نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا خطے میں خطرناک ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر اظہار تشویش

  • بدھ 08 / ستمبر / 2021
  • 3710

نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) نے خطے میں تباہی پھیلانے والے خطرناک ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر اپنے ہمسایوں کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام یقینی بنائے گا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق این سی اے کا 25 واں اجلاس وزیر اعظم عمران کی زیر صدارت اسٹریٹجک پلان ڈویژن کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے علاوہ وفاقی وزرائے خارجہ، دفاع، خزانہ اور داخلہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان، ڈی جی انٹر سروسز انٹیلی جینس سمیت این سی اے کے تمام ارکان نے شرکت کی۔

این سی اے کے چیئرمین وزیراعظم ہیں اور یہ جوہری معاملات پر فیصلہ سازی کا اعلیٰ ادارہ ہے۔ این سی اے نے پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کی جامع سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ این سی اے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر جوہری سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات کو بہتر بنانے کی عالمی کوششوں میں بامعنی کردار ادا کرتا رہے گا۔ این سی اے کو خطے میں تنازعات  کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور این سی اے نے روایتی اور اسٹریٹجک شعبوں میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ این سی اے کا مؤقف ہے کہ یہ پیش رفت امن اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے تاہم پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر خطے میں اسٹریٹجک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ کم سے کم ڈیٹرنس کی پالیسی کی روشنی میں مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کو برقرار رکھا جائے گا اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں اضافے پر اظہار اطمینان کیا۔

بیان کے مطابق این سی اے نے اسٹریٹجک فورسز کی تربیت کے اعلیٰ معیار اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور سائنس دانوں اور انجینئروں کی تعریف کی، جن کی بھرپور کوششیں پاکستان کو مطلوبہ اہداف کے کامیاب حصول کے قابل بناچکی ہیں۔

یاد رہے کہ مئی میں وزیراعظم عمران خان نے این سی اے کی تنصیبات کا دورہ کیا تھا جو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد کسی بھی جوہری تنصیب کا ان کا پہلا دورہ تھا۔ دورے میں انہیں پاکستان کے پروگرام کے مختلف شعبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی۔