طالبان کا پنجشیر فتح کرنے کا دعویٰ، مزاحمتی محاذ کے سربراہ کی جنگ بندی کی مشروط پیش کش

  • سوموار 06 / ستمبر / 2021
  • 6560

طالبان مخالف مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود نے پنجشیر میں جاری لڑائی ختم کرنے کی مشروط پیش کش کی ہے۔ تاہم طالبان نے وادی پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کا صوبہ پنجشیر واحد علاقہ ہے جہاں طالبان اور احمد مسعود کی ملیشیا کے درمیان گزشتہ کئی روز سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پنجشیر وادی کو فتح کر لیا گیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری ایک مختصر بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پنجشیر میں رہنے والے ان کے بھائی ہیں اور کسی کو بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

اس سے قبل اتوار کو احمد مسعود نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا تھا کہ طالبان مخالف محاذ اس شرط پر لڑائی روکنے کے لیے تیار ہے کہ اگر طالبان اپنے حملے روک دیں اور پنجشیر سے واپس چلے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ طالبان مخالف محاذ مسائل کے حل کے لیے اپنے اصول پر قائم ہے۔ اس سلسلے میں فوری جنگ کے خاتمے کے بعد بات چیت ہو سکتی ہے۔

احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود طالبان کے خلاف مزاحمت کی قیادت کر رہے ہیں جنہیں اپنی ملیشیا کے علاوہ افغان فوج کے اہلکاروں اور اسپیشل فورس کے کمانڈوز کی خدمات حاصل ہیں۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مزاحمتی محاذ نے اتوار کو ہی تصدیق کی تھی کہ طالبان سے جھڑپ کے دوران ان کے ترجمان فہیم دشتی ہلاک ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ فہیم دشتی احمد شاہ مسعود کے وفادار ساتھیوں میں سے ایک تھے جو نو ستمبر 2001 کو خود کش حملے میں محفوظ رہے تھے۔ البتہ اس حملے میں احمد شاہ مسعود مارے گئے تھے۔ طالبان اور احمد مسعود کی ملیشیا کے درمیان کئی روز سے جاری جھڑپوں کے دوران لڑائی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے بھی کئی دور ہوئے جو بے نتیجہ رہے۔

افغانستان کے بعض ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ مذہبی رہنماؤں نے طالبان کو کہا ہے کہ وہ تصفیے کے لیے مذاکرات کی دعوت کو قبول کریں تاکہ پنجشیر میں لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو۔ احمد مسعود نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے بعد فریقین کے علما کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جا سکتا ہے جس میں مسائل کے حل کے لیے بات چیت ہو سکتی ہے۔

طالبان کی جانب سے فوری طور پر مذہبی رہنماؤں کے بیان پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ طالبان ترجمان بلال کریمی نے اتوار کو دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جنگجوؤں نے پنجشیر کے دارالحکومت بازارک کا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے بڑی تعدار میں ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ پنجشیر پہاڑوں کے درمیان واقع علاقہ ہے جو دشوار گزار راستوں کی وجہ سے ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رہا ہے۔