبارات سے جن صحافیوں کو بے روزگار کیا گیا ہے اور ابھی کل ہی ملتان کے ایک باشعور اور روشن خیال صاحب قلم رضی الدین رضی کو جس طرح اے پی پی کے سرکاری ادارے نے بے روزگار کیا ہے، اس کی کم از کم مذمت تو آپ کریں گے۔
اسی طرح پارٹی کے اندر موقع پرستوں اور غیر نظریاتی لوگوں کی واپسی یا شمولت کے سلسلے میں احتیاط سے کام لیں گے۔ سرائیکی خطے کو جب بھی موقع ملا اس نے پارٹی کے لئے ویسی سرگرم تائید فراہم کی جیسے سندھ سے آپ کو ملی مگر یہاں کے نوجوانوں کی بے روزگاری اور اس علاقے میں زرعی شعبے کی مشکلات کو پارٹی پروگرام میں جب جگہ دیں تو سی پیک کے ساتھ منسلک صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمی کے منصوبوں کو اس خطے کے لوگوں کا مقدر بنائیں۔
میں یہاں میر کامران مگسی کے والد علامہ رحمت اللہ طارق مرحوم کی ان خدمات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کی عورت ہونے کے ناطے بعض مذہبی قوتوں کا علمی محاذ پر مقابلہ کیا۔ یہی نہیں اسلامی سوشلزم کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا۔ اس لئے ایسے نوجوان سے کلچرل فورم پر خطے کے بڑے شاعروں اور دانش وروں ڈاکٹر اشو لال، رفعت عباس، عاشق بزدار، قمر رضا شہزاد اور رضی الدین رضی جیسے قلم کاروں کی مشاورت کو اہمیت دیں گے۔ کامران مگسی کے پیش رو حیدر عباس گردیزی کی حال ہی میں وفات ہوئی ہے، امید ہے کہ آپ ان کی بیوہ اور بیٹیوں سے تعزیت کے لئے وقت نکالیں گے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)