ایماندار مشینیں، بے ایمان آپریٹر

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سن سنتالیس میں پاکستان کا جغرافیائی حدود اربعہ  درہ   خیبر سے خلیج بنگال تک پھیلا ہوا تھا۔ تب پاکستان کا  دوسرا دارالحکومت  ڈھاکہ تھا جو پاکستان کی طاقت ور ترین فوج  کی چھتر چھاؤں میں ڈوب گیا ۔ اور پاکستان اڑتالیس فی صد رہ گیا کیونکہ اُس وقت مشرقی پاکستان کی  آبادی باون فیصد تھی۔

 پاکستان کی  دوسری قومی زبان  بنگالی تھی  لیکن پھر یہ سب کچھ ایک المیے کی بھینٹ چڑھ گیا  اور  اس طرح ہم آبادی میں نصف سے کم رہ گئے مگر  اللہ کی کھیتیاں زرخیر نکلیں اور ملک خدا داد کے کاشتکاروں نے  وہ میکسی پاک اُگائی کہ ہم خیر سے اب بائیس کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔  اور ہمارے گھروں کی کھیتیاں دن رات آبادی اُگلتی رہتی ہیں۔  لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اب تک یہ دریافت نہیں کر پائے کہ من حیث القوم ہم ہیں کون؟ ہمارے جتنے بھی حکمران آتے ہیں وہ  ملکی نظام کو بہتر بنانے  کی بات کرتے ہیں اور سسٹم کی تبدیلی کیا سندیسہ دیتے ہیں۔  مگر یہ سسٹم ہے کیا؟

 یہ سسٹم ہم آپ ہیں، یہ سسٹم بائیس کروڑ لوگوں  کا طرزِ زندگی ہے، اُن کا آئینی  مقام ۔ اس سلسلے میں قرآن کی واضح  تعلیم موجود ہے۔ سورہ  بقر میں  سبت والوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے ، جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے کی اجازت نہیں۔  مگر اُنہوں نے اس  ضابطے کی پابندی نہیں کی جس کے پاداش میں انہیں بندر بنا دیا گیا۔  اب یہ ضروری نہیں کہ  اُن کی سچ مُچ دُمیں نکل آئی ہوں  اور وہ خوخیانے لگے ہوں ، بلکہ  اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ اپنا انسانی منصب کھو بیٹھے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے یہ سوال بنتا ہے کہ  ہمارے معاشرے میں آج لاقانونیت کا جو طوفانِ بد تمیزی برپا  ہے ،  وہ ایک جنگل کے  جانورستان کا منظر پیش کرتا ہے جہاں کوئی  نہیں جانتا  کہ قانون کیا ہے۔

ہر شخص چھوٹا بڑا، بوڑھا جوان  اسی جانورستان  میں رہتا ہے۔  اور قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔  البتہ قانون اور اُس کی پابندی کی باتیں بہت ہوتی ہیں کیونکہ جہاں جو  چیز موجود نہ ہو اُس کی کمی محسوس تو ہوتی ہے اور  لوگ اُس کی باتیں بہت کرتے ہیں اور جب یہ باتیں  عادت  بن جائیں  تو وہ فطرتِ ثانیہ بن جاتی  ہیں۔ اب یہی ہو رہا ہے کہ ہم عادتاًآئین اور قانون کی باتیں کرتے ہیں  مگر نہیں جانتے کہ  قانون کی پابندی کیا ہوتی ہے  اور وہ اس لیے کہ ہم نے قانون کی پابندی کا سبق پڑھا  ہی نہیں۔ ہم روایتاً ناظرہ خوان لوگ ہیں اور نہیں جانتے کہ جو  وہ پڑھ رہے ہیں اُس کا مطلب کیا ہے۔  مذہب خدا کی باتیں ہیں اور خداا ہی جانتا ہے، ہم لوگ نہیں جانتے۔ اگر جانتے ہوتے تو قانون کی پابندی ہمارا روز مرہ ہوتا۔  ہم جعل سازی کی لعنت سے آزاد ہوتے۔ ہمارے ہاں یونی ورسٹی کی جعلی ڈگریاں سرِ بازار قیمتاً دستیاب نہ ہوتیں۔ جعلی ڈاکٹر اور پروفیسر نہ ہوتے، اسمبلی اور سینینٹ کی نشستیں قیمتاً فروخت نہ  ہوتیں۔  ہم اپنے عملی رویے میں  من حیث القوم نہ صرف  اسلام کے  غدار ہیں بلکہ  نظریہ  پاکستان سے بھی منحرف ہیں۔  اب اس کی چند عملی مثالیں دیکھتے ہیں:

۱۔الصفا  نصف الایمان ۔ لیکن ہمارے  یہاں  یہ طے ہو چکا ہے کہ ہم پچاس فی صد مسلمان ہیں۔ ہمارے شہروں کے کوڑے کے ڈھیر گواہ ہیں کہ ہم آدھے مسلمان ہیں۔  اب یہاں غالب کو بھی کیوں نہ یاد کر لیا جائے۔ وہ ایک گورے میجسٹریت کی عدالت میں کسی مقدمے میں پیش ہوئے تو گورے صاحب نے پوچھا:  ہیلو  مسٹر گالب! تم مسلمان ہے؟ غالب نے جواب دیا پچاس فی صد مسلمان ہوں۔ وہ کیسے؟ میجسٹریٹ نے پوچھا تو غالب نے وضاحت کی کہ میں شراب پی لیتا ہوں مگر سؤر کا گوشت نہیں کھاتا۔  یہی حال ہمارا ہے کہ ہم صفائی کو نصف ایمان تو جانتے ہیں مگر اس نصف ایمان کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔

