وادی پنجشیر میں طالبان حملے پسپا کرنے کا دعویٰ
- اتوار 05 / ستمبر / 2021
- 5310
افغانستان کے علاقے پنجشیر میں احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ نے اعلان کیا ہے کہ طالبان کے حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے اور گروپ کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا۔
طالبان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ این آر ایف کے ترجمان فہیم فطرت کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور انہیں مختلف علاقوں سے واپس دھکیل دیا گیا ہے۔ طالبان کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ طالبان نے صوبے میں کچھ پیش رفت کی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے پر زور دیا ہے۔ صوبہ پنجشیر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں طالبان کے دعووں کے باوجود ’قومی مزاحمتی محاذ‘ کے عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ ان کی افواج نے صوبے کا ضلع پریان طالبان سے دوبارہ چھین لیا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبہ پنجشیر کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے سوائے دارالحکومت بازارک اور رخا اضلاع کے۔ دریں اثنا امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ مارک ملی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش اور القاعدہ کے بڑھنے سے ملک کو خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے حالات دہشت گرد گروہوں کے دوبارہ ظہور کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
پنجشیر جنگ میں پیش رفت کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں جب قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان فہیم دشتی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پیران کا علاقہ ’مکمل طور پر طالبان سے پاک‘ ہو گیا ہے۔ دشتی نے دعویٰ کیا کہ جیسے ہی طالبان کا قافلہ واپس آیا۔ ان میں سے کم از کم ایک ہزار کو گھیر لیا گیا اور وہ مقامی لوگوں کی مدد سے مزاحمتی قوتوں کے ہاتھوں پکڑے گئے یا مارے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر ’غیر ملکی اور ان میں سے بیشتر پاکستانی‘ تھے۔
اس سے قبل فہیم دشتی نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے ایک پہاڑ پر دھماکے کی وجہ سے دشتِ ریوت کے علاقے کو گھیر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کا تمام سامان اور گاڑیاں اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
اس دوران افغانستان کی سرکاری فضائی کمپنی اریانا کا کہنا ہے کہ اس نے دارالحکومت کابل اور تین بڑے شہروں کے درمیان اندرون ملک ہروازیں شروع کر دی ہیں۔ یہ اعلان قطر کی طرف سے تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم کی جانب سے کابل ہوائی اڈے کا ایک حصہ کھولنے کے بعد کیا گیا ہے۔
اریانا کے حکام نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کابل، قندهار، مزار شریف اور ہرات کے درمیان پروازیں شروع کی گئی ہیں۔ الجزیرہ نے افغانستان میں قطر کے سفیر کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے لیے امداد کی مد میں قطری تنکنیکی ٹیم کی جانب سے کابل ائیر پورٹ کا ایک حصہ کھول دیا گیا ہے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان کی عوام کی مرضی سے قائم ہونے والی حکومت کی حمایت کرے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کے روز سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو‘ افغان عوام کو اپنی حکومت کا تعین کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔ وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہونی چاہیے جو عوام کی مرضی سے منتخب ہو۔