افغانستان سے متعلق تمام جائزے اور پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں: وزیر خارجہ

  • بدھ 08 / ستمبر / 2021
  • 4200

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی افغان سیکیورٹی فورسز کی پسپائی اور حکومت کے خاتمے کی صورتحال  کی توقع نہیں کرسکتا تھا۔ تمام گزشتہ جائزے اور پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔

اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ 6 ملکی ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والی پیش رفت نے ہمارے خطے کو عالمی منظر نامے پر اجاگر کیا۔ جس طرح صورتحال تبدیل ہوئی اس کے افغانستان، ہمارے خطے اور دنیا پر بھی اثرات ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا یہ بات اہم ہے کہ بڑے پیمانے پر خونریزی نہیں ہوئی اور طویل تنازعات اور خانہ جنگی کے امکانات ٹل گئے ہیں۔ کم از کم اب تک بہت زیادہ بڑے پیمانے پر مہاجرین کا انخلا نہیں ہورہا تاہم ہر طرح سے صورت حال پیچیدہ ہے۔

پاکستانی وزیہر خارجہ نے کہا کہ البتہ ایک چیز یقینی ہے کہ ہم سب افغانستان میں ایک تبدیل شدہ حقیقت دیکھ رہے ہیں۔ طالبان نے عبوری حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا ہے ہم نے اس پیش رفت کو نوٹ کرلیا ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ سیاسی صورتحال جلد از جلد مستحکم ہو کر معمول کے مطابق ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی صورتحال پرانی عینکیں پھینکنے، نئی بصیرت اور ایک حقیقت پسندانہ اور عملی نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ ہماری کوششوں کا مرکز افغان عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہیے جو 40 برسوں سے تنازعات اور عدم استحکام کے باعث بہت زیادہ متاثر ہوئے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ پیش رفت کے تناظر میں انسانی بحران کو روکنا اہم ہے۔ ملک میں معاشی بدحالی کو روکنا بھی ضروری ہے۔ اگر انسانی بحران کو روکا جائے اور معاشی استحکام کی یقین دہانی کرائی جائے تو امن کا امکان روشن ہوگا۔

 ملک میں نئی سفارتی اور بین الاقوامی موجودگی افغان عوام کو یقین دلائے گی اور اقوامِ متحدہ اور اس کے مختلف اداروں کی جانب سے امداد کی فوری فراہمی اعتماد سازی کے عمل کو تقویت بخشے گی۔

وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ افغانستان کی اس کے مالی وسائل تک رسائی معاشی تباہی کو روکنے اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں اہم ہوگی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سرحدوں کے ساتھ سیکیورٹی کی صورتحال، افغان سرزمین کے دہشت گردوں کے استعمال کی روک تھام، مہاجرین کا ممکنہ انخلا، منشیات اسمگلنگ اور بین الاقوامی جرائم کا خاتمہ، شدت پسند عناصر کی سرکوبی اور عالمی وبا کی روک تھام اہم پہلو ہیں۔

وزیر خارجہ نے پڑوسی ممالک کے پلیٹ فارم کو باقاعدہ مشاورتی طریقہ کار میں تبدیل کرنے کی تجویز دی جس میں افغانستان کو بھی مدعو کیا جائے۔ افغانستان کی اس فورم میں شرکت وہاں پائیدار امن و استحکام کے لیے ضروری قدم ہوگی۔