۲۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے: قولو للناس حسنا ۔۔ لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے بات کرو مگر ہمارے گلی کوچے گالیوں سے گونجتے ہیں، ہمارے ٹاک شو اور پریس کانفرنسیں  بد تمیزی اور بد کلامی کا شاہکار ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام لگانا ہمارا  شیوہ ہے اور  اپنے سوا سب کو مجرم گردانتے ہیں۔ 

۳۔سسٹم کا بدلنے کے بارے میں قرآن کا ایک واضح فارمولا موجود ہے اور وہ یہ ہیے کہ: لا یغیر ما بقومٍ حتیٰ یغیر ما با انفسھم   یعنی کسی قوم میں اُس وقت تک  تبدیلی نہیں آ سکتی، جب تک  اُس کے افراد نہ بدل جائیں۔  اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم  انفرادی طور پر خود کو  تو بدلنا نہیں چاہتے مگر  سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں۔ شاید ہم  زبانی گفتگو کرتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ سسٹم ہمارا ہی  طرزِ زندگی ہے اور ہمارا طرزِ زندگی قانون  کے مطابق  نہیں  ہے اور ہم  انسانی منصب کھو چکے ہیں۔ 

اب ہم نے  ملک میں انتخابی  نظام کو دھاندلی سے پاک کرنے کے لیے برقی  مشینوں کا سہارا لینے کی کوشش کی  ہے  اور ہم لوگوں یہ یقین  دلا رہے ہیں کہ ان مشینوں کی مدد سے اگلے انتخابات  دھاندلی سے پاک ہوں گے مگر یہ نہیں سوچتے کہ مشین آپریٹر اگر دیانتدار نہ ہوں  گے  تو  مشین کیسے  درست نتائج دے گی۔  مجھے اب بھی یاد ہے ستر کے انتخابات ہو رہے تھے۔  میں روزنامہ آزاد میں  نیوز ڈیسک پر کام کرتا تھا۔ ریڈیو پر  بال بہار نامی  پنجابی پروگرام لکھتا تھا۔ پی ٹی وی پر بھی  چہرا دکھاتا تھا۔ پولنگ سٹیشن میرے گھر کے سامنے ریلوے روڈ پر  قائم تھا۔  میں ووٹ دینے پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ میرا ووٹ تو کوئی ڈال گیا ہے ۔ اور میں بھونچکا رہ گیا۔  پولنگ سٹیشن کے باہر کھڑا ہو کر سوچنے لگا کہ کیسا اعلیٰ نظام ہے  جس میں ووٹ ڈالنے کا تکلف نہیں کرنا پڑتا اور فرشتے آسمان سے اُتر کر ووٹ ڈال جاتے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے چوہتر سال میں ملک بنایا نہیں توڑا ہے اور بچے کھچے پاکستان کا حال یہ ہے  جو  غریب کے کچے مکان کا ہوتا ہے جس کی تصویر کشی اردو  کے  ایک شاعر نے کی ہے۔ کہتے ہیں:

دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی

لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

ہماری جمہوریت کے کچے  مکان  کو عدلیہ کے نامراد جج منیر نے  جمہوریت دشمنوں کے ساتھ مل کر گرا دیا دیا اور پھر یہ پاکستان  مختکف اداروں کی گزرگاہ بن گیا۔ استحکام  مفقود ہونے کے سبب  ملکی معاشرہ اپنے ہی دفاعی اداروں کا شکار ہوتا رہا۔  اور اس کا نتیجہ  یہ برآمد ہوا کہ یہ ملک  مافیا طرز کی سیاسی جماعتوں  کا تر نوالہ بن گیا۔ سیاست ایک کاروباری ادارہ بن گئی۔ ملک کی زمین قبضہ گروپوں کے لیے  شطرنج کی بساط بن گئی ۔ ملک  کی ایک چوتھائی آبادی خطِ غربت سے نیچے  مصائب کے دوزخ کا ایندھن بن گئی ۔  بھلا وہ لوگ جن کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہ ہو،  وہ کسی ملک کے شہری ہو سکتے ہیں؟

ہمارا المیہ یہ ہے کہ من حیث القوم ہم ایک نالائق قوم ہیں۔ ہمارے ادارے نالائق ہیں ، ہماری پولیس نالائق ہے جو معاشرے میں  قانون کی پابندی کو یقینی نہیں بنا سکی ،  ہمارے مذہبی ادارے نالائق ہیں  جو ملک کے عوام کی تربیت کر کے اُنہیں  حقیقی معنوں میں مسلمان نہیں بنا سکی۔ ہماریا خاندانی نظام اتنا ناقص ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت نہیں کرسکتے اور اپنے گھروں میں قانون کی دھجیاں اُڑانے والے  نالائق اور  ناہنجار پیدا کرتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ خواتین اور بچوں کے لیے غیر محفوظ بن گیا ہے۔  اور وہ لوگ جن  پر ملک کے داخلی دفاع کی ذمہ داری تھی وہ اپنا فرض نہیں نبھا سکے ۔

 ملک کی داخلی  سالمیت  کا تقاضا ہے کہ ملک کی داخلی سرحدیں  کرپشن،  منی لانڈرنگ لا قانونیت،  عدل فروشی اور مذہب فروشی سے  محفوظ ہوں مگر یہ  چوہتر برس میں ہو نہیں سکا۔ چار مارشل لائیں بھی 

کوئی خاطر خواہ نتیجہ مرتب نہیں کرسکیں اور ہم اب تک  جمہوریت کے کچے مکان میں بیٹھے اپنی بے بسی کا ماتم کر رہے ہیں اور نہ جانے کب تک کرتے رہیں گے۔