مشرف نے طاقتور طبقے کو این آر او دے کر ملک پر سب سے بڑا ظلم کیا: عمران خان
- منگل 07 / ستمبر / 2021
- 3410
وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں قانون کی بالادستی اور حکمرانی کے فقدان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے پہلے آئین توڑا اور پھر طاقتور طبقے کو این آر او دے دیا۔
اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق جنرل پرویز مشرف نے جس طاقتور طبقوں کو این آر او دیا، انہوں نے عوام کے پیسے پر ڈاکا ڈالا تھا اس لیے وہ کیسے یک طرفہ فیصلے کے تحت کسی کو این آر او دے سکتے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی بالا دستی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا ملک ایشیا کے دیگر بیشتر ممالک کے مقابلے میں ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گیا ہے۔ قومیں، قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں۔ 60 کی دہائی میں پاکستان کو دیکھ کر متعدد ممالک نے اپنا نظام بہتر کیا لیکن پھر 80 کی دہائی کے بعد پاکستان ہر میدان میں تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوگیا۔
انہوں نے پاکستان کے لئے ’بنانا ری پبلک‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ملک میں قانون نہیں بلکہ طاقتور طبقے کی حکمرانی ہوتی ہے۔ ہمارا ملک گزشتہ 30 برس میں تیزی سے نیچے گیا اور صورتحال یہ ہے کہ بنگلہ دیش ہم سے کئی شعبوں میں آگے نکل گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں دو قانون فعال ہیں۔ ایک قانون طاقتور اور حکمران طبقے جبکہ دوسرا عام شہریوں کے لیے ہے، یہ مایوس کن صورتحال ہے جہاں انصاف کا نظام دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ماضی کے حکمرانوں کو ملک میں انصاف فراہم کرنے کی فکر ہی نہیں تھی۔ امریکا انٹرنیشنل کورٹ کو اہمیت نہیں دیتا کیونکہ طاقتور ہمیشہ قانون سے اوپر رہنا چاہتا ہے لیکن مہذب معاشرہ انہیں قانون کے دائرہ کار میں لے کر آتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک پر جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ یہ کہ انہوں نے پہلے آئین توڑا اور پھر طاقتور طبقے کو این آر او دے دیا۔ پرویز مشرف نے جس طاقتور طبقوں کو این آر او دیا انہوں نے عوام کے پیسے پر ڈاکا ڈالا تھا اس لیے وہ کیسے کسی کو این آر او دے سکتے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے خلاف ہماری جدوجہد نمایاں رہی، وہ ایک جمہوری کوشش تھی جس میں وکلا نے بھی بہت قربانی دی۔ دراصل وہ جدوجہد قانون کی بالادستی پر مشتمل تھی جس میں ایک آمر کو پیغام دے رہے تھے کہ آپ ایسا نہیں کرسکتے۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ جدوجہد کے نتیجے میں جو ثمرات سامنے آنے چاہیے تھے وہ نہیں آسکے۔ انہوں نے عدلیہ کو مخاطب کرکے یقین دہانی کرائی کہ حکومت انصاف کی فراہمی کے لیے درکار وسائل دینے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