پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے: ذبیح اللہ مجاہد
- سوموار 06 / ستمبر / 2021
- 4960
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان سمیت دوسرے کسی بھی ملک کے خلاف افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
کابل میں پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے متعدد مرتبہ کابل کا دورہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا اور اب ہم نے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
ٹوئٹر پر ذبیع اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان زیر حراست قیدیوں کے بارے میں پریشان تھا جو سلاخوں کے باہر آکر پاکستان پر حملے کرسکتے ہیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان سمیت دوسرے کسی بھی ملک کے خلاف افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد امید ظاہر کی کہ وہ عالمی برادری سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین ایک بڑی معاشی طاقت ہے اور افغانستان کے لیے بہت اہم ہے جبکہ افغانستان کو تعمیر نو اور ترقی کے لیے اس کے تعاون کی ضرورت ہے۔ طالبان کے ترجمان نے افغانستان میں جرمنی سمیت تمام ممالک کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک سے مشروط تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بغیر شرائط کے تعاون چاہتے ہیں اور اس کے بعد کسی کو بھی افغانستان میں دخل اندازی نہیں کرنے دیں گے۔ جس کسی نے بھی بغیر شرائط کے مدد اور تعاون کرنی ہو تو امارات اسلامی تیار ہے کیونکہ مشروط تعاون اور ملک میں دخل اندازی کے خلاف ہم 20 سال تک لڑتے رہے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کوئی بھی ملک ہو کسی قسم کی مشروط تعاون کی ضرورت نہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی شرط قبول نہیں کرسکتے۔ ترجمان طالبان نے دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور ایک مستحکم افغانستان کی اُمید رکھتے ہیں جبکہ افغانستان میں جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ عوام اور ملک کا دشمن تصور کیا جائے گا۔
کابل ایئر پورٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی تکنیکی ٹیمیں کابل ایئر پورٹ سے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے کام کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برس کے دوراان سیکیورٹی اور دفاعی افواج کے تربیت یافتہ افراد کو سیکیورٹی اور دفاعی اداروں میں طالبان کے ساتھ ساتھ بھرتی کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
وزیر خارجہ سمیت دیگر وزرا نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے لوگ افغانستان کی جیلوں سے آزاد ہو کر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہوسکتے ہیں۔
علاوہ ازیں ذبیح اللہ مجاہد نے عالمی برادری سے کابل میں اپنے سفارتخانے کھولنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو تسلیم کیا جانا اس کا حق ہے۔ جنگ ختم ہو چکی ہے، ملک بحران سے نکل رہا ہے اور اب امن اور تعمیر نو کا وقت ہے۔ ہمیں لوگوں کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ نئی افغان حکومت کا جلد اعلان کیا جائے گا جو مستقبل میں تبدیلیوں کے پیش نظر عبوری ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ حکومت کے اعلان میں تاخیر اختلافات کی وجہ سے ہورہی ہے اور کہا کہ چند تیکنیکی مسائل ہیں، جن کو دور کرے جلد حکومت کا اعلان کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امارات اسلامی بغاوت کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے، جس کسی نے شروع کرنے کی کوشش کی، اس کو نشانہ بنایا جائے اور کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