اب اپنی فکر کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے!

ہمارے ایک دوست کا  خیال  ہے کہ ہم افغانستان سے امریکہ کی واپسی  پر  اُتنے خوش نہیں جتنا  ہونا چاہئے۔  ہمارے دوست شمس الحق کچھ ہمیں  قائل کرنے  اور کچھ  چِڑانے کی غرض سے مختلف ویڈیو کلپس شئیر کرتے رہتے ہیں۔

ایک ویڈیو میں  ایک خستہ کمرے میں  میلی  کچیلی چادر  کے نیچے امریکی ڈالرز کا ڈھیر  مال  غنیمت پڑا  ہے۔ ایک اور ویڈیو میں  افغان فوج سے چھینی ہوئی جیپوں پر بیٹھے مجاہدین امریکی اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے شہر  میں فاتحانہ چکر لگا  رہے ہیں۔ تازہ ترین  کلپس امریکہ کے آخری فوجی کے جہاز پر  چڑھنے اور کابل ائیر پورٹ پر   باقی ہیلی کاپٹرز اور سامان کی تباہی کے مناظر پر  مبنی ہیں۔ ہم نے اپنے دوست شمس الحق کو  ان کی ہر ویڈیو یلغار کے بعد یقین دلایا کہ ہم نہ  صرف  طالبان کی کامیابی پر خوش ہیں، بلکہ ان  کے لئے دعا گو  بھی ہیں کہ اب شروع ہونے والا معرکہ ان کے لئے گیم چینجر ہو گا۔ مگر وہ ہماری  اس معصوم دعا کو  طالبان کی صلاحیتوں  پر شک اور  ہمارے کمزور ایمان کا اظہار سمجھتے ہیں۔ 

شمس الحق جیسے ہمارے بہت  سے دوست  افغانستان  سے امریکہ کی واپسی اور طالبان کی کامیابی کے ذکر  سے آگے کسی اور ذکر کو  غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں  خالی ہاتھ  صرف   جذبے کی بنیاد  پر   اگر ناممکن  کو  ممکن  بنا دیا  گیا ہے تو آگے بھی  سب ٹھیک ہو گا۔ طالبان تبدیل ہو چکے ہیں جناب، آپ کو اندازہ ہی نہیں،  اکثر سننے کو ملتا ہے۔۔ آپ نے دیکھا  اربوں  ڈالرز کا  جدید ٹیکنالوجی  کا  اسلحہ اور سازو سامان ان کے ہاتھ لگا ہے،  ایسے جیسے امریکہ نے انہیں تحفہ دیا ہو۔ آپ فکر نہ کریں،  ابھی آپ ایسے بہت کرشمے دیکھیں گے۔ آپ نے پریس کانفرنس نہیں سنی،  اس قدر  نپے تلے لہجے اور تول تول کر بولے گئے الفاظ پر ان کے دشمن بھی حیران ہیں،  مان لیں کہ طالبان  نے ڈپلومیسی  سیکھ لی ہے جناب۔

ہمیں یقین ہے کہ طالبان  آئندہ چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ دنیا انہیں دیکھ رہی ہے، ان کے بہی خواہ ان کی حکومتی کامیابی کے لئے بھی بہت بے چین ہیں۔  امریکہ اور اس کے  اتحادیوں کے انخلا کے بعد افغانستان  کی حکومت اور اس کے  عوام کو روزمرہ کے مسائل، وسائل اور انتظامی  چیلنجز کا سامنا کرنے پڑے گا تو امریکہ کے آخری فوجی  کی تصویر  فقط   ایک ریکارڈ  کے طور  پر رہ  جائے گی،  مہنگائی، کرنسی کی گرتی ویلیو،  روزگار،  بینکوں کے باہر لگی قطاریں اور  امن و امان  جیسے مسائل  اس یاد  پر غالب  آجائیں گے، یہاں سے  ایک نئے  دور کی ابتدا ہو گی۔ ظاہر ہے  جن کے یہ مسائل ہیں وہی  ان سے نمٹیں گے۔

 پاکستان  کو افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں،  اپنے  رول اور کابل سے انخلا کے دوران  اپنے عمدہ کردار  پر ضرور فخر کرنا چاہئے۔ مگر ایک انگریزی محاورے کے مطابق

