ووٹنگ مشینوں پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ڈیڈ لاک برقرار

  • منگل 07 / ستمبر / 2021
  • 4150

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے معاملے پر تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ حکومتی اراکین کا ای وی ایم کے استعمال پر اصرار کرتے ہیں جبکہ اپوزیشن اراکین نے آئیندہ عام انتخابات کے دوران مشین کے استعمال کو مسترد کردیا ہے۔

 پاکستان پیپلز پارٹی کے تاج حیدر کی زیر صدارت کمیٹی کے 3 گھنٹے سے زیادہ طویل اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے ای وی ایم کی افادیت اور حفاظت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز کی سربراہی میں وزارت کی ایک ٹیم ای وی ایم کا عملی مظاہرہ دینے کے لیے تیار تھی لیکن اپوزیشن اراکین نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ای وی ایم کا استعمال انتخابات میں دھاندلی اور بددیانتی کو روک سکتا ہے۔

اپوزیشن اراکین کے ساتھ ای سی پی کے عہدیداروں کا مؤقف تھا کہ ای وی ایم کے استعمال کے حوالے سے کوئی بھی عجلت پر مبنی فیصلہ خامیوں کو دور کیے بغیر ملک میں بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔  

اپوزیشن ارکان نے مشین کے عملی مظاہرے میں شرکت سے صاف انکار کردیا اور کیا کہ حکومت یا ای سی پی آئندہ انتخابات میں اسی مشین کو استعمال کرے گی جبکہ انہیں اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سوال کیا کہ جب ای سی پی پہلے ہی ای وی ایم پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے تو پھر حکومت اس پر کیوں اصرار کر رہی ہے اور کمیشن کے دائرہ کار کی خلاف ورزی کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے مجوزہ قانون نے ای سی پی کو مشینیں خریدنے کی اجازت دی اور جب قانون کے تحت کمیشن ٹینڈر جاری کرے گا، اسے مختلف کمپنیوں سے بولی ملے گی۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایک ہسپانوی کمپنی پہلے ہی پاکستان کو ای وی ایم فراہم کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکی ہے۔