طالبان اورامارت اسلامی افغانستان

افغانستان میں طالبان نے اپنی اسلامی حکومت امارت اسلامی افغانستان اور اس کے وزرا کا اعلان کر دیا ہے۔ ماقبل یہ اعلان جمعہ کو متوقع تھا جو نہ ہونے پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں بالخصوص یہ کہا جا رہا تھا کہ اندرونی اختلافات بہت زیادہ ہیں۔

علاوہ ازیں بہت سے لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ طالبان جس نوع کی وسیع البنیاد حکومت لانے جا رہے ہیں اس میں وہ افغانستان میں موجود اثرورسوخ کے حامل تمام گروہوں کو شامل کریں گے تاکہ اس نئی حکومت کو عالمی سطح پر منوانے کیلئے معاونت حاصل ہو جائے۔ لیکن جو لوگ طالبان یا کسی بھی انقلاب کی سائیکی سمجھتے ہیں انہیں اندازہ تھا کہ ایسی کوئی صورت ممکن نہ ہو پائے گی۔ طالبان اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی طویل جدوجہد اور قوت بازو سے یہ اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے تو وہ اپنے علاوہ دیگر دھڑوں، گروہوں یا پارٹیوں کو اقتدار کا حصہ دار کیوں بنائیں۔

حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمت یار یا پنج شیر والے اپنی جگہ جو کچھ بھی تیس مار خاں ہوں گے، طالبان کی نظروں میں ان کی ایسی حیثیت نہیں ہے جنہیں اپنی صفوں میں شامل کرکے وہ نیا فتور یافتنہ پیدا کر لیں۔ آگے چل کر اگر انہیں کسی نوع کی مجبوری نے گھیرا تو وہ اس حوالےسے ضرور سوچ سکتے ہیں، فی الوقت اس عبوری اہتمام میں امیر المومنین ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ نے یہی بہتر خیال کیا ہے کہ اپنے زیادہ سے زیادہ وفادار، ہم خیال اور جدوجہد کامرانی میں صعوبتیں جھیلنے والے علما اور مجاہدین کوہی اقتدار کا حصہ دار بنایا  جائے ۔

امیر المومنین نے تھیوری اینڈ پریکٹس کے تفاوت کو بھی بڑی خوبصورتی سے پیش نظر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر عام خیال یہی تھا کہ ملا عبدالغنی برادر کو وہ سربراہ حکومت (وزیراعظم) مقرر فرمائیں گے کیونکہ انہوں نے پچھلے کئی سالوں سے عالمی سطح پر اپنی جو پہچان کروائی تھی وہ ایک سلجھے ہوئے سیاسی رہنما کی تھی۔ امریکا کے ساتھ قطر میں ہونے والے طویل مذاکرات میں انہوں نے اپنا مقدمہ بڑی مہارت سے لڑا اور اپنی بہت سی سخت شرائط بھی عالمی طاقت سے منوانے میں کامیاب رہے تھے۔ بلاشبہ وہ یہ تمام رول رہبری شوریٰ کی مشاورت سے کر رہےتھے مگر عین موقع پر امیر ا لمومنین ملا ہیبت اللہ کی طرف سے وزارت عظمیٰ کی فال ملا محمد حسن اخوند کے نام کی نکلی جن کا تعلق قندھار سے ہے اور جو طالبان کے چار بانیاں میں سے ایک ہیں۔ ان کی پہچان راسخ العقیدہ عالم دین کی ہے اور یہ رہبری شوریٰ کے انچاج بھی ہیں ۔ نیز اپنے قائد ملا ہیبت اللہ کے زیادہ قریبی اور قابل اعتماد ساتھی خیال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ ملا عبدالغنی برادر ان تمام اوصاف کے ساتھ ایک عملیت پسند رہنما ہیں اور بعض حلقوں کی طرف سے اس نوع کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ وہ امریکیوں کیلئے زیادہ سہل تھے اور انہیں نسبتاً بہتر رعایتیں دے سکتے تھے جس سے طالبان کی راسخ العقیدگی متاثر ہوسکتی تھی۔ لیکن انہیں دور نہیں رکھا گیا ان کی صلاحیتوں، تجربات اور عملیت پسندی کی خصوصیات سے مستفید ہونے کیلئے انہیں ملا حسن اخوند کے ساتھ بطورنائب وزیر اعظم تعینات کیا گیا ہے ۔

