کابل میں افغان خواتین اور نوجوانوں کا احتجاج: پاکستان مخالف نعرے بازی، طالبان کی ہوائی فائرنگ

  • منگل 07 / ستمبر / 2021
  • 9510

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نوجوانوں اور خواتین نے احتجاج کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق سڑکوں پر احتجاج کے دوران افغان خواتین اور نوجوان اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے علاوہ پاکستان مخالف نعرے بازی بھی کر تے رہے۔

احتجاج میں شامل افراد نے ’اللہ اکبر، ہم ایک آزاد ملک چاہتے ہیں، ہمیں پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت نہیں چاہیے، پاکستان افغانستان سے نکلو‘ جیسے نعرے لگائے۔ یہ مظاہرین صدارتی محل کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم طالبان جنگجو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔ طلوع نیوز کے مطابق طالبان نے احتجاج میں شامل صحافیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ۔

طلوع نیوز کے ڈائریکٹر لطف اللہ نجفی زادہ نے ٹویٹ کی کہ میڈیا کے کیمرے ضبط کر لیے گئے ہیں، صحافیوں کو فلم نہ بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے اور کچھ کو روکا جا رہا ہے۔ لیکن مظاہرین نے بندوق کی نوک پر کابل میں مارچ جاری رکھا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ احتجاج کرنے کی آزادی اور احتجاج کے بارے میں خبر دینے کی آزادی  کہاں ہے۔

سوشل میڈیا پر مظاہرے میں شامل چند صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے انھیں روکنے کے لیے مارا پیٹا اور ان کے کیمرے توڑ دیے۔ گزشتہ رات کابل سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں بھی کئی افراد کو ’قومی مزاحمتی محاذ زندہ باد‘ اور پاکستان مخالف نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔

گزشتہ روز احمد مسعود نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی اور افغانستان کے باہر طالبان کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی بھی تعریف کی تھی۔ کابل میں حالیہ دنوں میں کئی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ کچھ افراد نے افغانستان کے پرچم اتارنے کے خلاف احتجاج کیا اور حالیہ دنوں میں خواتین نے بھی مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔

گزشتہ روز صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں خواتین کے ایک گروپ نے اپنے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی تھی۔ مظاہرین نے بلخ کی صوبائی انتظامیہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ طالبان اپنی حکومت میں افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔

ریلی کے شرکا میں سے ایک نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اگرچہ مارچ پرامن تھا، طالبان کے ارکان نے انہیں اور صحافیوں کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔

ماضی میں کابل کی دیواریں مختلف فن پاروں سے سجی ہوتی تھیں لیکن ان دنوں ان دیواروں پر نئے نعرے دیکھے جا رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پر امارات اسلامی کا سفید و سیاہ پرچم اور کچھ پر طالبان رہنماؤں کے پیغامات لکھے گئے ہیں۔ طلوع نیوز کے مطابق طالبان کلچرل کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کے اعلان کے لیے شہر کو نئے نعروں سے سجا رہے ہیں۔

طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب سربراہ احمد اللہ واثق نے طلوع نیوز کو بتایا کہ نئی حکومت کے اعلان کی تیاری کے لیے شہر میں کچھ نعرے اور پلے کارڈز لگائے جائیں گے۔ نئی حکومت کا اعلان کب کیا جائے گا، یہ تو ابھی تک واضح نہیں مگر طالبان کے مطابق نئی حکومت کے اعلان کی تقریب میں غیر ملکی مہمانوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