  Now, let's get down to the work 

یعنی اب  کام  پر توجہ دو کے مصداق پاکستانی عوام اور ریاست کو  اب اپنے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران  دہشت گردی کے   درجن بھر  واقعات ہو چکے ہیں، کئی جانیں  قربان ہو گئیں۔ کابل میں ہونے والے  خوفناک دھماکے کے  بعد سے داعش کی موجودگی ایک حقیقت  کی صورت میں سامنے ہے۔ اسی طرح ٹی ٹی پی  کی موجودگی بھی اپنی جگہ   قائم  ہے۔  نئی حکومت بننے کے بعد  ہی اندازہ ہوسکے گا کہ پاکستان میں پائی جانے والی  خوش گمانی  پوری ہو سکے گی  یا نہیں کہ افغانستان کی زمین پاکستان دشمن کاروائیوں کیلئے  استعمال نہیں ہوگی۔

پاکستان  دہشت گردی کی کسی بھی نئی لہر  کا متحمل نہیں ہوسکتا، پرانے زخم ابھی تک رِس رہے ہیں، نئے زخموں کی تاب  کہاں۔  ملک کی معیشت پچھلے تین سال ہچکولے کھانے کے بعد بظاہر کچھ مستحکم  ہو ئی ہے مگر یہ استحکام بھی ریت پر لکھا ہوا ہے۔ روپے  کی قدر ڈالر کے مقابلے میں اپریل مئی میں 152 /153 روپے ہوئی تو بار بار باور کروایا گیا کہ ٹریڈ اکاؤنٹ سرپلس ہے، خزانے  میں خوشحالی ہے، اسی لئے روپے کی قدر بڑھ رہی ہے۔ اب اگست ستمبر میں یہی شرح مبادلہ 166/167 ہوئی ہے تو  بتایا جا رہا ہے کہ امپورٹ  زیادہ ہوئی ہے،  اب کی بار ٹر  ٹریڈ  خسارہ بڑھنے کو یہ معنی پہنائے جا رہے ہیں کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے مشینری کی درآمدات  اور صنعتی خام   مال کی درآمدات  میں اضافہ ہوا ہے جوخوش آئند ہے، یعنی  جنابِ شیخ کا قدم یوں  بھی اور  یوں بھی والا معاملہ ہے۔

پاکستان  کا   آئی ایم ایف پروگرام  فی الحال معطل ہے۔ اکتوبر میں  آئی ایم ایف کے بورڈ کا جائزہ اجلاس   شیڈول ہے۔ کوووڈ کی وجہ سے آئی ایم ایف نے بجلی گیس وغیرہ کے ٹیرف  بڑھانے پر  مزید زور نہیں دیا مگر پروگرام بحالی کے بعد ٹیرف بڑھانے کا معاملہ سرِ فہرست ہو نے کا امکان ہے۔مہنگائی ایک بار پھر سے  زور پکڑ رہی ہے،   فیٹف  کی تلوار بھی مسلسل لٹک رہی  ہے۔ تین سال مکمل ہونے  پر حکومت اب آہستہ آہستہ الیکشن  مزاج  ہو رہی ہے۔ایک جانب  اپوزیشن مسلسل نشانے پر ہے،  ورکنگ ریلیشن اور باہمی اعتماد  موجود نہیں۔  دوسری  جانب سوشل  پروٹیکشن کے نام پر احساس پروگرام، کسان کارڈ، صحت کارڈ سمیت کئی پروگرام اربوں روپے کے جاری ہیں۔ 

حکومتی  آمدن تو جاری اخراجات کے لئے ناکافی ہے، ان پروگراموں کے لئے  وسائل قرضوں کی  صورت میں فراہم ہو رہے ہیں۔  زرِ مبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے اور پچھلے  قرضوں   کی ادائیگی کے لئے نئے قرضوں کے سلسلے نے قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔  اصلاحات کا ڈول جن کے ذمے تھے،  وہ استعفیٰ دے کر گھر سدھار گئے ہیں۔ ایف بی آر کو ایک بار پھر نیا چئیرمین  دینا پڑا۔  سرکلر ڈیٹ  اور سرکاری اداروں کا خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 

حکومت کے ترجیحی اقدامات کے ساتھ ساتھ معیشت کی بہتری اور سفید پوشی رکھنے کے لئے آئی ایم ایف کی بھی  ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کی رضامندی کے لئے امریکہ سے دوستانہ تعلقات ضروری ہیں۔  افغانیوں کی افغان جانیں، پاکستانیوں کے مسائل کا پہاڑ  پاکستان کو ہی ہٹانا پڑے گا۔  ہمیں  ہمسایہ ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کی خوشی ہے مگراب اپنی فکر کرنے کا بھی  وقت ہوا چاہتا ہے۔