اس طرح وزیر خارجہ کیلئے مولوی شیر محمد عباس استنکزئی کا نام لیا جا رہا تھا جنہوں نے دوحا میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا لیکن امیر المومنین نے انہیں بھی نائب وزیر خارجہ کا عہدہ دیا ہے جبکہ وزیر خارجہ ملا امیر خاں متقی کو مقرر کیا گیا ہے جو بوجوہ نظریاتی و فکری طور پر ملا ھیبت اللہ کے زیادہ قریب ہیں۔ کچھ اسی نوع کی مشق وزارت اطلاعات کے حوالے سے بھی دہرائی گئی ہے۔ سراج ا لدین حقانی کو افغانستان کا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ جلال الدین حقانی گروپ کی جو شہرت امریکیوں کی نظروں میں رہی ہے وہ سب پر واضح ہے اس گروپ کی سرگرمیاں کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان پر امریکیوں نے کئی مرتبہ خاصا دباؤ ڈالے رکھا۔ طالبان کیلئے انس حقانی کی خدمات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ سراج حقانی کے سر کا تو غالباً پچاس لاکھ امریکی ڈالروں کا انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ آنے والےدنوں میں امریکی اس سلسلے میں کیا پینترے بدلتے ہیں یہ دلچسپ امر ہو گا۔

اسی طرح طالبان کے پہلے امیر المومنین ملا عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب مجاہد کو نئے افغانستان کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے ۔ ان کی پہچان افغانستان میں ہونے والے تمام ملٹری آپریشنز کی نگرانی کے حوالے سے رہی ہے جبکہ سراج حقانی ٹی ٹی پی سمیت القاعدہ، داعش اور دیگر جہادی گروپوں کی جانکاری کے سلسلے میں وزیرداخلہ کی حیثیت سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں ۔ جس 33رکنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا گیا ہے اس میں تبدیلی و  توسیع کے امکانات واضح ہیں لیکن یہ امر ضرور سب پر کلیر رہنا چاہئے کہ ہمارے لوگوں نے نئے طالبان سے جمہوریت یا وسیع المشربی کے حوالے سے جس نوع کی توقعات وابستہ کررکھی ہیں، نہ صرف یہ کہ وہ پوری نہیں ہوں گی بلکہ آنے والے مہینوں میں انسانی حقوق یا حقوق نسواں کے سلسلے میں بھی عالمی شکایات بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔

درویش کو طالبان، ان کی سوچ اور طرز حکمرانی کے حوالے سے ایک سو ایک اختلافات ہیں لیکن ان کی ایک خوبی کا ضرور اعتراف کرنا پڑے گا۔ یہ کہ وہ دو رخے یا منافق نہیں ہیں جس چیز کو حق سمجھتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا جو بھی فہم اسلام ہے وہ ٹھیٹھ اور خالص ہے، ہمارے جیسا ادھورا و ملاوٹی نہیں ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ وہ نظریاتی طور پر علمائے دیوبند کا ہی فکری تسلسل ہیں اور ان کے راسخ العقیدہ علما اپنی دیوبندی پہچان کو چھپانے کی چنداں کوشش یا ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ حقانی گروپ کا اکوڑہ خٹک سے قریبی تعلق کسے معلوم نہیں ہے۔ اگر آج مولانا سمیع الحق زندہ ہوتے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہے ہوتے۔

سرسید ؒ درویش کے پیرومرشد ہیں اور اسے یہ تسلیم کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہے کہ انہوں نے عصری تقاضوں کو اس قدر اہمیت دی جس میں اصل اور راسخ اسلام کہیں گم ہو کر رہ گیا ۔ آج ہمارے جاوید غامدی صاحب جیسے مہربان اسی تگ ودو میں ہیں اور سچائی تو یہ ہے کہ ہم لوگ اصل اسلام کو بگاڑ رہے ہیں جبکہ طالبان ہوں یا القاعدہ و داعش کے لوگ ان پر ہم لوگ جتنی چاہیں شدت پسندی یا دہشت پسندی کی پھبتیاں کس لیں لیکن وہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل والے اسلام کو ہی حقیقی اسلام سمجھتے ہوئے اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ ان کا استدلال قابل فہم ہے کہ جب قرآن و حدیث فلاں چیز کا واضح حکم فرما رہے ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں اس میں میم میخ نکالنے والے۔

طالبان کے موجودہ امیر المومنین ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی پہچان ایک معروف شیخ الحدیث کی ہے ۔ وہ قوانین سازی میں قرآن و حدیث سے ہٹنے کیلئے کسی بھی صورت آمادہ نہیں  کئے جا سکیں گے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کے بالمقابل قرآن و سنہ کی واضح نصوص پر بھرپور مبحث کئے جا سکتے ہیں۔ ناچیز خود کو طا لبانوں جیسے شدت پسندوں کا سب سے بڑا ناقد ومخالف خیال کرتا ہے لیکن اگر مسلم ورلڈ اسلام سے اس قدر وابستگی و دردمندی رکھتی ہے تو پھر کسی کو برا ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ راسخ اسلام وہی ہے جس پر ہمارے طالبان بھائی عمل پیرا ہیں باقی سب بجھارتیں، مغالطے اور بحثیں ہیں۔ البتہ ہم اپنے طالبانوں سے یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ حضور آج کے دور میں اس حکم پر عمل ممکن نہیں ہے کہ اے ایمان والواسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، لہٰذا حکمرانی کی راہوں میں چلنا سنبھل کے۔