کابل ائیرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز

  • جمعرات 09 / ستمبر / 2021
  • 5900

قطری حکام نے کابل ایئرپورٹ پر منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے اور اب یہ 90 فیصد آپریشنل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر ایئرویز کی ایک پرواز غیرملکی مسافروں کو لے کر جمعرات کو ہی کابل سے روانہ ہو گی۔ خیال رہے کہ امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ کے انخلا پروگرام کے ختم ہونے کے بعد بھی افغانستان میں موجود امریکی شہریوں میں سے 200 کو چارٹر طیارے سے اپنے ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

قطری اور طالبان حکام کا کابل ایئرپورٹ پر کی گئی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ لینڈنگ کے آلات، راڈار اور دیگر آلات مکمل طور پر بحال کر دیے گئے ہیں تاہم ابھی کچھ تکنیکی مسائل ہیں اور اسے 90 فیصد بحالی کہا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر جب صحافیوں نے پوچھا گیا کہ پہلی پرواز پر کون کون ہو گا، تو ان کا کہنا تھا کہ اس پر غیر ملکی، امریکی اور مقامی افراد موجود ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسے ’انخلا‘ نہیں بلکہ ’آزادانہ منتقلی‘ کا نام دینا چاہیے۔

اس دوران ذبیح اللہ مجاہد نے کابینہ سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے اجتناب کیا اور کہا کہ اس وقت صرف ایئرپورٹ سے متعلق سوالات کیے جائیں۔

اس دوران طالبان کی جانب سے پیشگی اجازت کے بغیر مظاہروں پر پابندی کے باوجود افغانستان کے کئی علاقوں میں جمعرات کو ایک بار پھر مظاہرے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کابل میں مظاہرین پاکستانی سفارتخانے کے قریب جمع ہوئے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں منتشر کرنے کے لیے طالبان نے فائرنگ بھی کی۔ کابل میں ہونے والے مظاہرے میں شامل افراد ’ہم آزادی چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

کابل کے علاوہ کپیسا، پروان اور نمروز کے صوبوں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ اعماج نیوز کے مطابق پروان میں بھی طالبان کی جانب سے ایک مظاہرے کے شرکا پر گولی چلائی گئی ہے۔ اس مظاہرے کے شرکا ’ہماری آواز کوئی نہیں دبا سکتا‘ اور ’پاکستان مردہ باد‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

اس سے قبل بدھ کو بدخشاں میں درجنوں خواتین نے ملک کی عبوری حکومت میں ایک بھی خاتون کو شامل نہ کیے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ طالبان کے وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ مظاہروں پر پابندی کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ان کی آڑ میں سکیورٹی کو ناکام بنانے، شہریوں کو نقصان پہنچانے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جب پہلی پریس کانفرنس کی اور اس میں انتہائی تحمل کے ساتھ صحافیوں کے والوں کے جواب دیے، تو ایک لمحے کو محسوس ہوا کہ شاید ماضی کے برعکس طالبان کے زیر اثر افغانستان میں اب صحافی بلاخوف اور آزادی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سر انجام دے سکیں گے۔ لیکن صحافیوں پر تشدد کے تازہ ترین واقعات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے اور کابل سمیت افغانستان کے کئی علاقوں میں گزشتہ کچھ روز سے جاری احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر تشدد نے طالبان کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

 اب کچھ ایسی بھی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں طالبان کے تشدد کا نشانہ بننے والے افغان صحافیوں کو اپنے پاؤں پر بمشکل چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وہ افغان صحافی ہیں جو ملک کے مختلف شہروں میں جاری مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔

افغان خبر رساں ادارے ’اطلاعات روز‘ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اس کے پانچ صحافیوں کو حراست میں لیا گیا اور ان میں سے دو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ’اطلاعات روز‘ کے ایڈیٹر ذکی دریابی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان دو صحافیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں، جنہیں طالبان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ طالبان نے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے کے لیے وزارت انصاف سے اجازت لینا ہو گی جس کے بعد سکیورٹی سروسز کو احتجاج کے وقت اور جگہ کے بارے میں معلومات دینا ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ بینرز اور نعروں کی تفصیلات بھی بتانا ہوں گی۔

دوسری جانب یورو نیوز کی نامہ نگار اینیلیس بورخیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک افغان ساتھی بدھ کے روز جب طالبان سے ایک احتجاج کی کوریج کی اجازت لینے گئے تو انہیں تین گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔

اینیلیس بورخیز نے بتایا: ’میرے صحافی ساتھی کو منہ پر کئی تھپڑ مارے گئے۔ وہ حواس باختہ ہو گئے۔ ان کے فون اور بٹوے کو ضبط کر لیا گیا۔‘

بی بی بی نے ایک ایسے افغان صحافی سے بھی بات کی ہے جنہیں منگل کے روز کابل میں ایک احتجاج کی کوریج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’طالبان نے بہت سے مظاہرین اور صحافیوں کو حراست میں لیا۔ انہوں نے میرا فون، مائیک اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔ انہوں نے مجھے بار بار اپنے ہاتھوں اور کتابوں سے مارا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں صحافی ہوں لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی۔ میں نے انہیں کچھ لوگوں کو بندوقوں سے مار پیٹ کرتے بھی دیکھا۔ انہوں نے میری ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’میرے فون کے ڈسپلے پر ایک مرد اور عورت کی ایک دوسرے کو گلے لگاتے تصویر تھی۔ اس سے طالبان کمانڈر کو بہت غصہ آیا اور اس نے زور سے فون میرے منہ پر مارا۔‘