افغانستان میں عبوری حکومت کا اعلان، ملا حسن اخوند زادہ وزیر اعظم ہوں گے

  • منگل 07 / ستمبر / 2021
  • 4710

افغان طالبان نے اپنی نئی حکومت کا اعلان کر دیا ہے۔ ملا محمد حسن اخوند سربراہ ہوں گے۔ جبکہ ملا عبدلغنی برادر نائب وزیر اعظم ہوں گے۔

افغانستان کی نئی حکومت کا اعلان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نئی اسلامی حکومت کے قائم مقام سربراہ ملا محمد حسن اخوند ہوں گے۔ ملا عبد الغنی برادر قائم مقام نائب وزیراعظم ہوں گے، سراج الدین حقانی قائم مقام وزیر داخلہ ہوں گے۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ مولوی یعقوب مجاہد قائم مقام وزیر دفاع ہوں گے۔ ملا امیر خان متقی قائم مقام وزیر خارجہ ہوں گے۔ قاری دین محمد حنیف قائم مقام وزیر اقتصادی امور ہوں گے۔ ملا فضل اخوند افغانستان کے چیف آف آرمی سٹاف ہوں گے۔ ملا عبد الحق وثیق کو این ڈی ایس سربراہ بنایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو مظاہروں کو کنٹرول کرنے کا تجربہ نہیں، افغانستان میں پاکستان کی مداخلت سے متعلق پروپیگنڈا 20 سال سے چل رہا ہے۔ ہمارے معاملات میں پاکستان سمیت کسی ملک کی مداخلت نہیں ہے، کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ہمارے اقدامات سے پاکستان کو فائدہ ہوا۔ ہم نے اپنی آزادی کے لیے پوری دنیا سے جنگ لڑی ہے، ہم نے طویل جنگ لڑی ہے۔  پنجشیر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آزادی سے متعلق حالیہ مظاہرہ قانونی نہیں، ایسے مظاہرے ہونے لگیں تو قیام امن کو نقصان ہو گا۔ مظاہرے ہوتے رہے تو معاملات خراب ہوں گے۔

قائم مقام وزیر اعظم ملا حسن اخوند   اس وقت طالبان کے طاقتور فیصلہ ساز ادارے رہبری شوریٰ یا لیڈر شپ کونسل کے سربراہ ہیں۔ ان کا تعلق طالبان کی جائے پیدائش قندھار سے ہے اور وہ مسلح تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے رہبری شوریٰ کے سربراہ کی حیثیت سے 20 سال تک کام کیا اور   بہت اچھی شہرت حاصل کی۔ وہ ایک فوجی پس منظر کے بجائے مذہبی رہنما ہیں اور انہین  اپنے کردار اور عقیدت کے لیے جانا جاتا ہے۔ ملا حسن 20 سال تک شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے قریب رہے۔

ملا حسن نے افغانستان میں طالبان کی سابقہ ​​حکومت کے دوران اہم عہدوں پر کام کیا تھا۔ وہ وزیر خارجہ تھے اور پھر نائب وزیر اعظم بنائے گئے جب ملا محمد ربانی اخوند وزیر اعظم تھے۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں طالبان کی جانب سے اگرچہ ایک مکمل ٹیم شامل تھی لیکن فروری 2020 کو قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے پر دستخط ملا عبدالغنی برادر نے کیے تھے اور اس وقت وہ عالمی سطح پر نمایاں طور پر سامنے آئے تھے۔

ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں اور ان کے پاس طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج کا عہدہ بھی ہے۔ملا عبدالغنی برادر، ملا برادر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ملا برادر کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ افغانستان میں انتہائی بااثر سمجھا جاتا ہے اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے افراد سرحد کے دونوں جانب یعنی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پشاور میں بھی آباد ہیں۔ان کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے لیکن وہ کئی سال طالبان کے مرکز کے طور پر مشہور افغان صوبہ قندھار میں مقیم رہ چکے ہیں۔ ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور چلاتے تھے۔

افغان طالبان کے تیسرے نائب امیر سراج الدین حقانی ہیں اور ان کا تعلق ان کے والد جلال الدین حقانی کے حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے۔

افغانستان میں طالبان کی طرف سے اپنی حکومت کے اعلان کے بعد ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کے مشن کے بارے میں پہلے تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کو جلد از جلد ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اور تمام عوام کے لیے چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

افغانستان کی نئی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں ملک کے تمام کاروباری حضرات، سرمایہ کاروں اور ’سمجھ دار افغانوں‘ کی ضرورت ہے جو ملک کو غربت سے نکالنے، معیشت کو مضبوط کرنے، قومی دولت کو محفوظ کرنے اور سرکاری خزانے کو قومی مفاد میں استعمال کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ملک کا اہم حصہ ہے۔ ہم میڈیا کی آزادی، اس کے فنکشن اور اس کے معیار کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہماری نشریات میں اسلامی اصولوں، قومی مفاد اور غیرجانبداری کا خیال رکھا جائے۔

بیان میں افغانستان کے پڑوسیوں، خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے لیے پیغام میں کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کی سکیورٹی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ نئی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ افغانستان کی طرف سے کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ دوسروں سے بھی ایسے رویے کی توقع کرتی ہے۔